حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین…

حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین تعلقات کی حقیقت خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

حضرت ابوذرؓ کا فرمانا کہ ’’میں شام میں تھا‘‘ شام میں آپ کے اقامت پذیر ہونے کا سبب اس روایت سے معلوم ہوتا ہے جسے ابو یعلی نے زید بن وہب سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوذر غفاریؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ : اذا بلغ البناء سلعنا فارتحل الی الشام۔ ’’جب مدینہ کی آبادی سلع پہاڑی تک پہنچ جائے تو تم یہاں سے شام چلے جانا۔‘‘ تو جب سلع تک مدینہ کی آبادی پہنچ گئی تو میں شام چلا گیا اور وہاں سکونت اختیار کر لی۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 219)

اور ایک روایت میں ہے کہ ام ذر رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم حضرت عثمان غنیؓ نے ربذہ کی طرف جلا وطن نہیں کیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا تھا: اذا بلغ البناء سلعنا فارتحل الی الشام۔ ’’جب مدینہ کی آبادی سلع پہاڑی تک پہنچ جائے تو تم یہاں سے شام چلے جانا۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 72، صحیح الاسناد) . مال سے متعلق حضرت ابوذر غفاریؓ کا جو موقف سامنے آیا وہ اس آیت کریمہ کے فہم میں حضرت ابوذر غفاریؓ کے اجتہاد کا نتیجہ تھا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَالرُّهۡبَانِ لَيَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ۞ يَّومَ يُحۡمٰى عَلَيۡهَا فِىۡ نَارِ جَهَـنَّمَ فَتُكۡوٰى بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوۡبُهُمۡ وَظُهُوۡرُهُمۡ‌ هٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡنِزُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 34، 35)

ترجمہ: اے ایمان والو! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ جس دن اس دولت کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹیں اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، اب چکھو اس خزانے کا مزہ جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوذر غفاریؓ سے مروی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ آیت کریمہ {یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْہَا} میں وارد وعید کو بیان کر کے لوگوں کو خوف دلاتے تھے، چنانچہ احنف بن قیسؒ سے روایت ہے کہ میں مسجد نبوی میں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا تھا، اتنے میں دیکھا ایک شخص پراگندہ بال اور پھٹی پرانی حالت میں داخل ہوا، اور ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، سلام کیا، پھر کہنے لگا: خزانہ جمع کرنے والوں کو گرم گرم پتھروں کی خوشخبری سنا دو جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان کی چھاتی پر رکھا جائے گا اور وہ ان کے کندھے کی ہڈیوں کے بیچ سے پیچھے نکل جائے گا اور ان کے کندھے کی ہڈیوں پر رکھا جائے گا، پھر وہ شخص پھر کر ایک ستون کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس کے پیچھے گیا اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس کو نہیں پہچانتا تھا، میں نے اس سے کہا: لوگوں نے آپ کی بات کو ناپسند کیا ہے۔ فرمایا: وہ لوگ کچھ سمجھتے نہیں۔

حضرت ابوذر غفاریؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے استدلال کیا:

ما أحب أن یکون لی مثل أحد ذھبا انفقہ کلہ الا ثلاثۃ دنانیر۔

’’میرے پاس اگر احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو میں سب کچھ تین دینار کے علاوہ خرچ کر دوں گا۔‘‘

(البخاری: الزکاۃ: (1407) 

جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم نے مال سے متعلق حضرت ابوذر غفاریؓ کے اس موقف کی مخالفت کی اور اس آیت میں وارد شدہ وعید کو مانعین زکوٰۃ پر محمول کیا، اور حضرت ابوسعید خدریؓ کی اس حدیث سے استدلال کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لیس دون خمس اواق صدقۃ ولیس فیما دون خمس ذود صدقۃ ولیس فیما دون خمسۃ اوسق صدقۃ۔

(البخاری: الزکاۃ: (1405)

’’پانچ اوقیہ (995 گرام) چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق (750 کلو) غلہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔‘‘ حافظ ابن حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اونٹ اگر پانچ سے زیادہ ہیں تو اس میں زکوٰۃ ہے، اور اس کا تقاضا ہے کہ جس مال میں سے زکوٰۃ ادا کر دی گئی تو اس مال والے کے لیے وعید نہیں، لہٰذا زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد جو مال انسان کے پاس بچا رہے اس کو کنز نہیں کہا جا سکتا۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 272)

ابن رشد کا بیان ہے کہ پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ واجب نہیں، وہ زکوٰۃ کے حق سے بری کر دیا گیا ہے، لہٰذا قطعاً اس پر کنز کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا اور اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے والے کی تعریف کی ہے، اور مال کے حق واجب کی ادائیگی پر جس کی تعریف کی گئی ہے، لہٰذا اس مال کی جہت سے جس کی تعریف کی گئی ہے اس کی مذمت نہیں کی جا سکتی۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 107، فتح الباری: جلد 3 صفحہ 272)

حافظ ابن حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس مال میں زکوٰۃ فرض نہ ہو وہ کنز نہیں وہ معفوعنہ ہے، اور جس مال سے زکوٰۃ ادا کر دی گئی وہ بھی معفوعنہ ہے کیوں کہ فرض شدہ زکوٰۃ ادا کر دی گئی، لہٰذا وہ کنز نہیں۔

(فتنہ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 107، فتح الباری: جلد 3 صفحہ 272)

ابن عبدالبر رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

جمہور کے نزدیک مذموم کنز وہ ہے جس کی زکوٰۃ نہ ادا کی جائے اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ مرفوع حدیث شاہد ہے: أذا اویت زکوٰۃ مالک فقد قضیت ما علیک۔ ’’جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی تو تم پر جو فرض تھا اس کو پورا کر دیا۔‘‘ اس کی مخالفت صرف حضرت ابوذر غفاریؓ جیسے زہاد کی ایک جماعت نے کی ہے۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 273) 

صفحہ 2 از 4