Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت مروان بن حکم اموی رضی اللہ عنہ اور ان کے والد

  علی محمد الصلابی

سلسلہ نسب: مروان بن الحکم بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف القرشی الاموی۔

(الاصابۃ: 8337)

حضرت مروان بن حکمؓ کو حضرت عثمان غنیؓ کے قرابت داروں میں خصوصی مقام حاصل تھا، مرکز خلافت سے آپ کا تعلق دوسروں کی نسبت زیادہ قوی تھا، اور عہدِ عثمانی میں اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے حالات و حوادث کے ساتھ آپ کا نام سب سے زیادہ جڑا ہوا ہے کیوں کہ آپ بحیثیت حکومت کے پرائیویٹ سیکرٹری یا بادشاہ کے مہر بردار تھے۔

(عثمان بن عفان: صادق عرجون: صفحہ 117)

حضرت مروانؓ تن تنہا خلیفہ کے مشیر نہ تھے بلکہ حضرت عثمان غنیؓ اکابرین صحابہ اور اصاغرین صحابہ سبھی سے مشورہ لیتے تھے۔ حضرت مروانؓ ایسے وزیر بھی نہ تھے اور اس منصب کو اس حیثیت سے اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ اس کا حامل خلیفہ کے کان اور مہر سے قریب ہوتا ہے، لیکن لوگوں کا یہ ادعا کہ آپ ہی نے حضرت عثمان غنیؓ کو مشکلات اور پریشانیوں میں ڈالا اور لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑکایا تاکہ خلافت بنو امیہ کی طرف منتقل ہو جائے، یہ فرضی باتیں ہیں، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ خلافت، بنو امیہ کی طرف بڑے سنگین خطرات کے بعد منتقل ہوئی ہے جس میں حضرت مروانؓ کا کوئی اہم کردار نہیں تھا مزید برآں حضرت عثمانؓ اس قدر ضعیف شخصیت کے حامل نہیں تھے کہ آپ کے کاتب اس حد تک پہنچ جائیں جیسا کہ قصہ گو تصور کر رہے ہیں۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: حمدی شاہین: صفحہ 160) 

حضرت مروان بن حکمؓ اگر دورِ نبوی میں اہل علم کے قول کے مطابق بلوغت کو نہیں پہنچے تھے تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ آپ کی عمر دس سال یا اس سے قریب تھی، آپ مسلمان تھے، قرآن پڑھتے تھے، دین کا علم حاصل کرتے تھے اور فتنہ سے قبل آپ پر کسی طرح کا کوئی اتہام نہیں تھا، تو پھر ان کو کاتب بنانے میں حضرت عثمان غنیؓ کا کیا قصور ہے، رہا دورِ فتنہ تو اس میں تو حضرت مروانؓ سے افضل لوگ بھی نہ بچ سکے۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 197)

 بلکہ حضرت مروانؓ کے والد کو مدینہ سے جلاوطن کرنے والی روایت سند و متن دونوں اعتبار سے ضعیف ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے اس کا تعاقب کیا ہے اور اس کے ضعف و فساد کو واضح فرمایا ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 195، 196)

حضرت مروان بن الحکم رضی اللہ عنہ علم و فقہ اور عدل میں معروف ہیں، آپ نوجوانانِ قریش کے سادات میں سے ہیں اور حضرت مروانؓ کا ستارئہ اقبال حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں بلند ہوا۔ حضرت مروانؓ کی فقاہت کی شہادت امام مالک رحمۃاللہ نے دی ہے، اور اپنی کتاب موطا میں مختلف مقامات پر آپ کے فتاویٰ و قضایا سے استدلال کیا ہے، اور اسی طرح اس کے علاوہ دیگر کتب حدیث میں جو ائمہ اسلام کے یہاں متداول اور معمول بہ ہیں، آپ سے مرویات، فتاویٰ اور اقوال و فیصلے وارد ہیں۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 169)

امام احمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

’’مروان منصب قضاء پر فائز تھے، اور آپ سیدنا عمر بن خطابؓ کے فیصلوں کو تلاش کرتے تھے۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 260)

حضرت مروانؓ قرآن کے بہت بڑے قاری و حافظ تھے۔ احادیث نبویہ کو روایت کرتے، بعض مشاہیر صحابہ رضی اللہ عنہم سے حضرت مروانؓ نے احادیث روایت کی ہیں، اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت مروانؓ سے روایت کی ہے اور اسی طرح بعض تابعینؒ نے حضرت مروانؓ سے احادیث روایت کی ہیں۔

(ایضاً)

حضرت مروانؓ سنت کو تلاش کرنے اور اس پر عمل کرنے کے بڑے شوقین تھے۔ فقیہ مصر لیث بن سعدؒ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مروانؓ ایک جنازہ میں شریک ہوئے اور جب نمازِ جنازہ پڑھ کر واپس ہوئے تو حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: انہوں نے ایک قیراط نیکی حاصل کر لی، اور دوسرے قیراط سے محروم رہ گئے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 260، المسند: 4453، 4650)

حضرت مروانؓ کو اس کی خبر دی گئی تو وہ دوڑے ہوئے واپس ہوئے یہاں تک کہ دوڑنے کی وجہ سے آپ کے گھٹنے کھل گئے، اور پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ اجازت مل گئی۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 200، البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 260)

فتح الباری کے مقدمہ میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

مروان بن الحکم بن ابی العاص بن امیہ، حضرت عثمان غنیؓ کے چچا زاد بھائی ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت کا شرف حاصل ہے، پس اگر یہ ثابت ہے تو پھر جن لوگوں نے ان پر کلام کیا ہے ان کا اعتبار نہیں۔

(مقدمۃ فتح الباری: 466، اباطیل یجب ان تمحی من التاریخ: صفحہ 254)

(عروہ بن زبیر فرماتے ہیں: روایت حدیث میں ان پر کوئی کلام نہیں۔ (مقدمۃ فتح الباری: صفحہ 466)

علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مروانؓ بہت سے لوگوں کے نزدیک صحابی ہیں، کیوں کہ حضرت مروانؓ کی ولادت حیات نبوی میں ہوئی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 259، بلکہ وفات نبوی کے وقت حضرت مروانؓ کی عمر کم از کم آٹھ سال تھی۔ (مترجم)

 سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت مروانؓ مدینہ کے گورنر مقرر ہوئے، فساق و فجار کے لیے آپؓ بہت سخت تھے۔ عیش پرستی کے مظاہر اور ہجڑاپن کے شدید مخالف تھے۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 200)

رعیت کے ساتھ عدل و انصاف کرنے والے، قرابت داروں اور اثر و رسوخ کا استیصال کرنے والوں کی مجاملت سے انتہائی احتیاط برتنے والے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت مروانؓ کے بھائی عبدالرحمٰن بن الحکم نے اہلِ مدینہ کے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا، اس نے حضرت مروانؓ سے شکایت کی، جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے، حضرت مروانؓ نے اپنے بھائی عبدالرحمٰن کو طلب کیا اور اس غلام کے سامنے بٹھایا اور اس سے کہا: اس کو طمانچہ لگاؤ، اس غلام نے کہا: میرا یہ مقصود نہ تھا بلکہ میرا مقصود صرف اس کو یہ بتانا تھا کہ اس کے اوپر بھی ایک قوت ہے جو میری مدد کرے گی، اور میں نے اپنا یہ حق آپ کو ہبہ کر دیا۔ حضرت مروان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے قبول نہیں کروں گا، تم اپنا حق لے لو۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں طمانچہ نہیں لگا سکتا، لیکن میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں۔ حضرت مروانؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں اسے قبول نہیں کر سکتا اگر تمھیں ہبہ کرنا ہے تو اس کو ہبہ کرو جس نے تم کو طمانچہ مارا ہے، یا پھر اللہ کے حوالہ کر دو، اس نے کہا: میں نے اللہ کے لیے ہبہ کر دیا۔ اس موقف سے عبدالرحمٰن سخت ناراض ہوئے اور اپنے بھائی مروان کی ہجو میں اشعار کہے۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 200)

حضرت مروانؓ کے علم و عدل اور فقہ و تدین کی یہ تصویر، اس ناپسندیدہ تصویر کے بالکل برعکس ہے جسے اکثر مؤرخین اور قصہ گو پیش کرتے ہیں، جنھوں نے حضرت مروانؓ کی زندگی کو بدنما کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ وفات کے وقت بھی حضرت مروانؓ کو نہیں بخشا بلکہ آپ کی شکل کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کی، اور یہ گمان کر بیٹھے کہ آپ کی بیوی ام خالد بن یزید بن معاویہ نے تکیہ کے ذریعہ سے گلا گھونٹ کر مار ڈالا، یا زہر دے دیا، کیوں کہ حضرت مروانؓ نے ان کے بیٹے خالد کو لوگوں کے سامنے گالی دے دی تھی۔ تناقضات سے پر اس قصہ پر پہلی نظر ڈالنے سے یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ قوم کی بوڑھیوں نے اسے گھڑا ہے، اور پھر لوگوں نے بلا سوچے سمجھے بیان کرنا شروع کر دیا اس کے پیچھے بکواس کرنے کا شوق اور اس بلند مقام خاندان کی شہرت و وجاہت اور شرف و منزلت پر حسد کارفرما رہا۔

(عبدالملک بن مروان: دیکھیے۔ الریس صفحہ 12)

حضرت مروانؓ کی موت طبعی تھی یا طاعون کے سبب ہوئی یا بیوی نے گلا گھونٹ دیا؟ روایات کا یہ تناقض اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقت معلوم نہیں۔ اور جن روایات میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بیوی نے خود یا بعض لونڈیوں کے ذریعہ سے قتل کر دیا تھا، یہ روایات مقبول اور معقول نہیں ہیں۔ یہ بیوی عبدشمس جیسے شریف گھرانے کی شریف خاتون تھی، شوہر اس کا قریبی رشتہ دار اور خلیفہ وقت تھا اس طرح یہ خاتون معمولی خاتون نہ تھی، خلیفہ کی بیوی اور خلیفہ (معاویہ بن یزید) کی ماں تھی۔ ایسا گھٹیا کام شریف زادیاں نہیں کیا کرتی ہیں، مزید قابل غور پہلو یہ ہے کہ اگر اس خاتون نے ایسا کیا تھا تو پھر اس کا خاندان کے اندر کوئی اثر نہیں آیا اور نہ خاندان میں کوئی اختلاف رونما ہوا، اور نہ کسی نے قصاص و بدلہ کا مطالبہ کیا، اور حضرت خالد بن یزیدؒ کا وہی مقام عبدالملک بن مروان کے ہاں باقی رہا، اور پھر اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو صرف قتل پر بات ختم نہ ہوتی، بلکہ جس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے قتل کیا گیا تھا اس کی تکمیل کی کوشش کی جاتی۔

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 201)

بعض اہل علم نے بیان کیا ہے کہ حضرت مروانؓ نے آخری بات جو کہی وہ یہ تھی: جو جہنم سے ڈرا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ اور آپ کی انگوٹھی (مہر) کا نقش ’’العزۃ للّٰه‘‘ تھا، اور بعض لوگوں نے کہا: ’’امنت بالعزیز الرحیم‘‘ لکھا تھا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 262)

علامہ ابن قیم رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ولید اور مروان بن الحکم کی مذمت میں جتنی احادیث بیان کی جاتی، سب جھوٹ اور من گھڑت ہیں۔

(المنار المنیف: صفحہ 117، فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 77)