Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فاسق سے نکاح کرنے، اس کے پیچھے نماز پڑھنے اور اس کی عیادت وغیرہ کرنے کا حکم


سوال: اگر کوئی شخص معتقد تعزیوں کا ہو کہ ان سے مرادیں مانگے اور یہ بھی ظاہر کرتا ہو کہ اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ موجود ہوتے ہیں یا قبروں پر چادریں چڑھاتا ہو، اور مدد بزرگوں سے مانگتا ہو یا بدعتی مثل جواز عرس و سویم وغیرہ ہو اور یہ جانتا ہو کہ یہ افعال اچھے ہیں۔ تو ایسے شخص سے عقد جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ یہود و نصاریٰ سے تو جائز ہے تو ان سے کیوں ناجائز ہو؟ یہ بھی تو بہت سی رسمیں شرک و کفر کی ترک کرتے ہیں یا جس مرد و عورت نے سابق میں مراسم شرک و کفر معتقد یا غیر معتقد ہو کر کئے ہوں اور اب تائب ہو گئے ہو تو اُن کو تجدید نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اور ان دونوں قسموں کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟ اور اگر مکروہ ہے تو تنز یہی ہے یا تحریمی؟ بشرط مکروہ تنزیہی یا تحریمی اگر کوئی شخص اعادہ نماز کرے تو اس نے اچھا کیا یا برا کیا؟ اور نماز فجر و عصر کا بھی اعادہ کرے یا نہیں؟ اور ابتدائے سلام کرے یا نہیں؟

اور رسم ہدیہ باہمی جاری رکھے یا نہیں؟ عیادت مریض و شرکت جنازہ کرے یا نہیں؟

مولانا مرحوم رحمۃ اللہ تقوية الایمان میں لکھتے ہیں کہ جو شخص ستاروں وغیرہ کی نحوست و سعادت کا قائل ہو تو اس کی شرکت جنازہ و عیادت نہ کرے، اور جو شخص بدعتی سے دل ملائے اس کا ایمان نہیں ہے۔ لہٰذا عرض ہے کہ اگر ظاہر ان سے ملتا رہے اور اختلاف نہ رکھے اور دل سے بُرا نہ جانے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب: جو شخص ایسے افعال کرتا ہے وہ قطعاً فاسق ہے اور احتمال کفر کا ہے۔ ایسے سے نکاح کرنا دختر مسلمہ کا اس واسطے نا جائز ہے کہ فساق سے رابطہ ضبط رکھنا حرام ہے، اگرچہ نکاح اس سے درست ہو جاوے۔ اور دختر مسلمہ کا نکاح نصرانی سے ہرگز درست نہیں، اور جس عورت مسلمہ کا اگر فاسق فاجر سے نکاح ہو گیا تھا، اگر وہ تائب ہو گیا تو کوئی ضرورت تجدید نکاح کی نہیں، البتہ اگر اس کا کفر ثابت ہو جاوے تو تجدید واجب ہو گی۔

اور جو ایسے شخص ہیں ان کا جب تک کفر ثابت نہ ہو فاسق کہلاتے ہیں اور فاسق کو امام بنانا حرام ہے، اور اس کے پیچھے اگر کوئی نماز پڑھے تو بکراہت تحریم ادا ہو جاتی ہے، اور اگر اس کا ثبوت کفر ہو جائے تو ہرگز نماز نہیں ہوتی۔ اول تو اس کے پیچھے نہ پڑھے اور اگر پڑھ ہی لے تو اعادہ کر لینا اچھا ہے۔ بعض فقہاء کرام کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ عصر اور فجر کے بعد جائز ہے۔ اور ایسے شخصوں سے ابتدائے سلام درست نہیں۔ اور اگر فساد کا اندیشہ ہو تو کر لے، اور عیادت و جنازہ کے لئے بھی وہی حال ہے اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو کرے ورنہ نہیں۔ تقویۃ الایمان کا کلام صحیح ہے۔ (فتاویٰ رشیدیہ: جلد 2 صفحہ 194)