سیدنا معاویہ بن ابی سفیان اموی رضی اللہ عنہما
علی محمد الصلابیسیرت نگاروں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی جلیل کے بے شمار فضائل بیان کیے ہیں ان میں سے بعض ملاحظہ فرمائیں:
1۔ قرآن کریم:
غزوۂ حنین سے متعلق ارشاد ربانی ہے:
ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡـكٰفِرِيۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 26)
ترجمہ: پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مؤمنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اللہ نے ان کو سزا دی، اور ایسے کافروں کا یہی بدلہ ہے۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ غزوۂ حنین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہونے والے خوش نصیبوں میں سے ہیں، حضرت معاویہؓ ان اہل ایمان میں سے ہیں جن پر غزوۂ حنین کے دن اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سکینت کا نزول فرمایا۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: خالد الغیث: صفحہ 23)
2۔ حدیث:
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصی دعائیں کی ہیں:
اللّٰهم اجلعہ ہادیا مہدیا واہد بہ
(صحیح سنن الترمذی: الالبانی: جلد 3 صفحہ 236)
’’اے اللہ تو معاویہ کو ہدایت دینے والا، مہدی (ہدایت یاب) بنا، اور اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔‘‘
اللّٰهم علم معاویۃ الکتاب والحساب وقہ العذاب۔
(موارد الظمآن: جلد 7 صفحہ 249) إسنادہ حسن۔ شیخ البانی نے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ دیکھیے: صحیح موارد الظمان: 1936، 2278) (مترجم)
’’اے اللہ تو معاویہ کو کتاب و حساب کا علم عطا فرما اور عذاب سے محفوظ رکھ۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اول جیش من امتی یغزون البحرقد اوجبوا۔
(یعنی انہوں نے ایسا کام ہے جس سے ان کے لیے جنت واجب ہو گئی ہے۔ (فتح الباری: جلد 6 صفحہ 121)
’’میری امت کا پہلا لشکر جو بحری جہاد کرے گا انہوں نے اپنے لیے (جنت کو) واجب کر لیا ہے۔‘‘
ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان میں سے ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا:’’انت فیہم‘‘ (تم انہی میں سے ہو۔)
پھر آپﷺ نے فرمایا:
اول جیش من امتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لہم۔
’’میری امت کا پہلا گروہ جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر حملہ کرے گا وہ سب بخشے ہوئے ہوں گے۔‘‘
ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لا‘‘ نہیں۔
(البخاری: 2924)
امام مہلب (مہلب ابن احمد الاندلسی یہ شارحین بخاری میں سے ہیں، ان کی وفات 435ھ میں ہوئی۔) فرماتے ہیں: اس حدیث میں حضرت امیر معاویہؓ کی منقبت ہے کیوں کہ آپ نے سب سے پہلے سمندری جہاد کیا ہے۔
(فتح الباری: جلد 6 صفحہ 120، اسی طرح امام مہلب رحمۃاللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں آپ کے بیٹے یزید (رحمۃاللہ) کی بھی منقبت ہے کیوں کہ آپ ہی سب سے پہلے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔(مترجم)