حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ پر حد خمر
علی محمد الصلابیصحیحین میں وارد ہے کہ گواہوں کی شہادت کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان پر حد جاری کی، لہٰذا یہ واقعہ حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف اعتراضات کا حصہ نہیں بلکہ آپ کے مناقب میں سے ہے، چنانچہ امام بخاری رحمۃاللہ نے اسے مناقب عثمان کے باب میں روایت کیا ہے۔
(البخاری: فضائل الصحابۃ: مناقب عثمان: (3696)
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: تم جو حضرت عثمانؓ پر تنقید کرتے ہو تو تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جو اپنے اوپر وار کرتا ہے تاکہ اپنے معاون کو قتل کر دے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 278)
حضرت عثمان غنیؓ کا اس شخص سے متعلق کیا قصور، آپ نے تو اس کے فعل کی پاداش میں کوڑے لگوائے اور پھر معزول کر دیا۔ حضرت عثمانؓ کا ان امور میں کیا گناہ جو انہوں نے ہمارے بارے میں کیا۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 421)
اور پھر اس طرح کا واقعہ صرف حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں نہیں پیش آیا بلکہ اس سے قبل عہدِ فاروقی میں پیش آچکا تھا، چنانچہ مذکور ہے کہ قدامہ بن مظعونؓ جو شرف صحابیت سے بھی مشرف ہیں، وہ بحرین کے امیر تھے انہوں نے شراب پی لی تو حضرت عمرؓ نے ان پر حد جاری کی اور معزول کر دیا۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 93)
بعض مؤرخین کا بیان ہے کہ حضرت ولیدؓ پر شراب نوشی کا الزام درجہ ثبوت کو نہیں پہنچتا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمۃاللہ ’’الاصابہ‘‘ میں فرماتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ بعض کوفیوں نے ان کے خلاف دشمنی کی وجہ سے نا حق شہادت دے دی۔
(الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 638)
ابنِ خلدونؒ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں: حضرت عثمانؓ کے عمال اور گورنروں کے خلاف فسادیوں کی طرف سے افواہیں پھیلائی جاتی رہیں، اور حضرت ولید بن عقبہؓ پر شراب نوشی کا الزام تھوپا گیا، اور انہی کے کچھ لوگوں نے گواہی بھی دی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اس صورت حال میں حضرت ولیدؓ پر حد جاری کر کے انہیں معزول کر دیا۔
(تاریخ ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 473)، فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 81)
اور طبری نے اس کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ابو زینب، ابو مورع اور جندب بن زہیر کے بیٹوں نے علی ابن حیسمان کے گھر میں نقب زنی کی اور اسے قتل کر دیا۔ حضرت ولیدؓ نے ان پر قصاص کا قانون جاری کیا جس کی وجہ سے یہ حضرات اپنے بیٹوں کی محبت میں حضرت ولیدؓ سے ناراض ہو گئے، اور آپ کے خلاف سازش کا عہد کر لیا، اور آپ کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھنے لگے، چنانچہ آپ کے یہاں ابو زبید شاعر آیا جو بنو تغلب سے تھا
وہ اور آپ کے ننھیالی رشتے میں پڑتا تھا، وہ نصرانی تھا اس نے حضرت ولید بن عقبہؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اس کو شراب پینے کی عادت تھی، ابوزبید کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بعض بے وقوف لوگ حضرت ولیدؓ کو شراب نوشی کے ساتھ متہم کرنے لگے۔ ابو زینب اور ابو مورع جو پہلے سے موقع کے انتظار میں تھے انہوں نے اسے غنیمت سمجھا اور سیدھے دونوں مدینہ پہنچ گئے، اور حضرت عثمان غنیؓ کے سامنے حضرت ولیدؓ سے متعلق شراب نوشی کی شہادت دی اور کہا کہ ہم نے ولید کو شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: شراب کی قے وہی کرے گا جس نے اس کو نوش کیا ہو۔ پھر حضرت ولیدؓ کو کوفہ سے مدینہ طلب کیا۔ حضرت ولیدؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کے سامنے حلفیہ بیان دیا اور صورت حال سے مطلع کیا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: ہم حد جاری کریں گے، اور جھوٹی گواہی دینے والا جہنم رسید ہو گا، میرے بھائی تم صبر کرو۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 277)
محب الدین خطیب رحمۃاللہ فرماتے ہیں: صحیح مسلم کی روایت میں جو یہ زیادتی ہے کہ آپ نے ولید کو بلوایا، کیوں کہ انہوں نے صبح کی نماز دو رکعت پڑھائی، پھر کہا: ’’میں نے زیادہ پڑھائی ہے‘‘ اور مسند احمد کی بعض سندوں میں ہے کہ ’’چار رکعت پڑھائی‘‘تو اس سلسلہ میں کسی گواہ کی کوئی شہادت ثابت نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ کے ناقل حضین کا کلام ہے، اور یہ شہود میں سے نہیں ہیں، اور نہ کسی شاہد سے روایت کی ہے اور نہ کسی معروف شخص سے روایت کی ہے مزید برآں وہ اس مزعومہ قصہ کے وقت کوفہ میں بھی موجود نہ تھے اس لیے اس زیادتی کا اعتبار نہ ہو گا۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 96، 97)
یہ ہیں کوفہ پر حضرت عثمان غنیؓ کے گورنر حضرت ولید بن عقبہؓ، مجاہد، فاتح، عادل، مظلوم، جنھوں نے امت کے لیے اپنی طاقت بھر ہر عمل خیر پیش کیا، اور پھر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ باطل پرست کس طرح صالحین پر ظلم ڈھاتے ہیں، اور ان کے باطل کا اثر کس طرح لوگوں پر ہوتا ہے، چنانچہ حضرت ولیدؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد معاشرہ کے شوروغل سے علیحدگی اختیار کر لی، اور اپنی ایک زمین جو رقہ سے پندرہ میل پر الجزیرہ میں واقع تھی، رہائش اختیار کر لی، جہاں خلافتِ فاروقی میں جہاد و دعوت میں مصروف تھے۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 94)
سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے دور میں ہونے والی تمام جنگوں سے علیحدہ رہے، اسی سر زمین میں آپ کی وفات 61ھ میں ہوئی، اور وہیں مدفون ہوئے، اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت معاویہؓ کے دور میں حضرت ولیدؓ کی وفات ہوئی۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 216)