کیا سنی شیعہ کے اور شیعہ سنی کے وارث ہو سکتے ہیں
سوال: زید مذھب اہلِ سنت و الجماعت فوت ہوا، اور ایک بنت مذہب اہلِ سنت اور ایک عم عصبہ مذہب شیعہ وارث چھوڑی تو صورت مذکورہ میں عم عصبہ وارث یا کل ترکہ بنتِ سنیہ کو پہنچے گا۔ غرض خلاصہ یہ ہے کہ اگر مورث اہلِ سنن سے ہو اور وارث مذہب شیعہ یا اس کے بالعکس ہو تو باہم وارث ہوں گے یا نہیں؟ اور کتاب شریفیہ شرح سراجیہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ سنت و الجماعت اور روافض اور خوارج اور معتزلہ باہم وارث ہوں گے۔
قال وبخلاف أهل الأهواء فانهم معترفون بالانبياء والكتب، ويختلفون في تأويل الكتاب والسنة وذلك لا يوجب اختلاف الملة
اور مولوی عبد الحئی صاحب اس کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:
و تلویح الدفع انهم متفقون في الأصول. كالتوحيد والاقرار بنبوة النبي فما ختلفت لخلهم وان اختلفوا في الفروع
اس عبارت سے واضح ہے کہ اہلِ سنت والجماعت اور شیعہ باہم وارث ہوں گے۔ اور کتاب درِ مختار وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وارث نہ ہوں گے۔ کیونکہ سبِ شیخینؓ کفر ہے، اور جب سبِ شیخین کفر ہے تو اہلِ سنت والجماعت اور شیعہ باہم مختلف ملت ہو گئے۔ اور جب ملت مختلف ہوئی تو باہم وارث بھی نہ ہوں گے۔ اسی واسطے عالمگیری میں ہے کہ اختلاف دین سے مراد اختلاف اسلام اور کفر ہے۔
تو جو مذھب مختار اور صحیح اور مفتی بہ در باب کفر یا عدم کفر روافض اور وارث اور عدم وارث ہونے کے ہو مع روایات فقہہ معتبرہ ارقام فرمائیں م، تاکہ دارین میں اجر عظیم پاویں۔
جواب: قدماء علماء نے بھی کفر شیعہ میں اختلاف کیا ہے۔ بعض اہلِ اہوا جو فاسق لکھتے ہیں اور بعض کافر۔ اور متاخرین جو ان کے اصول و قواعد سے واقف ہوئے تو فتویٰ کفر کا دیتے ہیں۔ بظاہر قدماء کو ان کے اصول پر واقفیت نہیں ہوئی، سو ہمارے ملک کے شیعہ حسبِ قواعد شرعیہ کافر ہیں۔ باہم شیعہ سنی کے توارث نہ ہو گا۔ اور شریفیہ وغیرہ کتب میں جو توارث لکھا ہے، تو بسبب نا واقفیت اصول شیعہ کے لکھا ہے، حق یہ ہے کہ اس وقت اور اس ملک کے شیعہ کافر اور توارث منقطع - ( باقیات فتاویٰ رشیدیہ: صفحہ 595)