حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین…

حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین تعلقات کی حقیقت خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

شاید انفاق کے سلسلہ میں حضرت ابوذرؓ کے موقف کی تفسیر اس روایت سے ہوتی ہے جسے امام احمد نے شداد بن اوسؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ رسول اللہﷺ سے سنتے جس میں شدت و سختی ہوتی پھر اپنی قوم کے پاس آتے اور ان پر اس سختی کو نافذ کرتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ میں نرمی برتتے اور رخصت عنایت فرماتے لیکن حضرت ابوذر غفاریؓ کو اس کی خبر نہ ہوتی اور وہ اسی سختی پر عمل پیرا ہوتے۔

(المسند: جلد 5 صفحہ 125) 

سیدنا عثمان غنیؓ کا یہ فرمان: ’’اگر تم چاہو تو (مدینہ سے) کسی قریبی علاقہ میں اقامت پذیر ہو جاؤ‘‘ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ سے نرمی کے ساتھ یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ مدینہ سے الگ ہو جائیں، لیکن حضرت ابوذر غفاریؓ نے ان کو حکم نہیں فرمایا تھا اور نہ اس مقام کی تحدید فرمائی تھی۔ اگر حضرت ابوذر غفاریؓ اس سے انکار کر دیتے تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان کو اس پر مجبور نہ کرتے، لیکن حضرت ابوذر غفاریؓ خلیفہ کے مطیع و فرمانبردار تھے کیوں کہ آپ نے حدیث کے آخر میں فرمایا: اگر لوگ حبشی غلام کو خلیفہ بنا دیتے تو میں اس کی سمع و اطاعت کو اختیار کرتا۔

(البخاری: 1406) 

یہ واقعہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے کہ سیدنا ابوذر غفاریؓ اس شخص پر سخت ناراض اور غضب آلود ہوتے جو امام (یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ) کے خلاف فتنہ برپا کرتا اور ان کے خروج پر اُبھارتا۔ جیسا کہ ابن سعدؒ نے روایت کیا ہے کہ اہل کوفہ میں سے بعض لوگ حضرت ابوذر غفاریؓ سے ربذہ میں ملے اور ان سے کہا: اس شخص (یعنی عثمان غنیؓ) نے آپ کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، کیا آپ ان کے خلاف جھنڈا نصب کریں گے، یعنی ان سے قتال کریں گے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، اگر امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ مجھے مشرق سے مغرب کی طرف جانے کا حکم دیں تو میں ان کا حکم سنوں گا اور اس کی اطاعت کروں گا۔

(الطبقات: جلد 4 صفحہ 227) 

حضرت ابوذر غفاریؓ کے مدینہ سے علیحدہ ہو جانے، یا حضرت عثمان غنیؓ کا ان سے مدینہ سے باہر چلے جانے کا مطالبہ کرنے کا سبب یہ ہے کہ مختلف صوبوں میں فتنہ نے اپنا سر اٹھانا شروع کر دیا تھا، اور معاندین نے من گھڑت اقوال پھیلانے شروع کر دیے تھے، اور وہ لوگ حضرت ابوذر غفاریؓ کے موقف و رائے سے اپنے پروپیگنڈہ میں استفادہ کرنا چاہتے تھے جب کہ حضرت ابوذرؓ اپنے موقف سے ہٹنے کے لیے تیار نہ تھے، لہٰذا حضرت عثمان غنیؓ نے جلب منفعت پر دفع مفسدت کو مقدم کر نا مناسب سمجھا، حضرت ابوذر غفاریؓ کے مدینہ میں باقی رہنے کی صورت میں عظیم مصلحت ضرور تھی کہ طلبہ کے درمیان ان کے علم کی نشر و اشاعت ہوتی، لیکن مال کے سلسلہ میں ان کے شدید موقف کی وجہ سے جو مفسدت برپا ہوتی اس سے بچنے کو حضرت عثمان غنیؓ نے ترجیح دی کیوں کہ جلب منفعت پر دفع مضرت مقدم ہے۔ حضرت ابوبکر ابن العربی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: حضرت ابوذر غفاریؓ زاہد شخص تھے، وہ جب ایسے لوگوں کو دیکھتے جو فراوانی آنے کے بعد لباس و سواری میں توسع سے کام لے رہے ہیں تو ان پر نکیر کرتے، اور چاہتے کہ یہ سب کچھ لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے حالاں کہ شرعاً یہ چیز لازم نہیں تھی اسی وجہ سے ان کے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان شام میں اختلاف ہوا، پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مدینہ چلے آئے، وہاں لوگوں نے انہیں گھیر لیا سوال و جواب شروع ہو گیا یہاں بھی حضرت ابوذر غفاریؓ نے اپنا سخت موقف اختیار کیا، اس صورت حال میں حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے کہا: کاش آپ لوگوں سے علیحدہ ہو جائیں یعنی آپ جس موقف پر ڈٹے ہیں اس صورت میں لوگوں کے ساتھ آپ کا رہنا مناسب نہیں ہے اور جو بھی حضرت ابوذرؓ کی رائے پر قائم ہو اس کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ معاشرہ سے دور رہ کر اور تنہائی کی زندگی بسر کرے اور اگر معاشرہ میں رہتا ہے تو جس چیز کو شریعت نے حرام نہیں کیا اس کو اختیار کرنے میں آزاد چھوڑے، لہٰذا زہد و فضل کے ساتھ وہ مدینہ سے الگ ہو گئے اور بہت سے فضلاء صحابہ کو چھوڑ دیا وہ سب ہی خیر و برکت اور فضائل پر قائم رہے۔ حضرت ابوذر غفاریؓ کی حالت افضل رہی تمام لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھ سکتے تھے، اگر سبھی ایسا کرتے تو ہلاکت و تباہی سے دوچار ہو جاتے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے لوگوں کے لیے مراتب مقرر کر رکھے ہیں۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 77) 

ابن العربی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: ابودرداء اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین اختلاف رونما ہوا، حضرت ابودرداءؓ زاہد فاضل اور شام کے قاضی تھے، جب انہوں نے حق کے سلسلہ میں شدت اختیار کی اور سب کو حضرت عمر بن خطابؓ کے طریقہ پر چلانا چاہا تو لوگ برداشت نہ کر سکے، اور انہیں منصب قضاء سے معزول کر دیا اور وہ مدینہ واپس چلے آئے۔ یہ سب مصالح کی باتیں ہیں، اس سے دین میں کوئی قدح لازم نہیں آتی، اور کسی صورت میں کسی مسلمان کا مقام و مرتبہ اس سے متاثر نہیں ہوتا۔ حضرت ابودرداء اور ابوذر رضی اللہ عنہما ہر عیب سے بری ہیں، اور حضرت عثمان غنیؓ سب سے زیادہ بری اور ہر اتہام سے پاک ہیں، لہٰذا جو یہ بیان کرے کہ انہوں نے حضرت ابوذرؓ کو جلا وطن کیا، اور اس کے لیے وجوہ و اسباب بیان کرے، یہ سب باطل اور من گھڑت باتیں ہیں۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 79) 

حضرت ابوذر غفاریؓ سے کسی صحابی نے یہ نہیں کہا کہ ان کی رائے غلط ہے، کیوں کہ جو اس کی استطاعت رکھتا ہو اس کے لیے قابل تعریف عمل ہے اور نہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اپنی رائے سے رجوع کر لیں آپ نے ان سے صرف یہ مطالبہ کیا کہ جو چیزیں از قبیل مباحات ہیں اس سلسلہ میں لوگوں پر نکیر نہ کریں۔ اور جس نے بھی یہ روایت کیا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو مطلق فتویٰ دینے سے روک دیا تھا اس کی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔

(المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 223)

صفحہ 3 از 4