Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا سعید بن العاص اموی رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

سلسلہ نسب: سعید بن العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف القرشی الاموی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 87)

ابو حاتم کا بیان ہے کہ آپ صحبت نبویﷺ کے شرف سے سرفراز ہیں۔ حضرت ولید بن عقبہؓ کے بعد کوفہ کے گورنر مقرر ہوئے۔ آپ کا شمار فصحائے قریش میں ہوتا تھا اسی لیے سیدنا عثمان غنیؓ نے کتابت قرآن کی جو کمیٹی تشکیل دی آپ کو اس کا رکن بنایا۔ 

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے: حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص اور عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو قرآن تحریر کرنے کا حکم فرمایا، انہوں نے قرآن کو مختلف مصاحف میں تحریر فرمایا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اس کمیٹی کے تینوں قریشی اراکین کو حکم فرمایا کہ جب تمہارے اور حضرت زید بن ثابتؓ کے مابین قرآن کے کسی لفظ کو ضبط تحریر میں لانے کے طریقہ سے متعلق اختلاف ہو تو قریش کی لغت کے مطابق لکھنا۔

(البخاری: فضائل القرآن: (4987)

قرآن کی عربیت حضرت سعید بن العاصؓ کی زبان کے مطابق قائم کی گئی، کیوں کہ آپ کا لہجہ رسول اللہﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھا۔ رسول اللہﷺ کی حیاتِ طیبہ کے نو سال آپ کو میسر آئے۔ آپ کے والد بدر میں بحالت شرک قتل ہوئے۔ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے اسے قتل کیا۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 211) 

آئیں اور ہمارے ساتھ اس خبر کو پڑھیں جو آپ کی قوت ایمان پر دلالت کرتی ہے: حضرت عمر بن خطابؓ نے حضرت سعید بن العاصؓ سے کہا: میں نے تمہارے والد کو قتل نہیں کیا بلکہ میں نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا۔ اس پر حضرت سعید بن العاصؓ نے کہا: اگر آپؓ نے اسے قتل کیا ہوتا تو آپ حق پر رہتے اور وہ باطل پر تھا۔ یہ جواب سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے۔ کوفہ پر گورنری کے دور میں طبرستان پر چڑھائی کر کے اس کو فتح کیا اور جرجان پر چڑھائی کی آپ کے لشکر میں حضرت حذیفہ بن یمانؓ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل تھے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 211)

جودو سخا اور بر و احسان میں مشہور تھے، اگر کبھی کسی سائل نے سوال کیا اور آپ کے پاس مطلوبہ چیز نہ ہوئی تو اس سے متعلق نوشتہ تحریر کر کے اس کو دے دیتے، چنانچہ جب آپ کا انتقال ہوا تو آپ پر اس طرح کے اسی ہزار (80،000) دینار کا قرض تھا جسے آپ کے بیٹے عمرو الا شدق نے ادا کیا۔

(الاصابۃ: (3268)

حضرت سعید بن العاصؓ مسلمانوں کے درمیان اتفاق و اتحاد کے خوگر تھے، فتنہ و فساد کو ناپسند کرتے اور دور بھاگتے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ولید بن عقبہؓ کے بعد آپ کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا، ایک مرتبہ آپ کوفہ سے مدینہ تشریف لائے، اور جب کوفہ واپس ہوئے تو فتنہ پردازوں نے اپنا لشکر جمع کر لیا اور آپ کو کوفہ میں داخل ہونے سے روک دیا، آپ مدینہ واپس چلے آئے اور وہیں اقامت اختیار کر لی، جن لوگوں نے آپؓ کو امارت کی طرف واپسی سے روکا تھا انہی میں سے قاتلینِ عثمان بھی تھے، اس کے باوجود آپؓ جنگ جمل و صفین سے الگ رہے، بلکہ جمل والوں کو بغاوت سے روکتے رہے۔

(الطبقات: جلد 5 صفحہ 34)

یہ سیعد بن العاصؓ کی سیرت ہے۔ جو دو سخا، کرم و شجاعت اور جہاد کے مالک، فصاحت ایسی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت سے مشابہت ہونے لگے۔ آج جو قرآن ہم پڑھتے ہیں آپ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو املاء کرایا تھا۔ صحیح روایات سے ثابت شدہ ان مناقب پر غور فرمائیں اور پھر ان نقائص و عیوب سے ان کا موازنہ فرمائیں جو بلا سند لوگ بیان کرتے ہیں، اور پھر بیان کرنے والوں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں پر غور کیجیے تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ یہ سب من گھڑت ہے، ایک شخص کے اندر دو متضاد چیزوں کا جمع ہونا محال ہے، پس یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص فیاض بھی ہو اور بخیل بھی ہو، نیکیوں کا خوگر بھی ہو اور برائیوں کا رسیا بھی ہو، فہم و فراست کے جوہر بھی دکھائے اور جہالت کا مرقع بھی ہو، جہاد کرتا ہوا مختلف ممالک کا فاتح بھی ہو اور جہاد سے جی چرا کر دم دبا کر بھاگ جانے والا بھی ہو۔ یہ انتہائی نا معقول باتیں کیسے کسی صحیح آدمی کے اندر جمع ہو سکتی ہیں۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 212)

بلاسند روایات کا انبار لگانے والوں کا خیال ہے کہ جب حضرت ولید بن عقبہؓ کے بعد حضرت سعید بن العاصؓ کوفہ کے والی مقرر ہوئے تو بعض موالی نے یہ رجزیہ شعر کہا:

یا ویلنا قد عزل الولید

و جاء نا مجوعا سعید

ینقص فی الصاع ولا یزید 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 279)

’’ہائے ہماری بربادی! ولید معزول کر دیا گیا، اور بھوکا مارنے والا سعید ہمارے پاس آ گیا۔ یہ تو صاع میں کمی کرتا ہے زیادہ نہیں کرتا۔‘‘

یہ اشعار من گھڑت ہیں، اور یہ پورا قصہ بلاشبہ من گھڑت ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 212)

کیوں کہ 30ھ میں موالی (جنگی قیدیوں میں سے غلام) عربی زبان اچھی طرح نہیں بول سکتے تھے چہ جائیکہ وہ اشعار کہنا شروع کر دیں، اور پھر حضرت سعید بن العاصؓ جود و سخا اور بر و احسان میں مشہور تھے، یہ ممکن نہیں کہ انہیں ’’بھوکا مارنے والا‘‘ کے وصف سے متصف کیا جائے، اور جب کہ عوام اور شعراء نے حضرت ولید بن عقبہؓ کے جو دو کرم کی تعریف کی ہے تو حضرت سعید بن العاصؓ تو جود و کرم میں ضرب المثل تھے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 212)

آپ کو عکۃ العسل (شہد کا ڈبہ) کہا جاتا تھا۔ فرزدق نے حضرت سعید بن العاصؓ کے جودوسخا کا ذکر یوں کیا ہے: 

تری الغر الجحاجح من قریش

اذا ما الامر فی الحدثان عالا

قیاما ینظرون الی سعید

کانہم یرون بہ ہلال 

 (البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 88)

’’جب حکومت و سلطنت نوجوانوں کے ہاتھ آئی تو تم قریش کے شریف و فیاض سرداروں کو دیکھو گے کہ وہ سعید کی طرف کھڑے ہو کر اس طرح دیکھ رہے ہیں گویا کہ وہ چاند دیکھ رہے ہیں۔‘‘

بفرض محال اگر مان لیں کہ جب موالی نے مذکورہ اشعار حضرت سعیدؓ کی کوفہ آمد کے وقت کہے تھے تو سوال یہ ہے کہ انہیں حضرت سعیدؓ کی سیاست کا پتہ کیسے چلا تھا کہ وہ بھوکے ماریں گے یا آسودہ کریں گے؟ اور تعجب ہے کہ راویوں نے اس خبر کو اس طرح بیان کیا ہے کہ خود اس کا بعض حصہ بعض کی تردید کرتا ہے، چنانچہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت سعید بن العاصؓ کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا، آپ نے ان کے درمیان سیرت عادلہ (یعنی عدل و انصاف کی روش) اختیار کی، بعض موالی یہ رجزیہ شعر کہتے تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 279) 

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیرت عادلہ بھی ہو اور موالی کو بھوکا بھی مارے؟ وہاں تو خیر کثیر تھا، مال کی ایسی فراوانی تھی کہ سب کے لیے کافی تھا، بلکہ زائد تھا۔ سیرت عادلہ سے متصف تو خیر کو عام کرتا ہے، سب کو نوازتا ہے۔ 

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 213)

اللہ تعالیٰ قدیم مؤرخین پر رحم فرمائے وہ قارئین کے ساتھ حسن ظن رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے اپنی کتابوں میں متناقض اور متضاد روایات کو جمع کر دیا، انہوں نے یہ گمان کیا تھا کہ ہر دور کے قارئین کھرے اور کھوٹے کے درمیان تفریق کر لیں گے۔ وہ معذور ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنے دور کے لوگوں کے لیے تصنیف کی تھیں وہ یہ نہیں جان سکے کہ بعد کے ادوار میں ایسے لوگ ہوں گے جو رات کے اندھیرے میں لکڑی چننے والے ہوں گے، اور کھرے اور کھوٹے کے مابین تفریق نہیں کر سکیں گے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 213)

چنانچہ ابنِ سعدؒ نے حضرت سعید بن العاصؓ کے تذکرہ میں بلاسند یہ بات روایت کر دی ہے کہ جب حضرت سعیدؓ کوفہ کے گورنر کی حیثیت سے آئے تو عیش و عشرت کے خوگر نوجوان تھے، انہیں کوئی تجربہ نہ تھا، منبر پر چڑھنے سے انکار کر دیا جب تک کہ اس کو دھویا نہ جائے، پھر منبر دھلوایا گیا اور منبر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ سر زمین سواد قریش کے غلاموں کا باغ ہے۔‘‘ پھر لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے شکایت کی۔

(الطبقات: جلد 5 صفحہ 32، المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 213)

یہ صحیح نہیں کیوں کہ یہ بے سند بات ہے اور اس لیے کہ حضرت سعید بن العاصؓ نے لشکرِ جہاد کی قیادت کی، بہت سے ممالک فتح کیے، لہٰذا آپ اس طرح نہیں ہو سکتے جیسا کہ افتراء پردازوں نے بیان کیا ہے، اور پھر ابن سعدؒ نے حضرت سعیدؓ کی طرف منسوب اس کلام کو مالک بن حارث الاشتر کی زبانی بیان کیا ہے اور اس وقت کا تذکرہ ہے جب اس نے حضرت سعیدؓ کو کوفہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، اس موقع پر اشتر نے کہا: یہ حضرت سعد بن العاصؓ ہے جو تمہارے پاس آیا ہے۔ اس کا یہ زعم ہے کہ سواد کی سرزمین قریش کے غلاموں کا باغ ہے، حالاں کہ سواد تمہاری جائے پیدائش اور تمہارے نیزوں کا مرکز ہے، جو تمہارا وفادار ہو وہ تمہارے آباء و اجداد کا وفا دار ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 214) 

مالک بن حارث جو اشتر کے لقب سے معروف ہے، فتنہ پرداز انسان ہے، یہ ان خوارج کے قائدین میں سے ہے جنھوں نے حضرت عثمان غنیؓ کا محاصرہ کر کے ان کو قتل کیا تھا ان سے کوئی بعید نہیں کہ لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے اس طرح کے اقوال گھڑیں، اگر یہ جملہ کہا گیا ہے تو اس کے کہنے والے وہ حضرات ہیں جنھوں نے خلافت کے خلاف خروج کیا تھا۔ عراق خصوصاً کوفہ پر مسلسل قریشی گورنروں کی تولیت کے سبب یہ بیمار تصور اور مریض فہم انہوں نے سمجھا حالاں کہ قبائلی عصبیت اس مقولہ کے اندر بالکل واضح ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 214)

امام ذہبی رحمۃاللہ حضرت سعید بن العاصؓ سے متعلق فرماتے ہیں:

’’آپ شریف امیر، سخی و جواد تھے، سبھی آپ کی تعریف کرتے، انتہائی بردبار اور باوقار تھے، حزم و عقل کے مالک تھے، خلافت و ولایت کے قابل تھے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 447)

مخالفین اور ناقدین عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت سعید بن العاصؓ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا پھر ان سے ایسے امور سرزد ہوئے جس کی وجہ سے اہل کوفہ نے ان کو وہاں سے نکال باہر کیا،

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 279)

تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ صرف کوفیوں کا آپ کو وہاں سے نکال دینا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوا تھا، جو کوفہ اور کوفیوں کی تاریخ سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کوفی اکثر بلا کسی شرعی عذر اور معمولی اسباب کی وجہ سے امراء و والیان کی شکایت کرتے رہے ہیں، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروقؓ کو بھی کہنا پڑا کہ کوفیوں نے مجھے تھکا دیا اور تنگ کر کے رکھ دیا، یہ کسی کو پسند نہیں کرتے اور نہ انہیں کوئی پسند کرتا ہے، نہ یہ درست ہوتے ہیں اور نہ ان پر کوئی درست ثابت ہوتا ہے۔

(المعرفۃ و التاریخ: الفسوی: جلد 2 صفحہ 754)

اور دوسری روایت میں یوں وارد ہوا ہے: کوفیوں نے مجھے تھکا دیا ہے اگر ان پر کسی نرم مزاج کو مقرر کرتا ہوں تو اس کو کمزور سمجھ بیٹھتے ہیں، اور اگر کسی سخت گیر کو مقرر کرتا ہوں تو اس کی شکایت کرتے ہیں۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 423)

 بلکہ آپ نے ان کے حق میں بد دعا کی: 

اللّٰهم انہم قد لبسوا علی فلبس علیہم۔

(المنہاج: ابن تیمیۃ: جلد 3 صفحہ 188)

’’اے اللہ ان لوگوں نے میرے لیے مشکلات برپا کی ہیں، تو ان کے لیے مشکلات برپا کر۔‘‘

حضرت سعید بن العاصؓ انتہائی حکیم اور دانا انسان تھے۔ فرماتے ہیں: ’’میرے ہم نشین کے میرے اوپر تین حقوق عائد ہوتے ہیں: جب وہ میرے قریب آئے تو اس کو خوش آمدید کہوں، اور جب وہ بیٹھے تو اس کے لیے جگہ کشادہ کروں، اور جب گفتگو کرے تو اس کی طرف متوجہ ہوں۔‘‘ اور اپنے بیٹے سے فرمایا: ’’میرے لخت جگر بغیر سوال کے اللہ کے لیے بھلائی کرو اور جب تمہارے پاس انسان حاضر ہو اور اس کے چہرے پر خون دوڑ رہا ہو یا وہ اس حالت میں آئے کہ اس کو خطرہ ہو اور اسے معلوم نہیں کہ تم اسے دیتے ہو یا نہیں، اس حالت میں اللہ کی قسم اگر تم اپنا سارا مال اسے دے دو تب بھی اس کو پورا بدلہ نہ دیا۔‘‘ نیز فرمایا:’’ میرے بیٹے! شریف انسان سے مذاق نہ کرنا وہ تم سے کینہ رکھنا شروع کر دے گا، اور نہ کسی کم تر شخص سے مذاق کرنا تم اس کی نگاہوں سے گر جاؤ گے۔‘‘ ایک دن ایک عابدہ و زاہدہ خاتون کوفہ کی امارت کے دور میں ان کے پاس آئی، آپ نے اس کے ساتھ داد و دہش کی اور اچھا سلوک کیا تو اس خاتون نے آپ کو دعا دیتے ہوئے کہا: ’’اللہ کرے کسی کمینہ سے آپ کو ضرورت نہ پڑے، اور شریفوں کی گردن پر ہمیشہ احسان رہے، اور اللہ جب کسی شریف سے کوئی نعمت زائل کر دے تو آپؓ کو اس نعمت کو اس کی طرف واپس کرنے کا سبب بنائے۔‘‘

اور جب حضرت سعید بن العاصؓ کی وفات کا وقت آیا تو اپنے تمام بیٹوں کو جمع کیا اور فرمایا: ’’میرے ساتھی میرے علاوہ کسی چیز کو گم نہ پائیں، میں ان کے ساتھ جو سلوک کرتا ہوں تم برابر کرتے رہنا، جو میں انہیں دیتا ہوں تم برابر انہیں دیتے رہنا، انہیں مانگنے کی زحمت نہ اٹھانا پڑے، کیوں کہ انسان جب کسی سے کوئی چیز طلب کرتا ہے تو اس خوف سے کہ کہیں اس کی بات رد نہ کر دی جائے، اس کے اعضاء مضطرب ہو جاتے ہیں اور اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ اللہ کی قسم ایک شخص اپنے بستر پر تڑپ رہا ہو اور وہ تمھیں اس لائق سمجھ رہا ہے کہ تم اس کی ضرورت پوری کر سکتے ہو تو یہ اس کا تمہارے اوپر تمہارے مطلوبہ چیز دینے سے زیادہ احسان ہے۔‘‘ اس کے بعد اور بہت سی وصیتیں کیں۔ حضرت سعید بن العاصؓ کی وفات 58ھ میں ہوئی، اسی طرح 57ھ اور 59ھ کی بھی روایت ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 90)