Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے حساب پر کسی قرابت دار سے مجاملت کی؟

  علی محمد الصلابی

اگر سیدنا عثمان غنیؓ مسلمانوں کے حساب پر اپنے قرابت داروں سے مجاملت کرنا چاہتے تو اپنے پروردہ محمد بن ابی حذیفہ کے ساتھ ضرور مجاملت کرتے، لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے ان کے مطالبہ کے باوجود ان کو عامل نہیں مقرر کیا، کیوں کہ وہ اس منصب کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے فرمایا: میرے بیٹے اگر تم اس قابل ہوتے تو ضرور میں تمھیں یہ منصب عطا کرتا، لیکن تم اس قابل نہیں ہو۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 247)

حضرت عثمان غنیؓ کا یہ برتاؤ کسی کراہیت اور ناپسندیدگی و نفرت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ جب انہوں نے مصر جانے کی اجازت طلب کی تو حضرت عثمان غنیؓ نے ان کو سازو سامان سے تیار کر کے روانہ فرمایا، اگر نفرت و کراہیت کی بات ہوتی تو کبھی ایسا نہ کرتے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 247، تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 416)

اور رہا نوجوانوں کو مناصب عطا کرنے کا مسئلہ تو اس سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ کے آخری ایام میں روم پر چڑھائی کے لیے جو لشکر تشکیل دیا اس کا سپہ سالار اعظم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو مقرر فرمایا۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 247، تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 416) 

اور جب لشکر روانہ ہونے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کو روانہ کرنے کا عزم کر لیا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ خواہش ہوئی کہ حضرت اسامہؓ کی جگہ کسی تجربہ کار کو سپہ سالار بنا دیا جائے، اور اس سلسلہ میں حضرت عمر فاروقؓ سے گفتگو کی گئی کہ وہ جا کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے سامنے یہ پیش کش رکھیں، لیکن جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سامنے یہ بات رکھی گئی تو آپؓ غضب ناک ہو گئے، اور حضرت عمر بن خطابؓ سے فرمایا: عمر! جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سپہ سالار مقرر فرمایا، تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اسے اس منصب سے معزول کر کے دوسرے کو مقرر کر دوں؟

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 46)

اور یہی جواب حضرت عثمان غنیؓ نے اس طرح کے اعتراضات پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے دیا تھا کہ میں نے باصلاحیت، عاقل و بالغ اور پسندیدہ لوگوں کو عامل و گورنر مقرر کیا ہے، یہ ان کے ماتحت اور ان شہروں کے رہنے والے ہیں، ان سے ان کے بارے میں دریافت کر لیں، مجھ سے پہلے ان سے کم عمر والوں کو یہ مناصب دیے گئے

ہیں آج مجھ پر اعتراض کیا جا رہا ہے، یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے متعلق کہی گئی تھی، کیا ایسا نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں، بات ایسی ہی ہے۔ لوگ بلا سوچے سمجھے عیب جوئی کرتے ہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 355)

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عثمان غنیؓ نے جس کو بھی والی بنایا سب باصلاحیت اور عادل تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا حالاں کہ وہ ابھی بیس سال کے تھے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 178) 

حضرت عثمان غنیؓ کے گورنر امور شریعت سے جاہل نہ تھے، اور نہ دین کے سلسلہ میں کوتاہی کرنے والے تھے، اگر ان سے بعض غلطیاں سر زد ہوئیں تو اس کے مقابلہ میں ان کے پاس بہت زیادہ حسنات و نیکیاں تھیں، اور پھر ان کی غلطیوں کا اثر صرف انہی پر موقوف رہا، مسلم معاشرہ پر اس کا کوئی اثر نہ تھا۔ ہم نے ان گورنروں کے آثار کا ان کے دور ولایت میں جائزہ لیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اسلام و مسلمانوں کے لیے انتہائی مفید رہے، حضرت عثمان غنیؓ کے گورنروں کے ہاتھ پر لاکھوں افراد نے اسلام قبول کیا، اور ان کی فتوحات سے بہت سے ممالک اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے۔ اگر ان کے اندر جہاد پر ابھارنے والی شجاعت و دین داری نہ ہوتی تو کبھی یہ اسلامی لشکروں کی قیادت نہ کرتے، کیوں کہ اس میں ہلاکت کا خطرہ اور راحت و متاع دنیا سے بیزاری پائی جاتی ہے۔ ہم نے ان گورنروں کی سیرتوں کا جائزہ لیا تو ان میں سے ہر ایک کی فتوحات کا ایک سلسلہ پایا، اپنے اپنے صوبوں کے قرب و جوار میں سب نے فتوحات کیں، اور اسی طرح ان کے مناقب و صفات حسنہ کا پتہ چلا جس سے ان کی قیادت و اہلیت ثابت ہوتی ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 211)

جو شخص بھی صحیح تاریخی واقعات کی طرف رجوع کرے گا اور ان نفوس کی سیرت کا جائزہ لے گا، جن سے امیر المؤمنین عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں استفادہ کیا، اور ان کے جہاد سے اسلامی دعوت کی تاریخ پر جو بہترین اثرات نمایاں ہوئے، بلکہ ان کے حسن انتظام و انصرام سے امت کی خوش حالی اور سعادت کے سلسلہ میں جو عظیم نتائج مترتب ہوئے تو انصاف پسند انسان اپنی پسندیدگی اور فخر کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

(حاشیۃ المنتقی من منہاج الاعتدال: صفحہ 390)

حضرت عثمان غنیؓ اور آپ کے گورنران دشمنانِ اسلام سے جہاد و مدافعت میں مشغول رہے، اور یہ مشغولیت اسلامی سلطنت میں توسیع اور جدید علاقوں میں اس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے سے مانع نہ ہوئی۔ گورنر حضرات براہِ راست عثمان غنیؓ کے خلاف فتنہ کھڑا کرنے میں ملوث قرار دیے گئے، اور ان پر یہ اتہام باندھا گیا کہ ان حضرات نے لوگوں پر مظالم ڈھائے، لیکن ہم کوئی واقعہ ایسا نہیں پاتے جس سے یہ مزعومہ اتہام پایہ ثبوت کو پہنچے۔ اسی طرح حضرت عثمان غنیؓ پر یہ اتہام باندھا گیا کہ آپ نے اپنے اقرباء کو مناصب عطا کیے، اس اتہام کے بخیے ہم نے ادھیڑے ہیں، اور یہ حقیقت ہمارے سامنے آشکارا ہو چکی ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے امت کی خیر خواہی اور باصلاحیت اور اہلیت کے حاملین کی تقرری میں کوئی کوتاہی نہیں کی، لیکن افسوس کہ اس کے باوجود وہ اور ان کے گورنر اتہامات سے محفوظ نہ رہ سکے، فتنہ پردازوں نے اول دن سے انہیں متہم قرار دیا، اور اسی طرح جدید غیر تحقیقی اور ظالمانہ تحریروں اور کتابوں میں بھی ان اتہامات کو اچھالا گیا، خاص کر جدید مؤلفین ایسا حکم جاری کرتے ہیں جن کا تحقیق سے کوئی واسطہ نہیں ان کی اکثریت نے ضعیف اور شیعی روایات پر اعتماد کر کے ظالم و باطل احکامات خلیفہ راشد حضرت عثمان غنیؓ پر لگائے ہیں، مثلاً: طہٰ حسین نے اپنی کتاب ’’الفتنۃ الکبریٰ‘‘ میں، راضی عبدالرحیم نے اپنی کتاب ’’النظام الاداری والحربی‘‘ میں، صبحی صالح نے اپنی کتاب ’’النظم الاسلامیۃ‘‘ میں، مولوی حسین نے اپنی کتاب ’’الادارۃ العربیۃ‘‘ میں، صبحی محمصانی نے اپنی کتاب ’’ثرات الخلفاء الراشدین فی الفقہ و القضاء‘‘ میں، توفیق الیوزبکی نے اپنی کتاب ’’دراسات فی النظم العربیۃ و الاسلامیۃ‘‘ میں،محمد الملحم نے اپنی کتاب تاریخ ’’البحرین فی القرن الاول الہجری‘‘ میں، بدوی عبداللطیف نے اپنی کتاب ’’الاحزاب السیاسۃ فی فجر الاسلام‘‘ میں، انور الرفاعی نے اپنی کتاب ’’النظم الاسلامیۃ‘‘ میں، محمد الریس نے اپنی کتاب ’’النظریات السیاسۃ‘‘ میں علی حسنی الخربوطلی نے اپنی کتاب ’’الاسلام والخلافۃ‘‘ میں ، ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں، اور سید قطب نے اپنی کتاب ’’العدالۃ الاجتماعیۃ‘‘ میں۔ یقیناً سیدنا عثمان غنیؓ مظلوم خلیفہ تھے ان پر آپ کے قدیم دشمنوں نے افترا پردازی کی اور متاخرین نے بھی انصاف سے کام نہ لیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 222، 223)