Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین تعلقات کی حقیقت خلاصہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے معاندین ان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو ’’ربذہ‘‘ کی طرف جلا وطن کر دیا، اور بعض مؤرخین اس زعم میں مبتلا ہیں کہ عبداللہ بن سبا ملک شام میں حضرت ابوذر غفاریؓ سے ملا اور انہیں زہد و قناعت، فقراء کی ہمدردی اور ضرورت سے زائد مال دوسروں میں تقسیم کر دینے پر رغبت دلائی، اور ان کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کرنے پر ابھارا۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ابن سباء کو پکڑ کر حضرت معاویہؓ کی خدمت میں پیش کیا، اور کہا: اللہ کی قسم اسی شخص نے حضرت ابوذرؓ کو تمہارے پاس بھیجا تھا، لہٰذا حضرت معاویہؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو شام سے نکال دیا۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 216، 217)

اور احمد امین نے حضرت ابوذر غفاریؓ اور مزدک فارسی کی رائے میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، اور وجہ تشبیہ یہ بیان کی ہے کہ ابن سبا یمن میں تھا اور عراق میں چکر لگایا کرتا تھا، اور اسلام سے قبل یمن و عراق میں فارسی موجود تھے، اس لیے اس کا بہت ہی قریبی احتمال ہے کہ اس نے یہ نظریہ عراق کے مزدکیوں سے حاصل کیا ہو، اور حضرت ابوذرؓ نے حسن نیت سے اس نظریہ کو اختیار کر لیا ہو۔ (فجر الاسلام: صفحہ 110)

لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ سے متعلق جو کہا گیا ہے اور جس کی وجہ سے حضرت عثمان غنیؓ پر طعن و تشنیع کی جاتی ہے سب باطل ہے، اس کی بنیاد کسی صحیح روایت پر نہیں ہے اسی طرح حضرت ابوذرؓ اور ابن سبا کے مابین اتصال سے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے، سب بالکل غلط ہے۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 217)

صحیح بات یہ ہے کہ حضرت ابوذرؓ نے اپنی پسند سے ’’ربذہ‘‘ میں اقامت کو اختیار کیا تھا، اور اس کا سبب فہم آیت میں آپ کا وہ موقف تھا جس میں آپ نے تمام صحابہ سے مخالفت کی تھی، اور اپنی رائے پر مصر تھے، اور کسی نے بھی اس پر آپ کی موافقت نہ کی، آخرکار آپ نے خود ہی ربذہ (مکہ اور عراق کے راستہ میں ایک مقام کا نام ہے۔) میں اقامت پذیر ہونے کا مطالبہ کیا، حضرت ابوذر غفاریؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں وہاں بکثرت جایا کرتے تھے۔ آپؓ کو جبراً وہاں جلا وطن نہیں کیا گیا تھا اور نہ وہاں اقامت کرنے کے لیے آپ کو مجبور کیا گیا تھا، اور نہ خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی رائے سے باز آنے کا حکم دیا، کیوں کہ اس رائے کی معقول توجیہ ہو سکتی ہے، لیکن مسلمانوں کے لیے اس کا قبول کرنا لازم نہیں۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 217)

حضرت ابوذر غفاریؓ سے متعلق صحیح ترین بات وہ ہے جو بخاری نے اپنی صحیح میں زید بن وہب سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ربذہ سے میرا گزر ہوا، میں نے وہاں حضرت ابوذرؓ کو پایا، میں نے ان سے دریافت کیا: آپؓ اس مقام پر کیوں اقامت پذیر ہیں؟ فرمایا: میں شام میں تھا میرے اور سیدنا معاویہؓ کے درمیان اس آیت سے متعلق اختلاف رونما ہوا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَالرُّهۡبَانِ لَيَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ۞ (سورۃ التوبة آیت 34)

ترجمہ: اے ایمان والو! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ سیدنا معاویہؓ نے کہا: یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، میں نے کہا: ہمارے اور ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے اور ان کے درمیان کچھ باتیں ہوئیں اور انہوں نے حضرت عثمان غنیؓ سے اس کی شکایت کی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے بذریعہ خط مجھے مدینہ آنے کا حکم دیا، لہٰذا میں مدینہ آ گیا، میں مدینہ پہنچا تو لوگوں نے مجھے اس طرح گھیر لیا جیسے انہوں نے اس سے قبل مجھے نہیں دیکھا تھا، میں نے یہ صورتحال حضرت عثمانؓ سے بیان کی، تو انہوں نے فرمایا: اگر تم چاہو تو مدینہ سے کسی قریبی علاقہ میں اقامت پذیر ہو جائو۔ لہٰذا میں نے اس مقام کو اختیار کیا۔ اگر مجھ پر حبشی کو بھی امیر مقرر کر دیا جائے تو میں اس کو سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔

(البخاری: الزکوٰۃ: باب ماادی زکاتہ: 1406)

اس اثر سے چند اہم ترین امور کی طرف اشارہ ملتا ہے: . زید بن وہب نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تاکہ اس پروپیگنڈہ کی تحقیق کر لیں جو معاندین حضرت عثمان غنیؓ پھیلا رہے تھے کہ آیا انہیں حضرت عثمان غنیؓ نے جلا وطن کیا ہے یا انہوں نے خود اس مقام کو اختیار کیا ہے؟ اس روایت میں آپ کے کلام کے سیاق و سباق سے معلوم ہوا کہ وہ مدینہ سے ربذہ کے لیے اس وقت نکلے جب لوگوں نے آپ کو گھیر لیا، اور شام سے واپسی کے اسباب پوچھنے لگے۔ اس روایت میں کہیں یہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں ربذہ جانے کا حکم فرمایا تھا، بلکہ انہوں نے خود اس کو اختیار کیا تھا۔ اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جسے حافظ ابن حجر رحمۃاللہ نے عبداللہ بن صامت سے بیان کیا ہے: میں حضرت ابوذر غفاریؓ کے ساتھ حضرت عثمان غنیؓ کے پاس گیا تو حضرت ابوذر غفاریؓ نے اپنا سر کھولا اور فرمایا: میں ان(خوارج) میں سے نہیں ہوں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے تاکہ آپ ہمارے ساتھ مدینہ میں رہیں، انہوں نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں، مجھے ربذہ میں اقامت اختیار کرنے کی اجازت دے دیں۔ فرمایا ٹھیک ہے۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 274)

حضرت ابوذرؓ کا فرمانا کہ ’’میں شام میں تھا‘‘ شام میں آپ کے اقامت پذیر ہونے کا سبب اس روایت سے معلوم ہوتا ہے جسے ابو یعلی نے زید بن وہب سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوذر غفاریؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ : اذا بلغ البناء سلعنا فارتحل الی الشام۔ ’’جب مدینہ کی آبادی سلع پہاڑی تک پہنچ جائے تو تم یہاں سے شام چلے جانا۔‘‘ تو جب سلع تک مدینہ کی آبادی پہنچ گئی تو میں شام چلا گیا اور وہاں سکونت اختیار کر لی۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 219)

اور ایک روایت میں ہے کہ ام ذر رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم حضرت عثمان غنیؓ نے ربذہ کی طرف جلا وطن نہیں کیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا تھا: اذا بلغ البناء سلعنا فارتحل الی الشام۔ ’’جب مدینہ کی آبادی سلع پہاڑی تک پہنچ جائے تو تم یہاں سے شام چلے جانا۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 72، صحیح الاسناد) . مال سے متعلق حضرت ابوذر غفاریؓ کا جو موقف سامنے آیا وہ اس آیت کریمہ کے فہم میں حضرت ابوذر غفاریؓ کے اجتہاد کا نتیجہ تھا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَالرُّهۡبَانِ لَيَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ۞ يَّومَ يُحۡمٰى عَلَيۡهَا فِىۡ نَارِ جَهَـنَّمَ فَتُكۡوٰى بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوۡبُهُمۡ وَظُهُوۡرُهُمۡ‌ هٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡنِزُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 34، 35)

ترجمہ: اے ایمان والو! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ جس دن اس دولت کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹیں اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، اب چکھو اس خزانے کا مزہ جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوذر غفاریؓ سے مروی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ آیت کریمہ {یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْہَا} میں وارد وعید کو بیان کر کے لوگوں کو خوف دلاتے تھے، چنانچہ احنف بن قیسؒ سے روایت ہے کہ میں مسجد نبوی میں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا تھا، اتنے میں دیکھا ایک شخص پراگندہ بال اور پھٹی پرانی حالت میں داخل ہوا، اور ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، سلام کیا، پھر کہنے لگا: خزانہ جمع کرنے والوں کو گرم گرم پتھروں کی خوشخبری سنا دو جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان کی چھاتی پر رکھا جائے گا اور وہ ان کے کندھے کی ہڈیوں کے بیچ سے پیچھے نکل جائے گا اور ان کے کندھے کی ہڈیوں پر رکھا جائے گا، پھر وہ شخص پھر کر ایک ستون کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس کے پیچھے گیا اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس کو نہیں پہچانتا تھا، میں نے اس سے کہا: لوگوں نے آپ کی بات کو ناپسند کیا ہے۔ فرمایا: وہ لوگ کچھ سمجھتے نہیں۔

حضرت ابوذر غفاریؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے استدلال کیا:

ما أحب أن یکون لی مثل أحد ذھبا انفقہ کلہ الا ثلاثۃ دنانیر۔

’’میرے پاس اگر احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو میں سب کچھ تین دینار کے علاوہ خرچ کر دوں گا۔‘‘

(البخاری: الزکاۃ: (1407) 

جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم نے مال سے متعلق حضرت ابوذر غفاریؓ کے اس موقف کی مخالفت کی اور اس آیت میں وارد شدہ وعید کو مانعین زکوٰۃ پر محمول کیا، اور حضرت ابوسعید خدریؓ کی اس حدیث سے استدلال کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لیس دون خمس اواق صدقۃ ولیس فیما دون خمس ذود صدقۃ ولیس فیما دون خمسۃ اوسق صدقۃ۔

(البخاری: الزکاۃ: (1405)

’’پانچ اوقیہ (995 گرام) چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق (750 کلو) غلہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔‘‘ حافظ ابن حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اونٹ اگر پانچ سے زیادہ ہیں تو اس میں زکوٰۃ ہے، اور اس کا تقاضا ہے کہ جس مال میں سے زکوٰۃ ادا کر دی گئی تو اس مال والے کے لیے وعید نہیں، لہٰذا زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد جو مال انسان کے پاس بچا رہے اس کو کنز نہیں کہا جا سکتا۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 272)

ابن رشد کا بیان ہے کہ پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ واجب نہیں، وہ زکوٰۃ کے حق سے بری کر دیا گیا ہے، لہٰذا قطعاً اس پر کنز کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا اور اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے والے کی تعریف کی ہے، اور مال کے حق واجب کی ادائیگی پر جس کی تعریف کی گئی ہے، لہٰذا اس مال کی جہت سے جس کی تعریف کی گئی ہے اس کی مذمت نہیں کی جا سکتی۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 107، فتح الباری: جلد 3 صفحہ 272)

حافظ ابن حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس مال میں زکوٰۃ فرض نہ ہو وہ کنز نہیں وہ معفوعنہ ہے، اور جس مال سے زکوٰۃ ادا کر دی گئی وہ بھی معفوعنہ ہے کیوں کہ فرض شدہ زکوٰۃ ادا کر دی گئی، لہٰذا وہ کنز نہیں۔

(فتنہ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 107، فتح الباری: جلد 3 صفحہ 272)

ابن عبدالبر رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

جمہور کے نزدیک مذموم کنز وہ ہے جس کی زکوٰۃ نہ ادا کی جائے اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ مرفوع حدیث شاہد ہے: أذا اویت زکوٰۃ مالک فقد قضیت ما علیک۔ ’’جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی تو تم پر جو فرض تھا اس کو پورا کر دیا۔‘‘ اس کی مخالفت صرف حضرت ابوذر غفاریؓ جیسے زہاد کی ایک جماعت نے کی ہے۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 273) 

شاید انفاق کے سلسلہ میں حضرت ابوذرؓ کے موقف کی تفسیر اس روایت سے ہوتی ہے جسے امام احمد نے شداد بن اوسؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ رسول اللہﷺ سے سنتے جس میں شدت و سختی ہوتی پھر اپنی قوم کے پاس آتے اور ان پر اس سختی کو نافذ کرتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ میں نرمی برتتے اور رخصت عنایت فرماتے لیکن حضرت ابوذر غفاریؓ کو اس کی خبر نہ ہوتی اور وہ اسی سختی پر عمل پیرا ہوتے۔

(المسند: جلد 5 صفحہ 125) 

سیدنا عثمان غنیؓ کا یہ فرمان: ’’اگر تم چاہو تو (مدینہ سے) کسی قریبی علاقہ میں اقامت پذیر ہو جاؤ‘‘ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ سے نرمی کے ساتھ یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ مدینہ سے الگ ہو جائیں، لیکن حضرت ابوذر غفاریؓ نے ان کو حکم نہیں فرمایا تھا اور نہ اس مقام کی تحدید فرمائی تھی۔ اگر حضرت ابوذر غفاریؓ اس سے انکار کر دیتے تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان کو اس پر مجبور نہ کرتے، لیکن حضرت ابوذر غفاریؓ خلیفہ کے مطیع و فرمانبردار تھے کیوں کہ آپ نے حدیث کے آخر میں فرمایا: اگر لوگ حبشی غلام کو خلیفہ بنا دیتے تو میں اس کی سمع و اطاعت کو اختیار کرتا۔

(البخاری: 1406) 

یہ واقعہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے کہ سیدنا ابوذر غفاریؓ اس شخص پر سخت ناراض اور غضب آلود ہوتے جو امام (یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) کے خلاف فتنہ برپا کرتا اور ان کے خروج پر اُبھارتا۔ جیسا کہ ابن سعدؒ نے روایت کیا ہے کہ اہل کوفہ میں سے بعض لوگ حضرت ابوذر غفاریؓ سے ربذہ میں ملے اور ان سے کہا: اس شخص (یعنی عثمان غنیؓ) نے آپ کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، کیا آپ ان کے خلاف جھنڈا نصب کریں گے، یعنی ان سے قتال کریں گے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، اگر امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ مجھے مشرق سے مغرب کی طرف جانے کا حکم دیں تو میں ان کا حکم سنوں گا اور اس کی اطاعت کروں گا۔

(الطبقات: جلد 4 صفحہ 227) 

حضرت ابوذر غفاریؓ کے مدینہ سے علیحدہ ہو جانے، یا حضرت عثمان غنیؓ کا ان سے مدینہ سے باہر چلے جانے کا مطالبہ کرنے کا سبب یہ ہے کہ مختلف صوبوں میں فتنہ نے اپنا سر اٹھانا شروع کر دیا تھا، اور معاندین نے من گھڑت اقوال پھیلانے شروع کر دیے تھے، اور وہ لوگ حضرت ابوذر غفاریؓ کے موقف و رائے سے اپنے پروپیگنڈہ میں استفادہ کرنا چاہتے تھے جب کہ حضرت ابوذرؓ اپنے موقف سے ہٹنے کے لیے تیار نہ تھے، لہٰذا حضرت عثمان غنیؓ نے جلب منفعت پر دفع مفسدت کو مقدم کر نا مناسب سمجھا، حضرت ابوذر غفاریؓ کے مدینہ میں باقی رہنے کی صورت میں عظیم مصلحت ضرور تھی کہ طلبہ کے درمیان ان کے علم کی نشر و اشاعت ہوتی، لیکن مال کے سلسلہ میں ان کے شدید موقف کی وجہ سے جو مفسدت برپا ہوتی اس سے بچنے کو حضرت عثمان غنیؓ نے ترجیح دی کیوں کہ جلب منفعت پر دفع مضرت مقدم ہے۔ حضرت ابوبکر ابن العربی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: حضرت ابوذر غفاریؓ زاہد شخص تھے، وہ جب ایسے لوگوں کو دیکھتے جو فراوانی آنے کے بعد لباس و سواری میں توسع سے کام لے رہے ہیں تو ان پر نکیر کرتے، اور چاہتے کہ یہ سب کچھ لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے حالاں کہ شرعاً یہ چیز لازم نہیں تھی اسی وجہ سے ان کے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان شام میں اختلاف ہوا، پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مدینہ چلے آئے، وہاں لوگوں نے انہیں گھیر لیا سوال و جواب شروع ہو گیا یہاں بھی حضرت ابوذر غفاریؓ نے اپنا سخت موقف اختیار کیا، اس صورت حال میں حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے کہا: کاش آپ لوگوں سے علیحدہ ہو جائیں یعنی آپ جس موقف پر ڈٹے ہیں اس صورت میں لوگوں کے ساتھ آپ کا رہنا مناسب نہیں ہے اور جو بھی حضرت ابوذرؓ کی رائے پر قائم ہو اس کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ معاشرہ سے دور رہ کر اور تنہائی کی زندگی بسر کرے اور اگر معاشرہ میں رہتا ہے تو جس چیز کو شریعت نے حرام نہیں کیا اس کو اختیار کرنے میں آزاد چھوڑے، لہٰذا زہد و فضل کے ساتھ وہ مدینہ سے الگ ہو گئے اور بہت سے فضلاء صحابہ کو چھوڑ دیا وہ سب ہی خیر و برکت اور فضائل پر قائم رہے۔ حضرت ابوذر غفاریؓ کی حالت افضل رہی تمام لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھ سکتے تھے، اگر سبھی ایسا کرتے تو ہلاکت و تباہی سے دوچار ہو جاتے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے لوگوں کے لیے مراتب مقرر کر رکھے ہیں۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 77) 

ابن العربی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ابودرداء اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین اختلاف رونما ہوا، حضرت ابودرداءؓ زاہد فاضل اور شام کے قاضی تھے، جب انہوں نے حق کے سلسلہ میں شدت اختیار کی اور سب کو حضرت عمر بن خطابؓ کے طریقہ پر چلانا چاہا تو لوگ برداشت نہ کر سکے، اور انہیں منصب قضاء سے معزول کر دیا اور وہ مدینہ واپس چلے آئے۔ یہ سب مصالح کی باتیں ہیں، اس سے دین میں کوئی قدح لازم نہیں آتی، اور کسی صورت میں کسی مسلمان کا مقام و مرتبہ اس سے متاثر نہیں ہوتا۔ حضرت ابودرداء اور ابوذر رضی اللہ عنہما ہر عیب سے بری ہیں، اور حضرت عثمان غنیؓ سب سے زیادہ بری اور ہر اتہام سے پاک ہیں، لہٰذا جو یہ بیان کرے کہ انہوں نے حضرت ابوذرؓ کو جلا وطن کیا، اور اس کے لیے وجوہ و اسباب بیان کرے، یہ سب باطل اور من گھڑت باتیں ہیں۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 79) 

حضرت ابوذر غفاریؓ سے کسی صحابی نے یہ نہیں کہا کہ ان کی رائے غلط ہے، کیوں کہ جو اس کی استطاعت رکھتا ہو اس کے لیے قابل تعریف عمل ہے اور نہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اپنی رائے سے رجوع کر لیں آپ نے ان سے صرف یہ مطالبہ کیا کہ جو چیزیں از قبیل مباحات ہیں اس سلسلہ میں لوگوں پر نکیر نہ کریں۔ اور جس نے بھی یہ روایت کیا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو مطلق فتویٰ دینے سے روک دیا تھا اس کی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 223)

اور امام بخاریؒ کے نزدیک جو بات صحیح ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ نے فرمایا: اگر تم تلوار میری اس گردن پر رکھ دو، اور مجھے معلوم ہو کہ میں گردن کٹنے سے قبل وہ بات کہہ سکوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں کہہ دوں گا۔

(البخاری: العلم: باب العلم قبل القول والعمل: جلد 1 صفحہ 29) امام بخاری نے اس قول کو ترجمۃ الباب میں تعلیقاً بغیر سند کے ذکر فرمایا ہے، لیکن دارمی نے موصولاً بیان کیا ہے۔ دیکھیے: فتح الباری: جلد 1 صفحہ 194 (مترجم)

صحیح بخاری میں یہ روایت نہیں ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو فتویٰ دینے سے منع فرمادیا تھا، کیوں کہ صحابی کو بغیر موضوع کی تحدید کے فتویٰ دینے سے روکنا کوئی آسان امر نہیں ہے۔ (المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 224) 

 اگر حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں مطلقاً فتویٰ دینے سے منع کیا ہوتا تو ان کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب فرماتے جہاں وہ لوگوں سے نہ مل سکتے، یا مدینہ میں قید کر دیتے یا مدینہ میں داخلہ بند کر دیتے، لیکن ان کو ایسے مقام پر اقامت پذیر ہونے کی اجازت دی جہاں سے لوگوں کا گزر اکثر ہوتا رہتا تھا، کیوں ربذہ عراقی حجاج کے راستہ میں لوگوں کے اترنے کا ایک مقام تھا نیز حضرت ابوذرؓ برابر مدینہ آتے جاتے رہتے تھے اور مسجد نبوی میں نماز ادا فرماتے تھے، حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے یہ کہا تھا کہ آپ مدینہ سے الگ کسی قریبی مقام پر رہیں، ربذہ مدینہ سے دُور نہیں اس کی چراگاہ مدینہ سے قریب واقع ہے جہاں زکوٰۃ کے اونٹ چرا کرتے تھے، اور بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں زکوٰۃ کے اونٹوں کا ایک ریوڑ اور دو غلام عطا کیے، اور روزینہ جاری کیا، اور ربذہ مکہ کے راستہ میں بہترین منزل تھی۔

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 286)

امام طبریؒ نے ان روایات کو بیان کرنے کے بعد جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے خود اپنی پسند سے مدینہ سے علیحدگی اختیار کی تھی، فرماتے ہیں: دوسرے لوگوں نے اس علیحدگی کے اسباب کے طور پر بہت سی چیزیں اور قبیح باتیں ذکر کی ہیں جن کا ذکر کرنا بھی مجھے پسند نہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 288)

تاریخی حقیقت یہ ہے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو مدینہ سے جلا وطن نہیں کیا تھا، بلکہ خود ان کے طلب کرنے پر اجازت فرمائی تھی، لیکن معاندین نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ آپ نے انہیں مدینہ سے جلا وطن کر دیا، اسی لیے جب غالب قطان نے حضرت حسن بصری رحمۃاللہ سے پوچھا: کیا حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذرؓ کو مدینہ سے نکال دیا تھا؟ تو حسن بصری رحمۃاللہ نے فرمایا: معاذ اللہ (اللہ کی پناہ)۔

(تاریخ المدینۃ: ابن شبۃ: 1037)

اسنادہ صحیح وہ تمام روایات جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو مدینہ سے ربذہ کی طرف جلا وطن کر دیا تھا، ضعیف ہیں، علت قادحہ سے خالی نہیں، اور ساتھ ہی ساتھ ان کے متن میں بھی نکارت ہے، صحیح اور حسن روایات کے مخالف ہیں، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ نے خود ربذہ میں اقامت پذیر ہونے کے لیے اجازت طلب کی تھی، اور ان کی اس طلب پر حضرت عثمانؓ نے انہیں اجازت دے دی تھی۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 110)

بلکہ حضرت عثمان غنیؓ نے خود ان کو شام سے بلایا تھا تاکہ وہ مدینہ میں آپ کے ساتھ رہیں، چنانچہ جب وہ شام سے مدینہ پہنچے تو حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے فرمایا: ہم نے آپ کو شام سے اس لیے بلایا ہے کہ آپ مدینہ میں ہمارے ساتھ رہیں۔

(تاریخ المدینۃ: صفحہ 1036، 1037)

اسنادہ صحیح نیز ان سے فرمایا: آپ ہمارے پاس رہیں آپ کو روزینہ ملتا رہے گا۔

(الطبقات: ابن سعدؒ: جلد 4 صفحہ 226، 227)

غور کریں کہ کیا جلا وطن کرنے والا یہ بات کہے گا؟ اور پھر جلا وطنی پر صراحت صرف ایک روایت میں وارد ہے جسے ابنِ سعدؒ نے روایت کیا ہے، لیکن اس کی سند میں بریدہ بن سفیان اسلمی ہے جس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمۃاللہ نے کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے، اور اس کے اندر رفض کی بدعت پائی جاتی ہے، تو کیا رافضی کی وہ روایت جو صحیح و حسن روایات کے مخالف ہو، قبول کی جائے گی؟

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 111)

رافضیوں نے اس واقعہ کا استغلال بری طرح کیا، اور یہ پروپیگنڈہ کیا کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو ربذہ کی طرف جلا وطن کر دیا، اور آپ کے خلاف خروج کرنے والوں نے اس کی وجہ سے آپ پر تنقید کی، اور آپ کے عیوب ہی کو شمار کیا، اور آپ کے خلاف خروج کے لیے اس کو وجہ جواز قرار دیا۔

(فتنہ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 111)

ابن مطہر حلی رافضی (م 726ھ) نے اس واقعہ کو حضرت عثمانؓ کے عیوب میں شمار کیا اور اس پر مزید یہ اتہام لگایا کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کی بری طرح پٹائی کی۔

(منہاج السنۃ: ابن تیمیۃ: جلد 6 صفحہ 183)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے اس کی پرزور تردید کی ہے۔

(منہاج السنۃ: ابن تیمیۃ: جلد 6 صفحہ 271، 355)

اس امت کے سلف صالحین کو اس حقیقت کا اچھی طرح پتہ تھا اسی لیے جب حضرت حسن بصری رحمۃاللہ سے کہا گیا کہ کیا حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا تھا تو فرمایا: معاذ اللہ (اللہ کی پناہ)۔

(تاریخ المدینۃ: 1037) اسنادہ صحیح)

اور ابن سیرین رحمۃاللہ سے جب کہا جاتا کہ حضرت عثمان غنیؓ نے تو حضرت ابوذر غفاریؓ کو مدینہ سے نکال دیا تھا تو یہ سن کر آپؒ کی حالت خراب ہو جاتی، اور فرماتے: آپ خود نکل گئے تھے، حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو نہیں نکالا تھا۔

(تاریخ المدینۃ: 1037) اسنادہ صحیح)

اور جیسا کہ صحیح روایت گزر چکی ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ نے جب کثرت سے لوگوں کو اپنے پاس جمع ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ کو فتنہ کا خطرہ محسوس ہوا، اور آپ نے اس کا ذکر حضرت عثمان غنیؓ سے مدینہ سے باہر سکونت اختیار کرنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کیا، تو سیدنا عثمان غنیؓ نے فرمایا: اگر چاہیں تو مدینہ سے قریب ہی میں کہیں سکونت اختیار کر لیں۔

(البخاری: الزکاۃ: 1406)