امور حج کا اہتمام اور حجاج کے لیے سہولیات فراہم کرنا
علی محمد الصلابیاسلام کے ابتدائی دور میں گورنر اپنے اپنے صوبہ میں حج کے متعلقہ امور کے ذمہ دار ہوتے تھے، حجاج کو سہولیات فراہم کرنا، اور ان کے سفر حج کو پرامن بنانا ان کے فرائض میں شامل تھا، چنانچہ گورنر ہی حج کے قافلوں کے امراء کی تعیین و تقرری فرماتے، سفر کے اوقات وہی متعین کرتے، ان کی اجازت کے بغیر قافلے روانہ نہیں ہو سکتے تھے۔ بعض امراء اور گورنروں نے صرف امور حج کی ترتیب و تنظیم پر بس نہیں کی بلکہ حجاج کے لیے پورے راستہ میں پانی کا انتظام فرمایا، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عامر بن کریزؓ جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گورنروں میں سے ہیں اور بصرہ کے گورنر تھے انہوں نے بصرہ سے مکہ تک کے راستہ میں حجاج کے لیے پانی کا انتظام فرمایا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 192)
فقہائے امت نے یہ واضح کیا ہے کہ حجاج کے لیے سہولیات فراہم کرنا گورنر کے فرائض میں سے ہے۔ امام ماوردی کا کہنا ہے کہ حجاج کے لیے سہولیات فراہم کرنا اور ان کے امور کی تنظیم و ترتیب گورنر کے فرائض منصبی میں داخل ہے، کیوں کہ یہ ان جملہ معونات میں سے ہے جو اس سے متعلق ہیں۔
(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ 33)