فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے نتیجہ میں جنگ جمل و…

فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے نتیجہ میں جنگ جمل و صفین کے حالات کی تحقیق کی اہمیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

اکثر سلف اور علمائے امت سے یہی منقول ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات کی تفاصیل میں بحث و کرید سے توقف کیا جائے، اور اس کو اللہ کے حوالے چھوڑ کر ان کے لیے اللہ کی رضا کی دعا کی جائے اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ یہ سب مجتہد تھے اور ان شاء اللہ اجر کے مستحق ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع اور زبان درازی سے پرہیز کیا جائے کیوں کہ اس سے شریعت پر طعن لازم آتا ہے اس وجہ سے کہ وہی اس شریعت کے حاملین ہیں، اور انہی کے واسطہ سے یہ دین ہم تک پہنچا ہے، چنانچہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ سے اہل صفین سے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اس خون سے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے تو میں اپنی زبان کو اس میں ملوث کرنا پسند نہیں کرتا۔ 

(حلیۃ الاولیاء: جلد 9 صفحہ 114)، عون المعبود: جلد 12 صفحہ 274)

اور بعض اسلاف سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو جواب میں یہ آیت کریمہ پیش کر دی: 

تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 134)

ترجمہ: وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے۔

اس ممانعت کی ایک وجہ ہے اور وہ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کا خوف، تاکہ اس سے اللہ کا غضب حاصل نہ ہو، اور جب یہ سبب زائل ہو جائے تو پھر بظاہر اس میں کوئی حرج نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونما ہونے والے اختلافات سے متعلق ایسی تحقیق جس سے ان پر مطلقاً طعن و تشنیع لازم نہ آئے، تو پھر کوئی حرج نہیں کہ اس کے اسباب و دوافع، تفصیلات و نتائج، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد کے معاشرہ پر اس کے اثرات سے متعلق بحث و تحقیق کی جائے۔ چنانچہ ابنِ کثیرؒ اور طبریؒ وغیرہ نے اسلامی تاریخ کے اس نازک دور سے متعلق بہت کچھ تحریر کیا، اور اس فتنہ سے متعلق بہت سے امور و قضایا کی تفصیلات بیان کی ہیں، جب کہ ان میں سے کچھ علماء تو وہ ہیں جنھوں نے طرفین یا طرفین میں سے کسی ایک کو مورد الزام ٹھہرایا اور ان روایات اور نصوص پر اعتماد کیا جس میں صحیح اور غلط سب گڈمڈ ہیں۔

(احداث واحادیث فتنۃ الہرج: دیکھیے۔ عبدالعزیز دیکھیے: خان: صفحہ 79)

ایسے اسباب و وجوہ آج پائے جاتے ہیں جو اہل سنت کے علماء و طلبہ کو اس فتنہ کی گہرائیوں میں غوطہ زنی اور اس کی تفصیلات میں بحث و تحقیق کی دعوت دیتے ہیں، من جملہ ان اسباب کے یہ ہیں:

دور حاضر کی وہ تالیفات جو صحابہ و تابعین کے درمیان فتنہ کے واقعات پر مشتمل ہیں وہ تین طرح کی ہیں:

1: وہ کتب و مؤلفات جن کے مصنفین کی تربیت اسلامی تاریخ سے بغض و عناد سے پر ہے اور وہ مغربی افکار کے سائے میں پلے بڑھے اور یا وہ اسلامی تاریخ سے جاہل ہیں، ان لوگوں نے اسلامی تاریخ میں کوئی اچھی چیز نہیں دیکھی، پھر صحابہ و تابعین پر زبان طعن و تشنیع دراز کی اور ان دشمنانِ اسلام کے اہداف کی خدمت کی جنھوں نے اس فتنہ اور اس کی تفصیلات پر ریسرچ کر کے اس کی ایسی تفسیر پیش کی ہے جو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسلام کو اس کے اصول میں مطعون قرار دیتی ہے، اور ان واقعات کو جاہ و منصب اور کرسی کے حصول کے لیے سیاسی جنگ قرار دیتی ہے، جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے ایمان و تقویٰ اور صدق مع اللہ سے عاری اور طالب دنیا اور لیڈری کے شوقین نظر آتے ہیں۔ ریاست و قیادت کی خاطر اس کی پروا نہیں کہ لوگوں کے خون بہیں، ان کی جانیں ضائع ہوں، بر سر بازار ان کی عزتیں نیلام ہوں، اور حرمتیں پامال ہوں۔ اس بہتان عظیم کی زمام کار جس نے سنبھالی اس میں سر فہرست طہٰ حسین ہے، اس نے اپنی ناپاک کتاب ’’الفتنۃ الکبریٰ‘‘

(دیکھیے: الفتنۃ الکبریٰ: عثمان علی و بنوہ)

میں یہی کچھ کیا ہے۔ حقیقت میں یہ کتاب مسلم نوجوان کی عقلوں کے لیے اسم بامسمٰی عظیم فتنہ ہے۔ طہٰ حسین نے اس کتاب کے اندر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبان طعن و تشنیع دراز کی ہے، ان کی نیتوں سے متعلق شکوک پیدا کیے ہیں، اور اعدائے اسلام کی خدمت کی خاطر ان پر ناپاک اتہامات لگائے ہیں۔ 

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 80)

طہٰ حسین کے منہج سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے۔ بظاہر ان حضرات نے ان تاریخی روایات پر کلی اعتماد کیا جسے طبریؒ اور ابن عساکرؒ جیسے مؤرخین نے جمع کر دیا ہے، جس میں جھوٹ و سچ، غلط و صحیح سب گڈمڈ ہے، انہوں نے ان مؤرخین کے منہج کا خیال کیے بغیر ان سے روایات نقل کر لیں جو بہت بڑی غلطی ہے۔

(ایضاً)

اسی طرح یہ حضرات اپنی تالیفات میں رافضی فکر اور اسلامی تاریخ سے متعلق شیعی تالیفات سے متاثر ہیں۔

(احداث واحادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 80)

روافض نے اپنی تالیفات میں اسلامی تاریخ کا جنازہ نکالا ہے، جیسا کہ کلبی (یہ محمد بن سائب کلبی ہے ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ ان سبائیوں میں سے تھا جو اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت علیؓ نے وفات نہیں پائی ہے، اور وہ دوبارہ دنیا میں لوٹ کر آئیں گے۔ اس کی وفات 146ھ میں ہوئی۔ دیکھیے: میزان الاعتدال للذہبی: جلد 3 صفحہ 558، الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 7 صفحہ 270 ،271)

 ابو مخنف (یہ لوط بن یحییٰ بن سعید بن مخنف الازدی ہے۔ کوفیوں میں سے تھا۔ ابن عدی کہتے ہیں: یہ کٹر شیعی تھا، مؤرخ تھا، 157ھ میں وفات ہوئی، اس کی بہت سی تصنیفات ہیں مثلاً: الردۃ: الجمل: صفین: وغیرہ۔

اور نصر بن مزاحم المنقری (یہ نصر بن مزاحم بن سیار المنقری الکوفی ہے۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: یہ کٹر رافضی تھا، محدثین نے اس کو متروک قرار دیا ہے، اس کی وفات 211ھ میں ہوئی اس کی تصنیفات میں وقعتہ صفین مطبوع ہے، اور الجمل، مقتل الحسین بھی اس کی تالیفات میں سے ہیں۔ دیکھیے: میزان الاعتدال: جلد 4 صفحہ 253) 

کی روایات میں ہے۔ واضح رہے کہ یہ بات تاریخ طبری میں بھی پائی جاتی ہے، لیکن طبری نے ان روایات کو سند کے ساتھ ذکر کیا ہے تاکہ اہل علم پر ان روایات کی حقیقت مخفی نہ رہے۔

(اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ: ناصر الغفاری: جلد 3 صفحہ 1457)

صفحہ 1 از 3