نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز، تکفین اور تدفین اور…

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز، تکفین اور تدفین اور اس میں خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم کی شرکت

  فتواجات

صفحہ 3 از 4

اسی طرح اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی مشورہ میں موجود تھے، جیسا کہ جب  یہ معاملہ آیا کہ آپ ﷺ کی قبر  کون سی کھودی جائے، آیا لحد (بغلی قبر) بنائی جائے یا شگاف والی قبر  (جو ہمارے ہاں بنائی جاتی ہے) کھودی جائے؟  تو مہاجرین نے کہا کہ اہلِ مکہ کے طرز پر ’’شق‘‘  تیار کی جائے ، جب کہ انصار نے کہا کہ اہلِ مدینہ کے طریقہ پر ’’لحد ‘‘  تیار کی جائے۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجمع کو خطاب کرکے فرمایا: آپ ﷺ کے قریب  شور نہ کرو، اور آوازیں بلند نہ کرو، جیساکہ آپ کی زندگی میں آپ کے قریب شور نہیں کرسکتے، اس طرح آپ ﷺ کی رحلت کے بعد بھی آپ ﷺ کے قریب شور شرابہ نہ کرو، بلکہ شق اور لحد دونوں قسموں کی قبر تیار کرنے والے کے پاس آدمی  بھیج دو، جو پہلے آجائے وہ قبر تیار کردو۔ چناں چہ  ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے تشریف لےآئے اور آپ ﷺ کی لحد  طرز پر قبر تیار ہوئی ۔

"وَقَالَ ابْنُ مَاجَهْ أَيْضًا: حدثنا عمر بن شبة عن عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ   ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي ابن أبي مليكة عن عائشة.قالت: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ وَالشَّقِّ، حتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ. فَقَالَ عُمَرُ: لَاتَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا -، فَأَرْسَلُوا إِلَى الشقَّاق وَاللَّاحِدِ جَمِيعًا فَجَاءَ اللَّاحِدُ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دفن، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ مَاجَهْ". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 289)

اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ماقبل میں ذکر ہوا کہ وہ وہیں موجود تھے، لیکن سکتہ کے عالم میں آگئے تھے، دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے،  شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کرسکتے تھے۔

پھر آپ ﷺ کی نمازِ جنازہ  آپ ﷺ کی وصیت (کہ تجہیز و تکفین اور قبر کھودنے کے بعد اولاً سب حجرے سے نکل جائیں، پہلے فرشتے نماز ادا کریں گے، پھر اہلِ بیتِ کرام اور پھر دیگر مسلمان) اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کی ہدایت پر (جیسا کہ روایات میں ہے) گروہ در گروہ کرکے پڑھی گئی، ایک جماعت داخل ہوتی وہ نمازِ جنازہ  پڑھ کر نکل جاتی، اس کے بعد دوسری جماعت آتی اور وہ جنازہ پڑھتی۔  چناچہ ایک  روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما  مہاجرین وانصار کی ایک جماعت کے ساتھ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے اور جنازہ نبوی کے سامنے کھڑا ہوکر سلام کیا، اور مہاجرین وانصار نے بھی سلام کیا، پھر   حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آپ کے جنازہ مبارکہ کے سامنے  یہ کہا :

"اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ، وَنَصَحَ لِأُمَّتِهِ، وجاهد في سيبل الله حتَّى أعزَّ الله دِينَهُ وَتَمَّتْ كَلِمَتُهُ، وَأُومِنَ بِهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَاجْعَلْنَا إِلَهَنَا مِمَّنْ يَتَّبِعُ الْقَوْلَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ، وَاجْمَعْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حتَّى تُعَرِّفَهُ بِنَا وَتُعَرِّفَنَا بِهِ، فَإِنَّهُ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رؤوفا رحيماً، لانبتغي بالإيمان به بديلاً، وَلَانَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا أَبَدًا".

” اے اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وہ سب کچھ پہنچادیا جو ان  پر اتارا گیا، اور آپ ﷺ نے امت کی خیر خواہی کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا،  یہاں تک کہ اللہ نے اپنے دین کو غالب کیا، اور اس کا بول بالا ہوا، اور صرف ایک معبود وحدہ لاشریک پر ایمان لایا گیا۔ اے اللہ!  ہم کو ان لوگوں میں سے بنا  جو آپ ﷺ پر نازل کردہ وحی کی اتباع کرتے ہیں، اور ہم کو آپ ﷺ کے ساتھ جمع کر، آپ ہم کو اور ہم آپ کو پہچانیں،  آپ مسلمانوں پر بڑے مہربان تھے،ہم اپنے ایمان کا کوئی معاوضہ اور قیمت نہیں چاہتے “۔

 لوگوں نے آمین کہی، جب مرد نماز جنازہ سے فارغ ہوگئے  تو عورتوں نے،عورتوں کے  بعد بچوں نے اس طرح ادا کیا۔

"قَالَ الْوَاقِدِيُّ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: وَجَدْتُ كِتَابًا بِخَطِّ أَبِي، فِيهِ أَنَّهُ لَمَّا كفِّن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَمَعَهُمَا نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ بِقَدْرِ مَا يَسَعُ الْبَيْتُ.فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبيّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وسلَّم الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ كَمَا سلَّم أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ثُمَّ صُفُّوا صُفُوفًا لَا يَؤُمُّهُمْ أَحَدٌ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - وَهُمَا فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ حِيَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ، وَنَصَحَ لِأُمَّتِهِ، وجاهد في سيبل الله حتَّى أعزَّ الله دِينَهُ وَتَمَّتْ كَلِمَتُهُ، وَأُومِنَ بِهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَاجْعَلْنَا إِلَهَنَا مِمَّنْ يَتَّبِعُ الْقَوْلَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ، وَاجْمَعْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حتَّى تُعَرِّفَهُ بِنَا وَتُعَرِّفَنَا بِهِ، فَإِنَّهُ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رؤوفا رحيماً، لا نبتغي بالإيمان به بديلاً، وَلَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا أَبَدًا. فَيَقُولُ النَّاس: آمِينَ آمِينَ وَيَخْرُجُونَ وَيَدْخُلُ آخَرُونَ حتَّى صَلَّى الرِّجَالُ، ثُمَّ النِّسَاءُ، ثُمَّ الصِّبْيَانُ۔(البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 286)

صفحہ 3 از 4