Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صوبہ میں امن و امان فراہم کرنا

  علی محمد الصلابی

صوبہ میں امن و امان کی حفاظت گورنر کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے تھی، اس کی خاطر وہ مختلف کارروائیاں اختیار کرتا تھا، اس سلسلہ میں اہم ترین کارروائی فساق اور معصیت کے مرتکبین پر حدود کا نفاذ تھی۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 71) 

جس سے ان جرائم کا انسداد ہوتا تھا جو لوگوں کی جان و مال کے لیے خطرہ تھے، اور اس کے نتیجہ میں قتل و چوری اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی واردات میں کافی حد تک کمی ہوتی۔ حدود کے نفاذ کی بات صرف انہی باتوں پر منحصر نہ تھی بلکہ دوسروں کے خلاف کہی گئی باتوں پر حد قذف وغیرہ بھی جاری کی جاتی تھیں، جس سے اخلاقی جارحیت سے لوگوں کو امان ملتا، اور ان کی عزت و آبرو محفوظ رہتی۔ ایک دوسرے سے امان کی فراہمی پر بس نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ خلفائے راشدینؓ کے حکم سے گورنر و امراء رعایا کو سانپ بچھو اور کیڑے مکوڑوں سے بھی امان فراہم کرتے تھے، چنانچہ بلاذری کا بیان ہے کہ نصیبین کے گورنر نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا جو شام اور الجزیرہ پر حضرت عثمان غنیؓ کے گورنر تھے: ’’کچھ مسلمانوں کو بچھوئوں نے ڈنک مارے ہیں۔‘‘ تو سیدنا معاویہؓ نے انہیں لکھا کہ کچھ لوگوں کو شہر کے مختلف حصوں پر متعین کریں اور انہیں حکم دیں کہ وہ ہر رات متعین تعداد میں بچھو پکڑ کر حاضر کریں، انہوں نے ایسا ہی کیا، اور وہ بچھو حاضر کرتے پھر آپ انہیں مار ڈالنے کا حکم دیتے۔

(فتوح البلدان: البلاذری: صفحہ 183)