تعزیہ داری اور اس میں خیر خیرات حرام ہے
سوال: ریاست کوالیار میں والی ریاست و سردارانِ ریاست و جملہ حاکماں و افسرانِ ریاست ماہِ محرم میں تعزیہ داری کرتے ہیں اور چالیس روز تک بڑی خیر خیرات کرتے ہیں اور اس سبب سے جملہ مساکین کو بڑی مدد پہنچتی ہے، اور فقیر و فقراء کا گزارہ ہو جاتا ہے اور مسلمان بھی اس شرک میں مبتلا ہیں۔ اگر ان مسلمانوں کو منع کیا جاتا ہے اور وہ لوگ چھوڑ دیتے ہیں تو یقیناً مقام اہلِ ہنود چھوڑ دیں گے اور اگر اہلِ ہنود چھوڑ دیں گے تو یہ خیر خیرات موقوف ہو جائیں گی تو تمام فقراء کا روزمینہ جاتا رہے گا اور ان تمام مساکین کو کمال تکلیف ہو گی۔ اس صورت میں ان کا منع کرنے والا عند اللہ ماجور ہو گا یا نہیں؟
جواب: رزق حلال طریقہ سے حاصل ہونا ضروری ہے اور تلوث معصیت ہر حال حرام ہے۔ پس معرکہ تعزیہ داری گوالیار وغیرہ کا حرام ہے اور ایسی خیر خیرات بھی حرام ہے، کہ یہ خیر خیرات نہیں بلکہ رسم ہے، جو خیرات بھی ہو تو بھی مرکب حرام و حلال سے ہوتا ہے، سو یہ سب معرکہ حرام ہے اور سب حیلہ خرافات غیر مسموع ہے۔ جہاں پر یہ واہیات نہیں ہوتی وہاں کے فقیر بھی بھوکے ہو کر نہیں مر گئے۔
حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ نے اس جیسے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تعزیہ داری و مرثیہ خوانی رسم شیعہ کی ہے اور بدعات قبیحہ سے ہے اور امثال بدعات میں وارد ہے۔ کل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار ممانعت تعزیہ داری اور تعظیم اس کی اس آیت سے مستنبط ہو سکتی ہے اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ (سورۃ الصافات آیت 95، 96)
(فتاویٰ رشیدیہ: جلد 2 صفحہ 367)