رئیس المناظرین حضرت مولانا ابو الفضل مولوی محمد کرم الدین دبیر رحمۃاللہ ساکن بھیس ضلع جہلم کا فتویٰ
سوال: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو قذف کرنے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اصحابِ رسول نہ سمجھنے والا، حضورﷺ کی دوسری بیٹیوں کو سوائے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نہ ماننے والا موجودہ قرآن کا منکر اور اس کو محرف تبدیل شدہ کہنے والے لوگوں کو دینِ حق اہلِ سنت و الجماعت سے ہٹانے والا کافر ہے یا نہیں؟
ایسے شخص سے رشتہ داری نکاح کرنا ان سے دوستی اور یارانہ لگانا ایسے لوگوں کے عرسوں میں شرکت کرنا شادی اور غمی میں ان سے شرکت کرنا ان سے مل کر کھانا اور پینا بطورِ دوستی بھائی بندی جائز ہے یا نہیں؟
اور جو شخص ایسے لوگوں سے محبت و پیار کرے اس سے برتاؤ اور سلوک جائز ہے یا نہیں جوابِ شافی دے کر پوری تسلی فرمائیں؟
جواب: جس شخص یا فرقہ میں یہ اوصاف ہوں جو سوال میں مذکور ہیں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ایسے شخص یا گمراہ فرقے سے حسبِ اقتضائے الحب للہ و بغض للہ خلط ملط اور راہ و رسم رکھنا منع ہے۔
حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کو برا کہنے والا جمہورُ المسلمین کے نزدیک کافر ہے اور قرآنِ کریم کا منکر اور تحریف کنندہ بھی مسلمانی سے خارج ہے باقی امور کا بھی یہی جواب ہے ایسے لوگوں سے برتاؤ کرنا اور اتحاد رکھنا بالکل ممنوع ہے۔
(آفتابِ ہدایت ردِ رفض و بدعت: صفحہئیس المناظرین حضرت مولانا ابو الفضل مولوی محمد کرم الدین دبیر رحمۃاللہ ساکن بھیس ضلع جہلم کا فتویٰ، 374)