وقوع فتنہ سے متعلق نبی کریمﷺ کے خبر دینے کی حکمتیں
علی محمد الصلابینبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں خبر دی ہے کہ اس امت میں اختلاف اور قتال رونما ہو گا۔ متعدد احادیث میں اجمالاً یا تفصیلاً اس کی طرف اشارہ موجود ہے۔ ان فتنوں کے اسباب و نتائج مختلف، اور بعض واقعات اور اس کو بھڑکانے والوں سے متعلق خبر دینے کے اسالیب متنوع ہیں۔ یہ بیان و توضیح نبی کریمﷺ کی طرف سے ان سوالات کے جواب میں تھی جو صحابہ کرامؓ آپ سے کیا کرتے تھے۔ اس عظیم نعمت کا صحابہؓ مشاہدہ کر رہے تھے اور اس سے لطف اندوز ہو رہے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کی تھی، در حقیقت یہ اخوت، وحدت، وحدت صف اور اتفاق کی نعمت تھی۔ صحابہ کرامؓ رسول اللہﷺ سے سوال کرتے کہ آیا یہ نعمت قائم و دائم رہے گی یا زائل ہو جائے گی۔ اور چوں کہ رسول اللہﷺ وحی الہٰی کی روشنی میں جانتے تھے کہ یہ نعمت دائمی نہیں ہے، لہٰذا آپ نے چاہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایسی تربیت فرمائیں کہ وہ ان مشکلات و فتن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں، اور جب اللہ ان فتنوں کے وقوع کو مقدر فرمائے تو ان کے سلسلہ میں صحیح موقف اختیار کر سکیں، اور فوراً اس کے علاج کی کوشش کریں۔ ان فتنوں سے متعلق وارد شدہ احادیث میں غور و فکر سے درج ذیل حکمتیں اور فوائد سامنے آتے ہیں:
(احداث و احادیث الفتنۃ الاولیٰ: صفحہ 68)
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان فتنوں اور حوادث کو ذکر کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تربیت دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں صحیح موقف سے کام لیں اور فوری اس کا علاج کر سکیں۔
- ان احادیث میں ان حضرات کی طرف اشارہ ہے جو اس کو بھڑکائیں گے، بسا اوقات یہ ایسے لوگ ہوں گے جو بظاہر ایمان و دین داری سے متصف ہوں گے اور اس کے اندر شدت پائی جائے گی، لیکن ان کی عقلیں منحرف اور الٹی ہوں گی، وہ ادراک و فہم سے عاری ہوں گے۔
- (الوحدۃ الاسلامیۃ: محمد ابو زہرۃ: صفحہ 137)
- یہ فتنے منافقین کو ننگا اور اہل ایمان کے دل کو صیقل کر دیں گے، ان کے ایمان میں اضافہ و ترقی ہو گی، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ یہ ابتلاء کی ایک شکل ہے جس سے نفوس صیقل ہوتے ہیں، مجاہدے کی عادت پڑتی ہے خیر و شر کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اور پھر خیر کی دعوت اور شر سے ممانعت عام ہوتی ہے۔
- (الوحدۃ الاسلامیۃ: محمد ابو زہرۃ: صفحہ 136 ۔137)
- ان فتنوں کی خبر دینا حقیقت میں ان کے واقع ہونے، اور ان کے ارتکاب سے سختی کے ساتھ روکنا ہے۔ اس امت کے مومن اور خاص کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب یہ سنیں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ان میں سے بعض سے قتل صادر ہو گا، اور بعض دنیا سے لگ جائیں گے، اور بعض جہاد چھوڑ دیں گے، بعض اور بعض تو ان کے اندر ان فتنوں سے مقابلہ کرنے کا جذبہ پیدا ہو گا، اور ہر ایک اس سے بچنا چاہے گا اور برابر خوف زدہ رہے گا کہ کہیں اس ہلاکت میں واقع نہ ہو جائے، پس اس سلسلہ میں خبردار رہنا نجات کا عظیم ذریعہ ہے۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 69)
علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ اس اختلاف اور اس امت میں رونما ہونے والے دیگر اختلافات کے سلسلہ میں مختلف مرفوع احادیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: مختلف سندوں سے یہ مفہوم رسول اللہﷺ سے محفوظ ہے، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ افتراق و اختلاف اس امت میں ضرور رونما ہو گا، اس طرح آپ اپنی امت کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ سلامتی چاہے وہ اس سے نجات حاصل کر لے۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 70، اقتضاء الصراط المستقیم: جلد 1 صفحہ 127)
- ان فتنوں سے متعلق رسول اللہﷺ نے جو خبر دی ہے اس میں انتہائی باریکی کے ساتھ اس سے نجات کے طریقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انسان کو اگر آپ کتنے ہی اچھے انداز میں اور کتنے ہی زور دار طریقہ سے فتنوں سے ڈرائیں لیکن فتنوں کی نشاندہی نہ کریں اور نہ اس میں پڑ جانے کی کیفیت بیان کریں تو وہ شخص اس کا صحیح تصور نہیں قائم کر سکتا ہے، اور ان مشکلات کی حقیقت اس پر واضح نہیں ہو سکتی ہے جس سے وہ دوچار ہونے والا ہے، لاشعوری طور سے وہ اس میں داخل ہو جائے گا، اور اس کو یہ پتہ بھی نہ چل سکے گا کہ اس کو اس سے روکا گیا ہے۔(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 70)
- ان فتنوں کے سلسلہ میں جن احادیث میں خبردار کیا گیا ہے ان میں سے بعض میں ان کے اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں، یا اس کے نتائج اور اس سے متعلق مسلمانوں کے موقف کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ مسلمان بلکہ پوری امت کے لیے انتہائی نفع بخش اور مفید ہیں۔ اس طرح وہ ان اسباب سے دور رہ سکتا ہے، نتائج میں غور و فکر کر کے معین واقعات پر حکم لگا سکتا ہے، اور شروع ہی سے مناسب موقف اختیار کر سکتا ہے۔
- اس کے اندر سیدنا محمدﷺ کی نبوت و رسالت کی صداقت کی واضح دلیل ہے، جن صحابہ کرامؓ نے ان احادیث کو سنا اور پھر ایک مدت کے بعد ان کی تعبیر کا مشاہدہ کیا اس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوا، اسی طرح ہر دور میں ہر مومن کے ایمان میں اضافہ ہوتا رہے گا جو ان اختلافات کا نبی کریمﷺ کے بیان کے مطابق مشاہدہ کرے گا۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 70)
ڈاکٹر عبدالعزیز صغیر دخان نے احادیث فتنہ کو جمع کیا ہے، اور پھر اس کا دراسہ کر کے اپنی کتاب ’’احداث واحادیث فتنۃ الہرج‘‘ میں صحیح و ضعیف کو بیان کیا ہے، اور پھر احادیث صحیحہ سے ان معانی کا استخراج کیا ہے جن پر یہ احادیث دلالت کرتی ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:
1: اقوام و امم کے درمیان فتنوں کا رونما ہونا سنن الٰہیہ اور فطرت کونیہ میں سے ہے، اور تا قیامت اس امت میں بھی یہ سنت الٰہی جاری رہے گی، بلکہ اندھیری رات کی طرح اندھے، بہرے اور گونگے فتنے رونما ہوں گے، جو اس میں گھسا دنیا و آخرت میں تباہ ہوا اور جس نے اپنے آپ کو دور رکھا کامیاب رہا۔ ان میں اپنے موقف کی صحیح تعیین وہی کر سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم سے زندگی بخشی ہو، تقویٰ کا بھرپور جوہر عطا کیا ہو، اور ہدایت حق بخشی ہو۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 345)
2: ان احادیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے مابین فتنۂ قتال ضرور رونما ہو گا، اس کا انکار ممکن نہیں، صحابہ و تابعین کے دور سے لے کر آج تک تمام اسلامی ادوار میں یہ چیز رہی ہے، لیکن ضروری یہ ہے کہ اس قتال کے اسباب کی معرفت حاصل کی جائے تاکہ اس سے بچا جا سکے، اور جب بھی اسلامی ممالک میں یہ فتنہ سر اٹھائے تو اس کو بجھانے کی سعی و کوشش کی جائے، اور یہ بالکل مناسب نہیں کہ ہم تماش بین بنے رہیں۔
3: اللہ تعالیٰ کی اس امت پر بڑی رحمت ہے وہ دنیا ہی میں اس کے گناہوں کو مٹانا چاہتا ہے۔ یہ قتال و فتن اور زلزلے جو رونما ہوتے ہیں اس سے اس امت کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔
4: ان احادیث میں سے بعض کے اندر پوری صراحت کے ساتھ واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اکثر فتنے مشرق سے رونما ہوں گے اور حقیقت میں بھی ایسا ہی رہا ہے چنانچہ پہلا فتنہ کوفہ و بصرہ سے شروع ہوا، اور فتنہ جمل بھی یہیں رونما ہوا۔
5: فتنہ میں ملوث لوگ تھوڑی دنیا کے عوض اپنے دین کا سودا کر لیں گے، شہوتوں اور شبہات کا دور دورہ ہو گا، صحیح اسلام کے حاملین اپنے برتاؤ و تصرف میں اجنبی ہو کر رہ جائیں گے، اور دین کو تھامنے والا اس شخص کی مانند ہو گا جو ہاتھ میں انگارے یا کانٹے لیے ہوئے ہو، اور جو کچھ تکلیف و اذیت دین کی راہ میں لاحق ہو اس پر صابر ہو اور ثواب کی امید لگائے ہو۔
6: فتنہ میں اللہ تعالیٰ ایک گروہ کو محفوظ رکھے گا، فتنہ انہیں لاحق نہیں ہو گا، اور ان کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے آلودہ نہیں ہوں گے، اور وہ مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں گے، اور اسلام کے صحیح مبادی و اصول رحمت و اخوت کی طرف دعوت دیں گے، اور ان کا یہ موقف یقیناً انوکھا ہو گا، جب کہ چہار سو فتنہ برپا ہو گا، خواہشات نفس کا دور دورہ ہو گا۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 346-348)
7: فتنہ میں زبان کا کردار تلوار سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے، بلکہ زبان ہی سے اکثر فتنے اور مصیبتیں جنم لیتی ہیں، بعض دفعہ زہر آلود کلمہ زبان سے نکلتا ہے اور دلوں میں آگ لگا دیتا ہے، نفس میں پوشیدہ چیزوں کو بھڑکا دیتا ہے، جذبات کو برانگیختہ کر دیتا ہے، اور خونخوار فتنہ کا سبب بن جاتا ہے۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 348)
8: فتنہ میں علم کم ہو جاتا ہے، علماء کی وفات کی وجہ سے یا پھر علماء سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے سکوت و اعتزال اختیار کر لیتے ہیں، یا لوگ ہی کسی سبب سے ان سے اعراض کر لیتے ہیں، جہالت کا دور دورہ ہوتا ہے، لوگ جاہلوں کو اپنا قائد و امیر بنا لیتے ہیں بغیر علم کے وہ فتوے دیتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں، بے کار اور کم درجہ کے لوگوں کا دور دورہ ہوتا ہے، اور بیوقوفوں کا غلبہ ہوتا ہے۔
(ایضاً)
9: ان احادیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو ضمانت دی ہے کہ اس امت کو فاقہ و قحط سے ہلاک نہ کرے گا، دشمن کو اس پر اس طرح مسلط نہیں کرے گا کہ وہ ہمیشہ اس پر غالب رہے، خواہ اس دشمن کی کتنی بھی قوت و طاقت کیوں نہ ہو، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس امت میں اختلاف نہ ہونے کی ضمانت نہیں دی ہے،
لہٰذا اسی دروازہ سے خارجی دشمن داخل ہو گا، امت جب آپس میں اختلاف مچائے گی، اور بعض بعض کو قتل کریں گے تو اس سے اسباب قوت کمزور پڑ جائیں گے، اور دشمن کو غلبہ حاصل ہو گا، اور پھر وہ اس کے خیرات و امکانیات سے کھیلے گا، اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک امت وحدت و اتفاق اور نفاذ شریعت کے ذریعہ سے قوت نہ حاصل کر لے۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 348)
10: ان احادیث میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ فتنہ کا وقوع اور اس کا استمرار اسلام کی ہدایت سے منحرف فرقوں کے ظہور اور اہل باطل کے غلبہ کا سبب ہے۔
11: فتنہ میں لوگوں کے اخلاق بدل جائیں گے، کیوں کہ اس وقت لوگ عمل صالح اور خیر کے کاموں سے دور ہو جاتے ہیں، اور ان کے درمیان عداوت و دشمنی، کینہ و بغض برپا ہوتا ہے، اور معاملات لوگوں کے لیے گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔
12: ان احادیث میں بیان ہوا ہے کہ ان فتنوں سے قبل امن و استقرار بحال ہو گا، لوگوں کے مادی اور امنی حالات درست ہوں گے، مسافر عراق اور مکہ کے درمیان سفر کرے گا اس کو راستہ بھولنے کے سوا اور کسی چیز کا خوف نہ ہو گا، اور یہ عہدِ عثمانی میں بالکل عیاں ہے جب کہ آپ کا دور امن و استقرار کا دور تھا، چاروں طرف سے مال و متاع کے سوتے پھوٹ رہے تھے، پھر فتنہ کا آغاز ہوا اور ان سب کو مٹا دیا اور حالت امن خوف میں بدل گئی۔
13: فتنہ میں اچھے لوگ اور عقل والے فہم و بصیرت کے مالک قتل ہو جاتے ہیں، اور بیکار لوگ باقی رہتے ہیں۔ معروف و منکر گڈمڈ ہو جاتا ہے نہ معروف کا حکم دیا جاتا ہے اور نہ منکر سے روکا جاتا ہے۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 349۔350)
احادیث فتن کے یہ بعض دروس و معانی ہیں جنھیں یہاں بیان کیا گیا۔