فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے نتیجہ میں جنگ جمل و…

فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے نتیجہ میں جنگ جمل و صفین کے حالات کی تحقیق کی اہمیت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

امام ذہبی رحمۃاللہ نے اس سلسلہ میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جن کتابوں کے اندر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کذب بیانی اور افترا پردازی کی گئی ہے ان کو نظر آتش کر دیا جائے۔ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین رونما ہونے والے اختلافات اور قتال کے سلسلہ میں یہ ثابت ہے کہ لب کشائی کرنے سے اجتناب لازم ہے اور کتب اور دواوین کے اندر برابر اس طرح کی روایات آتی ہیں جن میں سے اکثر منقطع و ضعیف اور بعض کذب محض ہیں، اور یہ کتب ہمارے اور ہمارے علماء کے ہاتھوں میں ہیں، لہٰذا ان کو سمیٹ دینا اور چھپا دینا چاہیے بلکہ ان کو دریا برد کر دیا جائے تاکہ دل صاف ہو جائیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور ان کے لیے ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کی دعا کا سلسلہ باقی رہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 10 صفحہ 92)

لیکن امام ذہبی رحمۃاللہ کی ان کتابوں کو نذر آتش کرنے کی تجویز ممکن نہیں رہی، کیوں کہ یہ کتابیں پھیل چکی ہیں اور بہت سے نشریاتی ادارے اور گندے عزائم کے لوگ ان کتابوں کو شائع کر رہے ہیں، لہٰذا اب اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ رہا کہ ان کتابوں پر بحث و تحقیق کی جائے، ان کی غلطیوں اور کذب بیانی کو واضح کیا جائے تاکہ مسلمانوں کی نسلیں عقیدہ و عمل میں انحراف سے محفوظ رہیں۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 84)


صفحہ 3 از 3