Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے اسباب

  علی محمد الصلابی

امام زہری رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بارہ سال تک امیر المؤمنین رہے، شروع کے چھ سال سیدنا عثمانؓ پر کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا، حضرت عثمان غنیؓ قریش کے نزدیک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب تھے کیوں کہ حضرت عمر فاروقؓ ان پر سخت تھے اور حضرت عثمان غنیؓ ان کے ساتھ نرم تھے اور صلہ رحمی کرتے تھے، پھر اس کے بعد فتنہ شروع ہوا۔ مسلم مؤرخین نے عہد عثمانی کے نصف ثانی (30، 35ھ) میں رونما ہونے والے واقعات کو فتنہ سے تعبیر کیا ہے جس کے نتیجہ میں حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت پیش آئی۔

(طبقات ابن سعد: جلد 1 صفحہ 39-47)، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 144-149)، الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 112)

 مسلمانوں کے درمیان سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں اور حضرت عثمان غنیؓ کے شروع میں کوئی اختلاف نہ تھا، پھر سیدنا عثمانؓ کے آخری دور میں کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ اختلاف رونما ہوا، فتنہ پرور اٹھے اور حضرت عثمان غنیؓ کو قتل کر دیا، اور اس کے بعد مسلمانوں میں اختلاف برپا ہو گیا۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 13 صفحہ 20)

خلافتِ صدیقی، خلافتِ فاروقی اور خلافتِ عثمانی کے نصف اول تک اسلامی معاشرہ درج ذیل اوصاف سے متصف تھا:

 اسلامی معاشرہ اسلام کے کامل معانی پر مشتمل تھا، اللہ اور یوم آخرت پر گہرا ایمان تھا، اسلامی تعلیمات واضح سنجیدگی اور ظاہر التزام کے ساتھ نافذ تھیں، پوری تاریخ میں اس معاشرہ میں معصیت و گناہ کی مقدار سب سے کم تھی، دین اس معاشرہ کی زندگی تھی، یہ ثانوی حیثیت کی چیز نہ تھی کہ کبھی کبھار اس کو اختیار کر لیا جائے، دین ہی اس معاشرہ کی روح و زندگی تھی۔ صرف مراسم عبودیت ہی تک نہیں کہ جسے صحیح طریقہ سے ادا کرنے کی کوشش کریں بلکہ ان کے اخلاقیات، تصورات، اہتمامات، اعلیٰ اقدار، اجتماعی روابط، خاندانی تعلقات، پڑوس کے روابط، بیع و شراء، تجارت، سفر، کسب معاش، امانت، تعامل، ناداروں کی کفالت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، حکام اور والیان کے کاموں کی نگرانی، سبھی امور میں دین ہی کا دور دورہ تھا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس معاشرہ کا ہر فرد ضرور ہی اس وصف پر قائم تھا۔ یہ تو دنیا کی زندگی میں اور کسی انسانی معاشرہ میں ممکن نہیں۔ نبوی معاشرہ میں بھی جیسا کہ قرآن میں ہے منافقین موجود تھے جو اسلام ظاہر کرتے تھے، لیکن حقیقت میں اعدائے اسلام کے لیے کام کر رہے تھے۔ کمزور ایمان، تھکے ہارے، سست اور خائن لوگ بھی تھے، لیکن معاشرہ میں ان لوگوں کا کوئی وزن نہ تھا، اور حالات کو بدلنے کی ان میں طاقت نہ تھی کیوں کہ موج مارنے والی لہر ان سچے مؤمنین اور مجاہدین کی تھی جو اسلام پر مکمل طریقہ سے کار بند تھے۔ 

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: محمد قطب: صفحہ 10)

 یہ معاشرہ وہ معاشرہ تھا جس میں امت کے حقیقی معنیٰ اپنے اعلیٰ معیار کو پہنچ چکے تھے، امت صرف زبان، زمین اور مصالح کی بنیاد پر جمع ہونے والوں کا مجموعہ نہ تھی کیوں کہ یہ تو جاہلی روابط ہیں جو انسان کو مربوط کرتے ہیں، اگر اس کی بنیاد پر کوئی امت تیار ہوتی ہے تو وہ جاہلی امت ہے، بلکہ ربانی امت وہ امت ہے جس کے اندر عقیدہ کا رابطہ پایا جائے، وہ زبان و زمین اور رنگ و جنس اور زمینی صالح سے بالاتر ہو کر عقیدہ کی بنیاد پر مربوط ہو، عقیدہ ہی ایک ایسی چیز ہے جو عربی و حبشی، رومی و فارسی اور مفتوحین و فاتحین کے درمیان صرف مکمل دینی اخوت کی اساس پر رابطہ استوار کرتا ہے۔ امت کے صحیح معنیٰ امت اسلامیہ کے اندر اگرچہ ایک طویل عرصہ تک موجود رہے لیکن اسلام کا جو ابتدائی دور تھا وہ انتہائی روشن دور رہا ہے، اس میں اسلام کے پورے معانی متحقق تھے۔ اسی طرح امت کے معنیٰ بھی ایسے رہے جس کی کوئی سابق مثال نہیں ملتی۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 101)

 یہ اخلاقی معاشرہ تھا، دین کے اوامر و توجیہات سے مستفاد واضح اخلاقی اصول پر قائم تھا، یہ اصول صرف میاں بیوی کے تعلقات پر مشتمل نہ تھا، اگرچہ یہ اس معاشرہ کے واضح ترین خصائص میں سے تھا، یہ معاشرہ عریانیت، اختلاط، حیا سوز قول و فعل اور اشارہ نیز فواحش سے خالی تھا الا یہ کہ شاذ و نادر واقعات رہے ہوں جس سے کوئی بھی معاشرہ خالی نہیں ہوتا، اخلاقی اصول میاں بیوی کے تعلقات سے زیادہ وسیع تر ہوتے ہیں، یہ سیاست و اقتصاد، اجتماع، فکر و تعبیر سب کو شامل ہوتے ہیں، حکومت اسلامی اخلاقیات پر قائم ہوتی ہے، اور معاشرہ میں لوگوں کے تعلقات صداقت و امانت، اخلاص و تعاون اور محبت پر قائم ہوتے ہیں، عیب جوئی، غیبت، طعنہ بازی، چغل خوری اور اتہام و بہتان طرازی نہیں ہوتی۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 101) 

 یہ سنجیدہ معاشرہ تھا اہم ترین امور و مسائل میں مشغول تھا، سنجیدگی میں ضروری نہیں کہ ترش روئی اور سختی نہ ہو، بلکہ وہ روح ہے جو لوگوں کے اندر ہمت بیدار کرتی ہے اور نشاط و عمل پر ابھارتی ہے، اس کے اہتمامات احساسات سے بالاتر ہوتے ہیں، اس میں کھوکھلے اور ڈھیلے معاشرہ کی صفات نہیں ہوتیں جو وقت گزاری کے لیے گھروں اور گلیوں میں چکر لگائے، اور وقت گزاری کے وسائل تلاش کرے۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 102)

 یہ معاشرہ عمل کے لیے ہمیشہ تیار تھا، اس میں ہر جانب واضح طور سے جندیت کی روح کار فرما تھی، یہ روح صرف قتال فی سبیل اللہ کے میدان میں نہیں تھی اگرچہ قتال فی سبیل اللہ نے اس معاشرہ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ لے رکھا تھا، لیکن تمام میدانوں اور شعبوں میں یہ روح کار فرما تھی، ہر فرد اس عمل کے لیے تیار بیٹھا تھا، جس وقت بھی اس سے مطالبہ کیا جائے وہاں عسکری اور مدنی بھرتیوں کی ضرورت نہ تھی، بلکہ عقیدہ کی اساس پر وہ ہمہ وقت خود بخود تیار تھے، عقیدہ نے ان کے اندر ہر جانب نشاط برپا کر رکھا تھا۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 102)

 یہ عبادت گزار معاشرہ تھا عبادت کی روح ان کے تمام تصرفات میں واضح طور پر کارفرما تھی۔ اللہ کی رضا کے لیے یہ روح صرف فرائض و نوافل کی ادائیگی ہی میں نہیں بلکہ تمام اعمال کی ادائیگی میں موجود تھی، رعایا کی نگہداشت، قرآن و دین کی تعلیم، بیع و شراء، تجارت، بال بچوں کی تربیت، زن و شوہر کے تعلقات غرض کہ زندگی کے ہر میدان میں روح عبادت کار فرما تھی وہ اس کو عبادت تصور کر کے انجام دیتے تھے۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 102)

یہ خلفائے راشدینؓ کے دور کے اہم ترین صفات ہیں لیکن جس قدر عہدِ نبویﷺ سے قریب ہوں یہ صفات قوی تر ہوں گی، اور جس قدر عہد نبویﷺ سے دوری ہو گی اس میں ضعف ہو گا۔ ان اوصاف نے مسلم معاشرہ کو آفاق کی بلندیوں پر قائم کر دیا تھا، اور اسلامی تاریخ میں اس دور کو ایک مثالی دور بنا دیا تھا اور اسی وجہ سے اسلام عجیب تیز رفتاری کے ساتھ پھیلا۔ اسلامی فتوحات کی تحریک فتوحات کی تاریخ میں سریع ترین تحریک رہی ہے، چنانچہ پچاس سال سے کم عرصہ میں اسلام مغرب میں بحر اوقیانوس سے لے کر مشرق میں ہندوستان تک پھیل گیا۔ یہ صورتحال ضبط تحریر میں لانے اور نمایاں کیے جانے کی مستحق ہے، اور اسی طرح مفتوحہ علاقوں میں بلاظلم و جور کے لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا بھی۔

یہ اوصاف و خصائص جس سے اسلامی معاشرہ متصف تھا اس صورت حال کا حقیقی سرمایہ تھا، لوگوں نے جب اسلام کو اس عجیب اور خوبصورت و روشن شکل میں معمول بہ پایا تو اس کو پسند کیا، اور ان کی خواہش ہوئی کہ وہ اس دین کو اپنے سینوں سے لگا کر دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 103)

اس دور کی تاریخ کا مطالعہ انسان کے اندر نہ مٹنے والے تاثرات چھوڑتا ہے، اسلام کی حقانیت پرستی اپنے تمام شواہد کے ساتھ حقیقت کی دنیا میں قابل تنفیذ ہے۔ یہ فضا میں لٹکی ہوئی مثالیات نہیں ہے جو صرف تخیلات اور آرزو و تمنا سے متعلق ہوں بلکہ یہ عالم وجود میں واقع ہونے والی مثالیات ہیں، اگر انسان لازم سنجیدگی کے ساتھ کماحقہ کوشش کرے تو پھر ان کی تطبیق انسان کی دسترس میں ہے، اور پھر یہ تاثر کہ جو چیز ایک مرتبہ واقع ہو چکی ہے وہ دوبارہ بھی واقع ہو سکتی ہے کیوں کہ آج کا انسان وہی انسان ہے اور انسان نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ دوبارہ بلندیوں کو طے کرے، اگر عزم صادق ہے تو ضرور طے کرے گا اور غلبہ و نصرت اسے حاصل ہو گی۔

ارشاد الہٰی ہے:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ النور آیت 55)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔

جو امور مسلمانوں کے خلافتِ راشدہ کی طرف پلٹنے کے سلسلہ میں معاون ہو سکتے ہیں ان میں سے ان عوامل و اسباب کی معرفت ہے جو زوال کا سبب بنے ہیں، تاکہ ہم ان سے اجتناب کریں، اور ان اسباب کو اختیار کریں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تکریم کا سبب بنایا ہے، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے اسباب کو اس کی اہمیت کے پیش نظر تفصیل سے بیان کریں۔ چنانچہ اہم ترین اسباب یہ تھے: