Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سنی عورت کا رافضی سے نکاح کرنے کا مسئلہ


سوال: جو سنیہ عورت رافضی کے ہاں ظہور رفض کے بعد بخوشی خاطر رہ چکی ہوں، پھر رفض یا دوسری شئی کو حیلہ قرار دے کر بغیر طلاق کے علیحدہ ہو جائے اور سنی سے نکاح کر لیوے تو یہ سنی سے نکاح کرنا شیعہ کے طلاق دینے کے بغیر کیا حکم رکھتا ہے؟ اور سنی کا اولاد اگر شیعہ ہو جائے تو سنی والد کے ترکہ سے محروم الارث ہو گئی یا نہیں؟

جواب: جس کے نزدیک رافضی کافر ہے وہ فتویٰ اول سے ہی بطلان نکاح کا دیتا ہے، اس میں زوجہ کے اختیار کا کیا اعتبار ہے؟ پس جب چاہے علیحدہ ہو کر عدت گزار کر دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے۔ اور جو رافضی کو فاسق کہتے ہے ان کے نزدیک یہ امر ہرگز درست نہیں کہ پہلی نکاح صحیح ہو چکی ہے۔ اور سنی کا جو اولاد رافضی ہو گیا تو سنی والد کے ترکہ سے اس کو حصہ نہیں ملے گا۔ (تالیفات رشیدیہ: صفحہ 383)