Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سنی عورت کا رافضی سے نکاح کرنے کا مسئلہ اور اس کے شیعہ اولاد ترکہ سے محروم ہوں گے


سوال: جو سنیہ عورت رافضی کے ہاں ظہور رفض کے بعد بخوشی خاطر رہ چکی ہوں، پھر رفض یا دوسری شئی کو حیلہ قرار دے کر بغیر طلاق کے علیحدہ ہو جائے اور سنی سے نکاح کر لے تو یہ سنی سے نکاح کرنا شیعہ کے طلاق دینے کے بغیر کیا حکم رکھتا ہے؟ اور سنی کا اولاد اگر شیعہ ہو جائے تو سنی والد کے ترکہ سے "محروم الارث" ہو گی یا نہیں؟

جواب: جس کے نزدیک رافضی کافر ہے وہ فتویٰ اول سے ہی بطلان نکاح کا دیتا ہے، اس میں زوجہ کے اختیار کا کیا اعتبار ہے؟ پس جب چاہے علیحدہ ہو کر عدت گزار کر دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے۔ اور جو رافضی کو فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک یہ امر ہرگز درست نہیں کہ پہلی نکاح صحیح ہو چکی ہے۔ اور سنی کا جو اولاد رافضی ہو گیا تو سنی والد کے ترکہ سے اس کو حصہ نہیں ملے گا۔ (فتاویٰ رشیدیہ: جلد 2 صفحہ 194)