نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز، تکفین اور تدفین اور…

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز، تکفین اور تدفین اور اس میں خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم کی شرکت

  فتواجات

صفحہ 2 از 4

”اگر کسی بادشاہ کا انتقال ہوجائے تو جب تک اس کا کوئی جانشین نہ ہوجائے اس وقت تک اس کی تجہیز وتکفین  کا انتظام نہیں کیا جاتا،  ایسے وقت میں تجہیز وتکفین کا مسئلہ اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا جانشینی کا مسئلہ  اہم ہوتا ہے، خیرخواہانِ حکومت کو یہ  فکر ہوتی ہے کہ انتظامِ مملکت میں خلل نہ آئے، غنیم موقع پاکر بے خبری میں حملہ نہ کر بیٹھے، جس میں تمام ملک کی تباہی اور بربادی کا اندیشہ ہے،  بلکہ بسا اوقات بنظرِ مصلحت بادشاہ کی وفات تک کو چھپالیتے ہیں، اور جانشینی کے بعد اس کا اعلان کرتے ہیں، اور شیعہ حکومتوں میں بھی یہی قاعدہ ہے، اور اگر بادشاہ کے انتقال کے بعد سلطنت کے دو امیر ہوجائیں تو وہ سلطنت ضرور تباہ ہوجاتی ہے، ایک سلطنت کا دو امیر ہوجانا موجبِ خرابی اور باعثِ بربادی ہے، اور آپ ﷺ  کی وفات کے بعد منافقین اور کفار کی طرف سے غدر  اور شور و شر کا احتمال واندیشہ تھا، ایسے وقت میں شیرازۂ اسلام کی حفاظت اولین کام تھا،  بایں نظر شیخین (حضرت ابوبکر اور عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے یہ گمان کیا کہ تجہیز وتکفین کوئی مشکل کام نہیں ہے اور اہلِ بیت (گھروالوں) سے متعلق ہے، سب صحابہ کرام کا اس میں شریک ہونا ضروری نہیں ، غلامانِ اہلِ بیت بھی یہ خدمت انجام دے سکتے ہیں ۔۔۔  نیز تمام صحابہ کرام کو یہ معلوم تھا کہ وفات سے  انبیاءِ کرام کےاجسامِ مبارکہ میں کوئی تغیر نہیں آتا، اس لیے تاخیر دفن کا کوئی اندیشہ نہ کیا اور کمال دانش مندی سے  فتنہ اور فساد کا دروازہ بند کردیا اور مسلمانوں کو افتراق سے بچالیا‘‘۔(سیرت مصطفی 3/182، ط: کتب خانہ مظہری)

اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام بھی واپس تشریف لائے، آپ ﷺ کو غسل حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے  حضرت عباس رضی اللہ عنہ، اور ان کے دو صاحبزادے حضرت فضل وحضرت قثم اور حضرت اسامہ وشقران رضی اللہ  عنہم کے تعاون سے دیا۔

ان تمام واقعات سے معلوم ہوتا ہےکہ چاروں خلفاء راشدین اس وقت وہیں موجود تھے، جہاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی وصیت اور اہلِ بیت ہونے کے ناطے  آپ ﷺ کی تجہیز وتکفین میں عملاً مصروف تھے، وہیں  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے جانشین ہونے کے ناطے اس کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے، جیسا کہ ماقبل میں ذکر ہوا کہ آپ ﷺ کی وفات کا اعلان اور اس کے بعد ایک بلیغ خطبہ اور پھر بعد میں پیش آنے والے دیگر امور (تدفین کی جگہ کا انتخاب، قبر اور جنازے کا طریقہ وغیرہ ) سب  آپ کی راہ نمائی ہی سے کیے گیے، جیساکہ ’’البدایہ والنھایہ‘‘ میں ہے :

"قَدْ قَدَّمْنَا أَنَّهُمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ اشْتَغَلُوا بِبَيْعَةِ الصِّدِّيقِ بَقِيَّةَ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَبَعْضَ يَوْمِ الثُّلَاثَاءِ، فَلَمَّا تَمَهَّدَتْ وَتَوَطَّدَتْ وَتَمَّتْ، شَرَعُوا بَعْدَ ذَلِكَ فِي تَجْهِيزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم مُقْتَدِينَ فِي كُلِّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ بِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 280)

اور جب یہ  معاملہ آیا کہ  آپ ﷺ  کی تدفین کہاں کی جائے؟ اور صحابہ کرام اور اہلِ  بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین اس معاملہ میں مضطرب ہوئےتو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی اس کی راہ نمائی کی کہ میں نے آپ ﷺ سے سنا ہے کہ نبی علیہ السلام کا جہاں انتقال ہو، اسی جگہ دفن کیا جائے۔  اور آپ رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق آپ ﷺ  کی وفات والی جگہ ہی آپ کی قبر بنائی گئی ۔

"أَنَّ أَصْحَابَ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم، لم يدروا أين يقبروا النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم؟ حتَّى قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لم يقبرني إلا حيث يموت، فأخَّروا فراشه وحفروا تَحْتَ فِرَاشِهِ صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَهَذَا فِيهِ انْقِطَاعٌ بَيْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ وَبَيْنَ الصِّدِّيقِ فَإِنَّهُ لَمْ يُدْرِكْهُ، لَكِنْ رَوَاهُ الْحَافِظُ أَبُو يَعْلَى: مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عبَّاس وَعَائِشَةَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ. قَالَتْ: اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم يَقُولُ: " لَايُقْبَضُ النَّبيّ إِلَّا فِي أَحَبِّ الْأَمْكِنَةِ إِلَيْهِ" فَقَالَ ادْفِنُوهُ حَيْثُ قُبِضَ. وَهَكَذَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ أَبَى كُرَيْبٍ عَنْ أَبَى مُعَاوِيَةَ عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سمعت من رسول الله شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ، قَالَ: " مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ". ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ. ثُمَّ إِنَّ التِّرمذي ضعَّف الْمُلَيْكِيَّ، ثُمَّ قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، رَوَاهُ ابْنُ عبَّاس عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 287)

صفحہ 2 از 4