فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے نتیجہ میں جنگ جمل و…

فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے نتیجہ میں جنگ جمل و صفین کے حالات کی تحقیق کی اہمیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اسی طرح مسعودی کی مروج الذہب اور یعقوبی کی تاریخ اس طرح کی روایات سے بھری پڑی ہیں۔ علامہ محب الدین خطیب رحمۃاللہ نے العواصم من القواصم کی تعلیق میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ تاریخ کی تدوین کا آغاز خلافت بنو امیہ کے بعد ہوا ہے، اور تشیع کی چادر تلے باطنی اور شعوبی ہاتھوں کا خیر کے نقوش کو میٹنے اور روشن صفحاتِ تاریخ کو سیاہ کرنے میں عظیم کردار رہا ہے۔

(ایضاً)

یہ مکر و جعل سازی اس شخص پر منکشف ہو جاتی ہے جو ابن العربی کی کتاب العواصم من القواصم کا مطالعہ، علامہ محب الدین خطیبؒ کی تعلیقات کے ساتھ کرتا ہے۔ رافضی علماء نے بشریت کی تاریخ میں افضل ترین لوگوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم سے ہزاروں صفحات سیاہ کر رکھے ہیں، اور مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کے لیے اپنا پورا وقت اور ساری کوشش صرف کر دی ہے۔

(اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ: ناصر الغفاری: جلد 3 صفحہ 1459)

یہ رافضی مواد جس سے کتب تواریخ بھری پڑی ہیں آپ کو شیعی کتب حدیث مثلاً الکافی، البحار، اور علماء شیعہ کی لکھی ہوئی قدیم کتب مثلاً ’’احقاق حق‘‘ اور جدید کتب مثلاً ’’کتاب الغدیر‘‘ میں ملیں گی۔ اور اعدائے اسلام مستشرقین وغیرہ نے اسلام کے خلاف جو کچھ لکھا ہے یہی شیعی روایات و کتب ان کا مرجع رہی ہیں، روحانی حیثیت سے شکست خوردہ نسل جب آئی تو اس نے اپنے لیے یورپ کو اپنا قدوہ و اسوہ بنایا اور جو کچھ استشراقی قلموں نے تحریر کیا تھا ان مغربیت زدہ حضرات نے اسے ہضم کیا اور اسی کو اپنی اصل و اساس قرار دے کر ان کے افکار و شبہات کو اسلامی ممالک میں پھیلانے میں لگ گئے۔ مسلمانوں کے افکار و ثقافت پر اس کا بہت برا اثر پڑا۔ ان تمام برائیوں کی اصل رفض و تشیع رہی، مستشرقین کے آراء و افکار اور تشیع کے ساتھ ان کے تعلق کا تحقیقی مطالعہ اہم ترین موضوع ہے، اور وہ تحقیق و بحث کا مستحق ہے۔ علامہ ابن حزم (ت 456ھ) کے دور سے ہی روافض کے شبہات و اکاذیب اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف ان کی افترا پردازیوں سے دشمن کافر نے استفادہ شروع کر دیا تھا۔

(اصول مذہب الشیعہ الامامیۃ الاثنی عشریۃ: جلد 3 صفحہ 1459)

ب: بعض معاصر علمائے امت کی تصنیفات جو بالجملہ مفید ہیں

(یہ کسی حیثیت سے بھی مفید نہیں ہیں بلکہ شیعی کتب سے بھی زیادہ مضر ہیں اور اعدائے اسلام اور روافض کے لیے بہترین ہتھیار کا کام دیتی ہیں جو اہل سنت کے خلاف استعمال کرتے ہیں کیوں کہ ان کے مصنفین اپنے آپ کو اہل سنت کہتے ہیں۔) (مترجم)

 لیکن واقعات کو پیش کرنے کا طریقہ اور بعض صحابہ و تابعین کے مواقف کی تفسیر میں بہت زیادہ نا انصافی ہے مثلاً ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃاللہ کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘

(اس کتاب کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت‘‘ کا مطالعہ ضروری ہے۔) (مترجم)

اور محمد ابوزہرہ رحمۃاللہ کی کتاب ’’تاریخ الامم الاسلامیۃ‘‘ اور ’’الامام زید بن علی‘‘۔ یہ کتابیں بعض صحابہ پر حملوں اور بنو امیہ پر طعن و تشنیع سے بھری ہیں، انہیں خصائل حمیدہ اور عمل صالح سے عاری قرار دیا گیا ہے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 81) 

ظاہر ہوتا ہے کہ ان علماء نے تاریخی روایات کی تحقیق سے کام نہیں لیا، اور رافضی و شیعی روایات کو اختیار کر لیا، انہی پر اپنی تحقیق و تجزیہ کی بنیاد رکھی۔ اللہ انہیں اور ہمیں معاف فرمائے۔ 

ج: وہ تالیفات جس کے مؤلفین نے تاریخی روایات کے نقد کے سلسلہ میں علمائے جرح و تعدیل کا منہج اختیار کیا ہے، اور صحیح و ضعیف میں تمیز کی خاطر سند و متن کے سلسلہ میں انہیں محدثین کے اصولوں پر جانچا ہے، یہ تالیفات قابل قدر اور بہترین کوشش ہیں۔ اس طرح ان کتابوں سے اس باطل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان تاریخی واقعات کی صحیح تفسیر سامنے آ سکتی ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضل و ایمان اور جہاد سے متعارض نہیں۔

(ایضاً)

ان بہترین تالیفات میں ڈاکٹر یوسف العش کی ’’تاریخ الدولۃ الامویۃ‘‘ ابوبکر ابن العربی کی کتاب ’’العواصم من القواصم‘‘ پر محب الدین خطیبؒ کی تعلیقات، صادق عرجون کی ’’عثمان بن عفان‘‘، ڈاکٹر سلیمان بن حمد العودہ کی ’’عبدالله بن سبا و اثرہ فی احداث الفتنۃ فی صدر الاسلام‘‘ محمد مخزون کی’’ تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ‘‘، ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری کی ’’الخلافۃ الراشدہ‘‘، (احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 82)

 عثمان الخمیس کی ’’حقبۃ من التاریخ‘‘، ڈاکٹر محمد حسن شُراب کی ’’المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام والعصر الراشدی‘‘ اور ’’العواصم من القواصم‘‘ اور ’’المنتقی‘‘ وغیرہ پر محب الدین خطیبؒ کی تعلیقات وغیرہ کتب و رسائل ہیں جو اس منہج پر تیار کیے گئے ہیں۔ 

اس بیان سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ایسی کتب و تصنیفات کا پایا جانا ضروری ہے جو ان باطل خیالات اور غلطیوں کی تردید کریں۔ اسلامی تاریخ اور مقام صحابہ کو مسخ کرنے والوں کی تردید اسی وقت ممکن ہے جب ان تاریخی واقعات اور اخبار و روایات کی جرح و تعدیل اور تصحیح و تضعیف کی میزان پر چھانٹ پھٹک کی جائے اور ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 83) 

علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

جب بدعتی سر اٹھائیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر باطل اتہام باندھیں، تو ایسی صورت میں دفاع اور علم و عدل کے ساتھ ان کے دلائل کا ابطال ضروری ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 192)

صفحہ 2 از 3