حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین…

حضرت ابوذر غفاری اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین تعلقات کی حقیقت خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

اور امام بخاریؒ کے نزدیک جو بات صحیح ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ نے فرمایا: اگر تم تلوار میری اس گردن پر رکھ دو، اور مجھے معلوم ہو کہ میں گردن کٹنے سے قبل وہ بات کہہ سکوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں کہہ دوں گا۔

(البخاری: العلم: باب العلم قبل القول والعمل: جلد 1 صفحہ 29) امام بخاری نے اس قول کو ترجمۃ الباب میں تعلیقاً بغیر سند کے ذکر فرمایا ہے، لیکن دارمی نے موصولاً بیان کیا ہے۔ دیکھیے: فتح الباری: جلد 1 صفحہ 194 (مترجم)

صحیح بخاری میں یہ روایت نہیں ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو فتویٰ دینے سے منع فرمادیا تھا، کیوں کہ صحابی کو بغیر موضوع کی تحدید کے فتویٰ دینے سے روکنا کوئی آسان امر نہیں ہے۔ (المدینۃ المنورۃ فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 224) 

 اگر حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں مطلقاً فتویٰ دینے سے منع کیا ہوتا تو ان کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب فرماتے جہاں وہ لوگوں سے نہ مل سکتے، یا مدینہ میں قید کر دیتے یا مدینہ میں داخلہ بند کر دیتے، لیکن ان کو ایسے مقام پر اقامت پذیر ہونے کی اجازت دی جہاں سے لوگوں کا گزر اکثر ہوتا رہتا تھا، کیوں ربذہ عراقی حجاج کے راستہ میں لوگوں کے اترنے کا ایک مقام تھا نیز حضرت ابوذرؓ برابر مدینہ آتے جاتے رہتے تھے اور مسجد نبوی میں نماز ادا فرماتے تھے، حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے یہ کہا تھا کہ آپ مدینہ سے الگ کسی قریبی مقام پر رہیں، ربذہ مدینہ سے دُور نہیں اس کی چراگاہ مدینہ سے قریب واقع ہے جہاں زکوٰۃ کے اونٹ چرا کرتے تھے، اور بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں زکوٰۃ کے اونٹوں کا ایک ریوڑ اور دو غلام عطا کیے، اور روزینہ جاری کیا، اور ربذہ مکہ کے راستہ میں بہترین منزل تھی۔

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 286)

امام طبریؒ نے ان روایات کو بیان کرنے کے بعد جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے خود اپنی پسند سے مدینہ سے علیحدگی اختیار کی تھی، فرماتے ہیں: دوسرے لوگوں نے اس علیحدگی کے اسباب کے طور پر بہت سی چیزیں اور قبیح باتیں ذکر کی ہیں جن کا ذکر کرنا بھی مجھے پسند نہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 288)

تاریخی حقیقت یہ ہے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو مدینہ سے جلا وطن نہیں کیا تھا، بلکہ خود ان کے طلب کرنے پر اجازت فرمائی تھی، لیکن معاندین نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ آپ نے انہیں مدینہ سے جلا وطن کر دیا، اسی لیے جب غالب قطان نے حضرت حسن بصری رحمۃاللہ سے پوچھا: کیا حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذرؓ کو مدینہ سے نکال دیا تھا؟ تو حسن بصری رحمۃاللہ نے فرمایا: معاذ اللہ (اللہ کی پناہ)۔

(تاریخ المدینۃ: ابن شبۃ: 1037)

اسنادہ صحیح وہ تمام روایات جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو مدینہ سے ربذہ کی طرف جلا وطن کر دیا تھا، ضعیف ہیں، علت قادحہ سے خالی نہیں، اور ساتھ ہی ساتھ ان کے متن میں بھی نکارت ہے، صحیح اور حسن روایات کے مخالف ہیں، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ نے خود ربذہ میں اقامت پذیر ہونے کے لیے اجازت طلب کی تھی، اور ان کی اس طلب پر حضرت عثمانؓ نے انہیں اجازت دے دی تھی۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 110)

بلکہ حضرت عثمان غنیؓ نے خود ان کو شام سے بلایا تھا تاکہ وہ مدینہ میں آپ کے ساتھ رہیں، چنانچہ جب وہ شام سے مدینہ پہنچے تو حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے فرمایا: ہم نے آپ کو شام سے اس لیے بلایا ہے کہ آپ مدینہ میں ہمارے ساتھ رہیں۔

(تاریخ المدینۃ: صفحہ 1036، 1037)

اسنادہ صحیح نیز ان سے فرمایا: آپ ہمارے پاس رہیں آپ کو روزینہ ملتا رہے گا۔

(الطبقات: ابن سعدؒ: جلد 4 صفحہ 226، 227)

غور کریں کہ کیا جلا وطن کرنے والا یہ بات کہے گا؟ اور پھر جلا وطنی پر صراحت صرف ایک روایت میں وارد ہے جسے ابنِ سعدؒ نے روایت کیا ہے، لیکن اس کی سند میں بریدہ بن سفیان اسلمی ہے جس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمۃاللہ نے کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے، اور اس کے اندر رفض کی بدعت پائی جاتی ہے، تو کیا رافضی کی وہ روایت جو صحیح و حسن روایات کے مخالف ہو، قبول کی جائے گی؟

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 111)

رافضیوں نے اس واقعہ کا استغلال بری طرح کیا، اور یہ پروپیگنڈہ کیا کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو ربذہ کی طرف جلا وطن کر دیا، اور آپ کے خلاف خروج کرنے والوں نے اس کی وجہ سے آپ پر تنقید کی، اور آپ کے عیوب ہی کو شمار کیا، اور آپ کے خلاف خروج کے لیے اس کو وجہ جواز قرار دیا۔

(فتنہ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 111)

ابن مطہر حلی رافضی (م 726ھ) نے اس واقعہ کو حضرت عثمانؓ کے عیوب میں شمار کیا اور اس پر مزید یہ اتہام لگایا کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کی بری طرح پٹائی کی۔

(منہاج السنۃ: ابن تیمیۃ: جلد 6 صفحہ 183)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے اس کی پرزور تردید کی ہے۔

(منہاج السنۃ: ابن تیمیۃ: جلد 6 صفحہ 271، 355)

اس امت کے سلف صالحین کو اس حقیقت کا اچھی طرح پتہ تھا اسی لیے جب حضرت حسن بصری رحمۃاللہ سے کہا گیا کہ کیا حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا تھا تو فرمایا: معاذ اللہ (اللہ کی پناہ)۔

(تاریخ المدینۃ: 1037) اسنادہ صحیح)

اور ابن سیرین رحمۃاللہ سے جب کہا جاتا کہ حضرت عثمان غنیؓ نے تو حضرت ابوذر غفاریؓ کو مدینہ سے نکال دیا تھا تو یہ سن کر آپؒ کی حالت خراب ہو جاتی، اور فرماتے: آپ خود نکل گئے تھے، حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو نہیں نکالا تھا۔

(تاریخ المدینۃ: 1037) اسنادہ صحیح)

اور جیسا کہ صحیح روایت گزر چکی ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ نے جب کثرت سے لوگوں کو اپنے پاس جمع ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ کو فتنہ کا خطرہ محسوس ہوا، اور آپ نے اس کا ذکر حضرت عثمان غنیؓ سے مدینہ سے باہر سکونت اختیار کرنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کیا، تو سیدنا عثمان غنیؓ نے فرمایا: اگر چاہیں تو مدینہ سے قریب ہی میں کہیں سکونت اختیار کر لیں۔

(البخاری: الزکاۃ: 1406)


صفحہ 4 از 4