حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین…

حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین تعلقات کی حقیقت خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے معاندین ان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو ’’ربذہ‘‘ کی طرف جلا وطن کر دیا، اور بعض مؤرخین اس زعم میں مبتلا ہیں کہ عبداللہ بن سبا ملک شام میں حضرت ابوذر غفاریؓ سے ملا اور انہیں زہد و قناعت، فقراء کی ہمدردی اور ضرورت سے زائد مال دوسروں میں تقسیم کر دینے پر رغبت دلائی، اور ان کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنے پر ابھارا۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ابن سباء کو پکڑ کر حضرت معاویہؓ کی خدمت میں پیش کیا، اور کہا: اللہ کی قسم اسی شخص نے حضرت ابوذرؓ کو تمہارے پاس بھیجا تھا، لہٰذا حضرت معاویہؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو شام سے نکال دیا۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 216، 217)

اور احمد امین نے حضرت ابوذر غفاریؓ اور مزدک فارسی کی رائے میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اور وجہ تشبیہ یہ بیان کی ہے کہ ابن سبا یمن میں تھا اور عراق میں چکر لگایا کرتا تھا، اور اسلام سے قبل یمن و عراق میں فارسی موجود تھے، اس لیے اس کا بہت ہی قریبی احتمال ہے کہ اس نے یہ نظریہ عراق کے مزدکیوں سے حاصل کیا ہو، اور حضرت ابوذرؓ نے حسن نیت سے اس نظریہ کو اختیار کر لیا ہو۔ (فجر الاسلام: صفحہ 110)

لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ سے متعلق جو کہا گیا ہے اور جس کی وجہ سے حضرت عثمان غنیؓ پر طعن و تشنیع کی جاتی ہے سب باطل ہے، اس کی بنیاد کسی صحیح روایت پر نہیں ہے اسی طرح حضرت ابوذرؓ اور ابن سبا کے مابین اتصال سے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے، سب بالکل غلط ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 217)

صحیح بات یہ ہے کہ حضرت ابوذرؓ نے اپنی پسند سے ’’ربذہ‘‘ میں اقامت کو اختیار کیا تھا، اور اس کا سبب فہم آیت میں آپ کا وہ موقف تھا جس میں آپ نے تمام صحابہ سے مخالفت کی تھی، اور اپنی رائے پر مصر تھے، اور کسی نے بھی اس پر آپ کی موافقت نہ کی، آخرکار آپ نے خود ہی ربذہ (مکہ اور عراق کے راستہ میں ایک مقام کا نام ہے۔) میں اقامت پذیر ہونے کا مطالبہ کیا، حضرت ابوذر غفاریؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں وہاں بکثرت جایا کرتے تھے۔ آپؓ کو جبراً وہاں جلا وطن نہیں کیا گیا تھا اور نہ وہاں اقامت کرنے کے لیے آپ کو مجبور کیا گیا تھا، اور نہ خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی رائے سے باز آنے کا حکم دیا، کیوں کہ اس رائے کی معقول توجیہ ہو سکتی ہے، لیکن مسلمانوں کے لیے اس کا قبول کرنا لازم نہیں۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 217)

حضرت ابوذر غفاریؓ سے متعلق صحیح ترین بات وہ ہے جو بخاری نے اپنی صحیح میں زید بن وہب سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ربذہ سے میرا گزر ہوا، میں نے وہاں حضرت ابوذرؓ کو پایا، میں نے ان سے دریافت کیا: آپؓ اس مقام پر کیوں اقامت پذیر ہیں؟ فرمایا: میں شام میں تھا میرے اور سیدنا معاویہؓ کے درمیان اس آیت سے متعلق اختلاف رونما ہوا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَالرُّهۡبَانِ لَيَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ۞ (سورۃ التوبة آیت 34)

ترجمہ: اے ایمان والو! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ سیدنا معاویہؓ نے کہا: یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، میں نے کہا: ہمارے اور ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے اور ان کے درمیان کچھ باتیں ہوئیں اور انہوں نے حضرت عثمان غنیؓ سے اس کی شکایت کی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے بذریعہ خط مجھے مدینہ آنے کا حکم دیا، لہٰذا میں مدینہ آ گیا، میں مدینہ پہنچا تو لوگوں نے مجھے اس طرح گھیر لیا جیسے انہوں نے اس سے قبل مجھے نہیں دیکھا تھا، میں نے یہ صورتحال حضرت عثمانؓ سے بیان کی، تو انہوں نے فرمایا: اگر تم چاہو تو مدینہ سے کسی قریبی علاقہ میں اقامت پذیر ہو جائو۔ لہٰذا میں نے اس مقام کو اختیار کیا۔ اگر مجھ پر حبشی کو بھی امیر مقرر کر دیا جائے تو میں اس کو سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔

(البخاری: الزکوٰۃ: باب ماادی زکاتہ: 1406)

اس اثر سے چند اہم ترین امور کی طرف اشارہ ملتا ہے: . زید بن وہب نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تاکہ اس پروپیگنڈہ کی تحقیق کر لیں جو معاندین حضرت عثمان غنیؓ پھیلا رہے تھے کہ آیا انہیں حضرت عثمان غنیؓ نے جلا وطن کیا ہے یا انہوں نے خود اس مقام کو اختیار کیا ہے؟ اس روایت میں آپ کے کلام کے سیاق و سباق سے معلوم ہوا کہ وہ مدینہ سے ربذہ کے لیے اس وقت نکلے جب لوگوں نے آپ کو گھیر لیا، اور شام سے واپسی کے اسباب پوچھنے لگے۔ اس روایت میں کہیں یہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں ربذہ جانے کا حکم فرمایا تھا، بلکہ انہوں نے خود اس کو اختیار کیا تھا۔ اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جسے حافظ ابن حجر رحمۃاللہ نے عبداللہ بن صامت سے بیان کیا ہے: میں حضرت ابوذر غفاریؓ کے ساتھ حضرت عثمان غنیؓ کے پاس گیا تو حضرت ابوذر غفاریؓ نے اپنا سر کھولا اور فرمایا: میں ان(خوارج) میں سے نہیں ہوں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے تاکہ آپ ہمارے ساتھ مدینہ میں رہیں، انہوں نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں، مجھے ربذہ میں اقامت اختیار کرنے کی اجازت دے دیں۔ فرمایا ٹھیک ہے۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 274)

صفحہ 1 از 4