Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بصرہ میں حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی اقتصادی اصلاحات

  علی محمد الصلابی

بصرہ میں متعدد اصلاحات کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عامرؓ کا نام لگا ہوا ہے، جس کی اہمیت آپ کی عسکری کامیابیوں اور کارناموں سے کچھ کم نہیں اور وہ مجوسیوں کے خلاف آپ کی متعدد فتوحات میں نمایاں ہیں۔ آپ نے شکست خوردہ گروہوں کا پیچھا کیا اور یزدگرد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ کی اقتصادی اصلاحات کو بصرہ کے بازار میں خصوصی توجہ کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے آپ نے اپنے مال سے بازار خرید کر بصرہ والوں کو ہبہ کر دیا۔

(الطبقات الکبریٰ: جلد 5 صفحہ 73)

یہ بازار مصر کے بالکل وسط میں واقع تھا۔ آپ کا یہ انتخاب انتہائی بہتر تھا، یہ شہر کے بالکل درمیان میں اہم ترین اقتصادی مرکز قرار پایا، اور شاید بصرہ میں آپ کے اصلاحی اعمال میں نمایاں ترین آب پاشی کا نظام تھا۔ آپ نے اس سلسلہ میں بڑا اہتمام فرمایا۔ ابن قتیبہ نے بیان کیا ہے کہ ابنِ عامرؓ نے بصرہ میں دو نہریں کھدوائیں، 

ایک مشرق میں اور دوسری نہر’’نہر ام عبداللہ‘‘ سے معروف ہے جو حضرت عبداللہ بن عامرؓ کی والدہ کی طرف منسوب ہے۔

(مجلۃ المؤرخ العربی: جلد 21 صفحہ 134) حضرت عبداللہ بن عامرؓ سے متعلق میں نے اسی کتاب پر اعتماد کیا ہے، اور استاذ محمد حمادی سے بھر پور استفادہ کیا ہے۔ جزاہ اللہ خیرا۔) 

حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے زیاد بن ابی سفیان کو نہر ابلہ کھودنے کا حکم فرمایا۔ زیاد، حضرت عبداللہ بن عامرؓ کی طرف سے دیوان اور بیت المال پر مقرر تھے، جب آپ فتوحات کے لیے کہیں روانہ ہوتے تو زیاد ہی آپ کے قائم مقام ہوتے۔

(فتوح البلدان: للبلاذری: صفحہ 351)

خلیفہ ابن خیاطؒ نے بیان کیا ہے کہ زیاد نے نہر ابلہ کی کھدائی کی اور پہاڑی تک پہنچ گئے، اور کھدائی کی ذمہ داری عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے سنبھالی۔

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: جلد 1 صفحہ 142)

جب عبدالرحمٰن نے پانی کھولا تو اپنا گھوڑا دوڑایا، پانی کا دھارا اتنا تیز تھا کہ وہ گھوڑے سے آگے بڑھ رہا تھا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 351)

حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے اسی طرح ایک حوض بھی کھدوایا جو آپؓ کی والدہ کی طرف منسوب ہوا اور بصرہ میں حوض ام عبداللہ بن عامر کے نام سے معروف ہے۔

(مجلۃ المؤرخ العربی: جلد 21 صفحہ 134)

بلاذری نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے ایک نہر جاری کرائی جس کی ذمہ داری اپنے غلام نافذ کو سونپی جو نہر نافذ کے نام سے معروف ہوئی۔

(مجلۃ المؤرخ العربی: جلد 21 صفحہ 134، فتوح البلدان: صفحہ 354)

اسی طرح نہر مرہ بھی آپؓ ہی نے جاری کرائی جس کی کھدائی حضرت ابوبکر صدیقؓ کے غلام مرہ نے کی جو انہی کے نام سے مشہور ہو گئی۔

(مجلۃ المؤرخ العربی: جلد 21 صفحہ 136، فتوح البلدان: صفحہ 354)

اسی طرح نہر اساورہ بھی حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے جاری کرائی۔

(مجلۃ المؤرخ العربی: جلد 21 صفحہ 136)

 بلاذری نے بصرہ میں قنطرۃ قرہ (قرہ پل) کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: یہ قرہ بن حیان باہلی کی طرف منسوب ہے، اس کے پاس قدیم نہر تھی جس کو حضرت عبداللہ بن عامرؓ کی والدہ نے خرید کر بصرہ والوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 353، 354)

گزشتہ بیان سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عامرؓ نہروں کی کھدائی کا اہتمام کرتے تھے مقصد یہ تھا کہ زراعت میں ترقی ہو جو اقتصادی زندگی کا ستون ہے۔ مزید برآں تجارتی شاہراہوں کی مناسبت سے بصرہ کا موقع و محل بھی اہمیت کا حامل تھا، اور مشرق میں اسلامی فتوحات کا مرکز ہونے کی حیثیت سے اس کی اہمیت مسلم تھی۔ حضرت عبداللہ بن عامرؓ کے اصلاحی جذبات کا اندازہ ان کے اس قول سے لگایا جا سکتا ہے:

’’اگر مجھے آزادی دے دی جائے تو خاتون اپنی سواری پر نکلے گی درآں حالے کہ تک اس کو ہر روز پانی کا چشمہ اور بازار راستہ میں ملے گا۔‘‘

(المعارف لابن قتیبۃ: صفحہ 321)

در حقیقت حضرت عبداللہ بن عامرؓ کی ان اصلاحات کی اہمیت مشرق میں آپ کی فتوحات سے کسی طرح کم نہیں۔ بصرہ مشرق میں فتوحات کے لیے خلافت اسلامیہ کا فوجی اڈہ تھا۔ ڈاکٹر صالح العلی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ فتوحات کی وسعت سے بصرہ کی آمدنی میں اضافہ ہوا، اور اقتصادی خوشحالی پھیلی، جس کی وجہ سے تاجر اور کاروباری لوگ اس طرف کشاں کشاں چلے آئے، اور اس طرح بصرہ میں تیزی کے ساتھ مدنیت اور شہری زندگی پھیلی۔

(التنظیمات الاجتماعیۃ والاقتصادیۃ: صفحہ 30، 31)

مشرق میں وسیع پیمانہ پر فتوحات، بصرہ میں اقتصادی و تجارتی نشاط، اور استقرار امن و امان کی وجہ سے امارت بصرہ کی مالی پوزیشن بہت بہتر تھی۔ حضرت عبداللہ بن عامرؓ انتہائی متواضع انسان تھے، ان کا دروازہ سب کے لیے کھلا رہتا تھا، اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے دربان کو سختی کے ساتھ یہ حکم دے رکھا تھا کہ رات ہو یا دن، کبھی دروازہ بند نہ کرے۔

(مجلۃ المؤرخ العربی: عبداللہ بن عامر: محمد حمادی: جلد 21 صفحہ 138)

در حقیقت ابنِ عامرؓ بصرہ میں وسیع شہرت کے مالک تھے۔ ابنِ سعدؒ کا بیان ہے کہ یہ جملہ لوگوں کے زبان زد تھا ’’ابن عامر نے کہا، ابن عامر نے کیا۔‘‘ 

(الطبقات: جلد 5 صفحہ 33)

حضرت عبداللہ بن عامرؓ کے اصلاحی کارناموں اور سیرتِ حمیدہ کے نتیجہ میں لوگ آپ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔

(مجلۃ المؤرخ العربی: جلد 21 صفحہ 138) 

حضرت عبداللہ بن عامرؓ برابر بصرہ کے گورنر رہے یہاں تک کہ شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ کا سانحہ پیش آیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 91)

یہ ہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گورنر حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے ہی بصرہ کی نہر جاری کی، اور سب سے پہلے عرفات کے میدان میں پانی کے حوض لگوائے، اور پانی کا چشمہ وہاں جاری کیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 91) 

اس شخص کی حسنات اور لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے جیسا کہ شیخ الاسلام علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 189، 190)

ان سے متعلق امام ،مؤرخ اسلام ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

’’ابن عامرؓ عرب کے اکابر امراء و بہادروں اور سخی لوگوں میں سے تھے آپ نرمی اور بردباری کے پیکر تھے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 21)