حضرت ولید بن عقبہ الاموی رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیسلسلۂ نسب: ولید بن عقبہ بن ابی معیط بن ابی عمرو بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف القرشی الاموی۔ آپ کی کنیت ابووہب ہے، اموی خانوادہ کے سپوت ہیں، آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 412، 413)
حضرت ولیدؓ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اخیافی (ماں شریک) بھائی ہیں۔
حضرت ولید بن عقبہؓ سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت کے حکمرانوں میں سے ہیں جو باصلاحیت اور امانت دار افراد ہی کو مناصب کے لیے منتخب فرماتے تھے یہ ان کے عہد میں اسلام کے وسیع پیمانہ پر تیزی کے ساتھ پھیلنے کے عظیم ترین اسباب میں سے تھا۔ ان دونوں خلفاء کے نزدیک حضرت ولیدؓ انتہائی قابل اعتماد تھے۔ انہوں نے حضرت ولید بن عقبہؓ کے ذمہ اہم ترین امور کی ذمہ داری سونپی، کیوں کہ انہوں نے حضرت ولیدؓ کے اندر صلاحیت و قابلیت اور صدق ایمان پایا۔
(فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: محمد صالح الغرسی: صفحہ 78)
عہدِ صدیقی میں سب سے پہلے جو صیغہ (محکمہ) حضرت ولید بن عقبہؓ کے سپرد کیا گیا وہ یہ کہ خلیفہ اور سیف اللہ خالد بن ولیدؓ کے درمیان 12ھ میں فارسیوں کے ساتھ معرکہ مذار سے متعلق جو راز دارانہ خط و کتابت ہوئی آپ اس کے ذمہ دار رہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 168)
پھر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حضرت ولیدؓ کو اپنے جرنیل حضرت عیاض بن غنم فہریؓ کی مدد کے لیے روانہ کیا۔
(تاریخ الطبری:جلد 4 صفحہ 194)
13ھ میں قضاعہ کی زکوٰۃ پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے عامل مقرر ہوئے۔ پھر جب حضرت صدیق اکبرؓ نے شام کو فتح کرنے کا عزم کیا اس وقت آپ کے نزدیک حضرت ولیدؓ کا مقام و مرتبہ حرمت و شرف اور اعتماد میں حضرت عمرو بن العاصؓ سے کم نہ تھا، چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ نے عمرو بن العاص اور ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہما کو لکھا اور انہیں لشکر اسلام کی قیادت کی دعوت دی، چنانچہ حضرت عمرو بن العاصؓ لشکر اسلام کو لے کر فلسطین کی طرف روانہ ہوئے، اور حضرت ولید بن عقبہؓ نے اردن کے مشرقی علاقہ کی طرف لشکر اسلام کی قیادت کی۔
(فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 78)
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ 15ھ میں سیدنا عمر بن خطابؓ کی خلافت میں حضرت ولید بن عقبہؓ بنو تغلب اور عرب ’’الجزیرہ‘‘ پر امیر مقرر کیے گئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 28، 29)
حضرت ولید بن عقبہؓ اس امارت میں شام میں مصروفِ جہاد لشکر اسلام کی پشت پناہی کر رہے تھے تاکہ پیچھے سے کوئی ان پر حملہ آور نہ ہو سکے۔ حضرت ولیدؓ نے اپنے اس دور امارت کو غنیمت جانا جب کہ یہ علاقہ نصاریٰ سے بھرا ہوا تھا، آپ نے حربی جہاد اور اداری انتظام و انصرام کو سنبھالنے کے ساتھ دعوتی جہاد جاری رکھا، حکمت و موعظت حسنہ کو بروئے کار لا کر ایاد اور تغلب کے نصاریٰ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔
(فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 78)
اس تابناک ماضی کے ساتھ حضرت ولید بن عقبہؓ نے سیدنا عثمانؓ کی خلافت میں کوفہ کی گورنری سنبھالی، اور عدل و انصاف، رفق و نرمی اور احسان کے میدان میں گورنروں کے درمیان امتیازی پوزیشن کے مالک رہے، سیدنا عثمانؓ کے عہد ولایت میں کوفہ سے اسلامی افواج مشرق میں فتح و ظفر کے ساتھ مصروفِ جہاد رہیں جس کی شہادت اسلامی تاریخ کے عظیم ترین قاضی اور علم و فضل میں یکتا تابعی جلیل امام شعبیؓ نے دی ہے۔
(فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 78)
آپ کی جہادی مہم اور امارت کی تعریف کرتے ہوئے اس وقت فرمایا جب آپ کے سامنے حضرت مسلمہ بن عبدالملک (مسلمہ بن عبدالملک بن مروان فاتحین اسلام میں ایک عظیم جرنیل گزرے ان کی وفات 120ھ میں ہوئی۔)
کی جہادی کارروائیوں کا تذکرہ چھیڑا گیا: ’’اگر تم حضرت ولیدؓ کی امارت اور غزوات کو پاتے تو کیا کہتے! وہ تو جہاد کرتے ہوئے اتنی اتنی دور چلے جاتے تھے، اور حضرت ولید بن عقبہؓ کے لشکر کو کوئی جانی نقصان نہ ہوتا، اور نہ کوئی بد عہدی کرتا، آپ کی یہی کیفیت رہی یہاں تک کہ آپ معزول کر دیے گئے۔‘‘
(التمہید والبیان: صفحہ 40)
لوگ آپ سے بے حد محبت کرتے تھے لوگوں کے نردیک آپ انتہائی محبوب ترین تھے، اور آپ لوگوں کے ساتھ انتہائی نرمی کا برتاؤ کرتے تھے۔ کوفہ پر پانچ سال گورنر رہے لیکن اپنے گھر پر دروازہ نہیں لگایا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 251)
سیدنا عثمان غنیؓ نے حضرت ولید بن عقبہؓ سے متعلق فرمایا: میں نے ولید کو اس لیے گورنر نہیں بنایا ہے کہ وہ میرا بھائی ہے، بلکہ اس لیے اس کو اس منصب کے لیے منتخب کیا ہے کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ام حکیم بیضاء بنت عبدالمطلب کا نواسہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کی توأم تھیں، اور ولایت اجتہادی امر ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسی شخصیت کو معزول کر کے ان سے کم درجہ والے کو اس منصب پر فائز کیا تھا۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 86)
جو بھی اسلام کے اس بطل عظیم اور صحابی جلیل کی سیرت کا مطالعہ کرے گا جو تینوں خلفائے راشدینؓ کے نزدیک معتمد علیہ تھے اس کو اس سلسلہ میں ادنیٰ شک بھی نہیں رہے گا کہ آپ ولایت و امارت کے اہل تھے، بلکہ اسے ان روایات کے ثبوت میں شکوک و شبہات لاحق ہوں گے جو اس آیت کی شانِ نزول میں وارد ہوئیں جس میں آپ کو فاسق کہا گیا ہے، اور اسی طرح شراب نوشی سے متعلق بھی شکوک و شبہات کا شکار ہو گا۔ یہ مسئلہ تحقیق طلب ہے ان دونوں امور سے متعلق تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
(فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 79)
ارشاد الہٰی ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِيۡبُوۡا قَوۡمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِيۡنَ ۞ (سورۃ الحجرات آیت 6)
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔
کیا یہ آیت حضرت ولید بن عقبہؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ اس سلسلہ میں مفسرین نے ایک قصہ بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ولید بن عقبہؓ کو بنو مصطلق کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے روانہ فرمایا۔ بنو مصطلق کے لوگ اسلحہ سے لیس ان کے استقبال کے لیے نکلے یہ سمجھ نہ سکے اور خوفزدہ ہو کر راستہ سے لوٹ آئے، اور آ کر رسول اللہﷺ کو یہ رپورٹ پیش کر دی کہ وہ لوگ مرتد ہو گئے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو ان کی طرف روانہ کیا، اور یہ حکم فرمایا کہ کوئی کارروائی کرنے سے قبل تحقیق کر لیں۔ بنو مصطلق کے لوگوں نے انہیں خبر دی کہ وہ تو اسلام پر قائم ہیں اور ان کے پاس کوئی زکوٰۃ وصول کرنے آیا ہی نہیں۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 176)
اس سلسلہ میں متعدد روایات وارد ہیں لیکن اس قصہ کی کوئی بھی صحیح متصل سند نہیں ہے۔
(المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 176) شانِ نزول کی روایت مسند احمد جلد 4 صفحہ 279 اور طبرانی کبیر (33950) میں ہے، لیکن اس کی سند میں عیسیٰ بن دینار اپنے والد دینار سے روایت کرتے ہیں اور دینار مجہول ہیں۔ ابن حبان کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق نہیں کی ہے، اور ابن حبان مجاہیل کی توثیق میں معروف ہیں۔) (مترجم)
کم از کم اس کی سند ضعیف ضرور ہے، اور لوگوں نے فضائل اعمال میں جہاں تحلیل و تحریم کا مسئلہ نہ ہو ضعیف اسانید کو اگرچہ قبول کیا ہے
(فضائل اعمال میں بھی راجح قول یہی ہے کہ ضعیف روایات مقبول نہیں۔ دیکھیے صحیح الترغیب للالبانی کا مقدمہ۔ (مترجم)
لیکن ہم حضرت ولیدؓ سے متعلق اسے قبول نہیں کر سکتے کیوں کہ اس سے امر حرام کی تحلیل لازم آتی ہے، اور ایک ایسے شخص کو فاسق قرار دیتی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مشرف ہے، اگرچہ یہ صحبت ایک دن ہی کی ہو، صحابی رسول کو فاسق قرار دینا حرام ہے۔ اور یہ آیت کریمہ بذات خود روایات کے قبول کرنے میں تحقیق پر ابھارتی ہے۔ اس آیت کریمہ نے تو علم روایت کی اساس رکھ دی ہے۔
(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 182)
حضرت ولید بن عقبہؓ کی طرف جو قصہ منسوب کیا گیا ہے اس میں صرف وہی صحیح روایات ہی قبول کی جائیں گی جن کی سند و متن دونوں صحیح ہوں، کیوں کہ یہ صحابہ کو فسق سے متصف قرار دیتی ہیں اور یہ ایسا طعن ہے جسے پندرہ صدیوں کے بعد دور حاضر کے عام انسان کے سلسلہ میں بھی قبول کرنے میں تساہل نہیں برتا جا سکتا تو بھلا ایسے شخص سے متعلق جس نے عہد نبویﷺ اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں زندگی گزاری ہو اور اہم ذمہ داریاں اور مناصب اس کو سونپے گئے ہوں اس کے بارے میں اس طرح کی باتوں کی نسبت کیسے تساہل برتا جا سکتا ہے، اور اسے بلا تحقیق و توثیق کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟
شانِ نزول کا یہ قصہ اسلامی تاریخ کے صدر اول کے ایک حصہ کی نمائندگی کر رہا ہے، اور اس قصہ کے اجزاء و حوادث اسلامی عقیدہ سے متعلق ہیں، پس اسلامی تاریخ کے اس پہلو کی روایات کو قبول کرنے میں تساہل نہیں برتا جا سکتا جس طرح کہ شہر تہذیب و تمدن سے متعلق اخبار کو قبول کرنے میں تساہل برتا جاتا ہے۔
حضرت ولید بن عقبہؓ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لانے والے لوگوں میں سے ہیں، لیکن صد افسوس اکثر ان حضرات کے اسلام پر نقد و جرح کی جاتی ہے، بعض مؤرخین اس زعم کا شکار ہیں کہ یہ لوگ مجبوراً اسلام لائے تھے، اسلام ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا تھا، لیکن ان کا یہ زعم بلاشبہ باطل ہے۔
(المدینۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 173)
حضرت ولید بن عقبہؓ سے متعلق روایات میں راویوں نے خوب نمک مرچ لگائے ہیں، اور مذہبی و سیاسی افکار و عصبیتوں نے خوب کھیل کھیلے ہیں، کذب و وضع کی دخل اندازی ہوئی ہے، ادبی عبقریت کے اثبات اور روایات وضع کرنے کی قدرت کے امتحان کے لیے اس قصہ کو گھڑنے والوں کے لیے مقابلہ آرائی کا بہترین میدان ثابت ہوا ہے۔
(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 173)
بنو مصطلق سے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے حضرت ولید بن عقبہؓ کو بھیجنے کے سلسلہ میں جو چیز مانع ہے وہ وہ روایت ہے جو ثقہ راویوں سے اتصال سند کے ساتھ مروی ہے کہ حضرت ولید بن عقبہؓ فتح مکہ کے وقت کم سن تھے، اور اس عمر میں رسول اللہﷺ عامل کی حیثیت سے روانہ نہیں کر سکتے، چنانچہ فیاض بن محمد الرقی، جعفر بن برقان سے اور وہ ثابت بن حجاج الکلابی سے اور وہ عبداللہ ہمدانی (ابو موسیٰ) سے اور وہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے مکہ فتح کیا تو مکہ والوں نے اپنے اپنے بچوں کو رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر کیا، آپﷺ نے سب کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا کی۔ مجھے بھی آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، مجھے زعفرانی خوشبو لگائی گئی تھی، آپﷺ نے میرے سر پر ہاتھ نہ پھیرا، چوں کہ میری والدہ نے مجھے زعفرانی خوشبو لگا دی تھی جس کی وجہ سے آپﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ نہ لگایا۔ یہی خوشبو مانع ہوئی۔
(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 32، ابوداود (4181) شیخ البانی نے اس کو منکر قرار دیا ہے، دیکھیے: ضعیف ابی داؤد: 338) (مترجم)
اس قصہ میں مذہبی عصبیت نے کھیل کھیلا ہے۔ حضرت ولیدؓ اموی عثمانی ہیں اور اس شان نزول میں جس نے حضرت ولیدؓ کا نام گھسیڑا ہے وہ رافضی شیعی محمد بن سائب کلبی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:’’ کوفی شیعوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔‘‘ اور فرماتے ہیں: ’’کوفہ میں دو کذاب پائے جاتے تھے: ایک کلبی، دوسرا سدی۔‘‘
(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 179)
اس قصہ سے ان کا نام جوڑنے کا سبب یہ ہے کہ یہ واقعہ زکوٰۃ کی وصولی سے متعلق ہے، اور حضرت ولیدؓ عہدِ صدیقی میں قضاعہ کی زکوٰۃ کی وصولی کے لیے مقرر تھے، اور دورِ فاروقی میں الجزیرہ میں تغلب کی زکوٰۃ پر آپ کی تقرری ہوئی تھی اور شیعی کتب میں حضرت ولیدؓ کے اس واقعہ کے حوالے سے حضرت عثمان بن عفانؓ پر تنقید کی جاتی ہے۔
(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 180)
ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ یہ آیت بنو مصطلق کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے، بلکہ ہم اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ اس آیت میں فاسق سے مقصود حضرت ولیدؓ ہیں، کیوں کہ آیت میں ’’فاسق‘‘ کا کلمہ نکرہ واقع ہوا ہے جو عموم اور شمولیت پر دلالت کرتا ہے، کیوں کہ شرط کے سیاق میں وارد ہوا ہے، اور جب نکرہ شرط کے سیاق میں وارد ہو تو عموم پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ نفی کے سیاق میں وارد ہونے کی صورت میں دلالت کرتا ہے۔
(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 180)