مفتوحہ علاقوں کے باشندے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مفتوحہ علاقوں کے باشندے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

یہ وہاں پہنچنے والے لوگوں کے مقابلہ میں اکثریت میں تھے، وہاں فتوحات کی تحریک کے ساتھ پہنچنے والے اقلیت میں رہے، اگرچہ یہ لوگ عملی طور سے ملکی انتظام و انصرام یا عملی، اخلاقی، فکری اور لغوی تاثیر میں شریک رہے، لیکن اس کے باوجود اقلیت میں رہے۔ ان مفتوحہ علاقوں کے باشندے اپنے اپنے مقام پر برقرار رہے، اگرچہ بعض دوسرے علاقوں میں اور بڑے شہروں اور مرکز خلافت میں منتقل ہوئے خواہ جنگی لونڈیوں و غلاموں کی شکل میں، یا تجارتی، علمی اور اداری طور پر، کیوں کہ اس سے کوئی قانون مانع نہ تھا۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 380)

جو عجمی لوگ مفتوحہ علاقوں سے آئے وہ فتنہ کو قبول کرنے میں سبقت کرنے والے تھے کیوں کہ ان کی اکثریت مقہور و مظلوم اور ستائی ہوئی اقوام سے تعلق رکھتی تھی، اس کے مختلف اسباب تھے: 

 جہالت، اور ابھی یہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، کفر نیز سلطنت و عزو شرف سے ابھی ان کا عہد قریب تھا، جو انہیں پہلے حاصل تھا اور اب ان سے چھن چکا تھا۔

 عجمیت وغیرہ کی وجہ سے دین کا علم بہت کم تھا۔

 عصبیت اور عربوں سے ناپسندیدگی۔

 ان میں کچھ تلوار اور جزیہ کے ڈر سے بظاہر اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اپنے اندر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف شر اور مکر چھپا رکھا تھا، لہٰذا وہ ہر فتنہ کی طرف سبقت کرتے تھے۔

 باطل افکار و نظریات کے حاملین مذکورہ اسباب کی وجہ سے اپنے مقاصد کے لیے انہیں مفید سمجھتے تھے اور پھر انہیں بھڑکاتے رہتے تھے۔

(دراسات فی الاہواء والفرق و البدع: ناصر العقل: صفحہ 161)

ب۔ یہ اعراب دیہات کے رہنے والے تھے، یہ بھی باقی دیگر لوگوں کی طرح تھے، ان میں متقی مسلمان بھی تھے

اور کافر و منافق بھی تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے سلسلہ میں جو اس آیت کریمہ میں فرمایا ہے وہ اسی کے مصداق تھے:

اَلۡاَعۡرَابُ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّ نِفَاقًا وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ‌ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞(سورۃ التوبة آیت 97)

ترجمہ: جو دیہاتی (منافق) ہیں، وہ کفر اور منافقت میں زیادہ سخت ہیں، اور دوسروں سے زیادہ اسی لائق ہیں کہ اس دین کے احکام سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر اتارا ہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اور اس وجہ سے کہ ان کے دل انتہائی سخت، ان کی طبیعت انتہائی کٹھور، اور ان کی باتیں انتہائی بھونڈی ہوتی ہیں، یہ اپنی ان صفات کی وجہ سے اس قابل رہے کہ یہ اللہ کے نازل کردہ احکام و شریعت اور جہاد کی حدود کو نہ جان سکیں۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 380)، نقلا عن فتح القدیر، الشوکانی: جلد 2 صفحہ 395-397)

 لہٰذا یہ فتنوں میں سب سے زیادہ سبقت کرنے والے رہے جس کے مختلف اسباب رہے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں: 

 دینی علم و فہم کی کمی۔

 تھوڑا بہت قرآن سیکھ کر علم کا غرور آ جانا اور یہ سمجھ بیٹھنا کہ عالم ہو گئے۔

 علماء کا عدم احترام، ان سے کسب علم اور ان کی اقتداء سے اعراض۔

 قبائلی عصبیت کا دلوں میں جاگزیں ہو جانا۔

سازشی لوگوں کا انہیں دھوکا دینا اور ان کی سادگی و جہالت کا بےجا استعمال کرنا۔

 ان کی طبیعتوں کی سختی، مدنیت اور لوگوں کے ساتھ اختلاط سے نفرت، اور دوسروں کے ساتھ بدظنی۔ ہر زمان و مکان میں دیہاتیوں کی یہی فطرت رہی ہے۔

 دین میں بےجا تشدد اور غلو کہ اسی لیے اکثر خوارج اسی صفت سے تعلق رکھتے تھے۔

(دراسات فی الاہواء والفرق والبدع: صفحہ 161)

ان دیہاتیوں میں سے ایسے لوگ نکلے جو قراء کے نام سے معروف ہوئے حالاں کہ قراء کا مفہوم اس کے منطوق سے مختلف تھا، منطوق کے اعتبار سے اس کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنھیں قرأت قرآن میں تخصص حاصل ہو، لیکن اس کا مفہوم بدل گیا، ان میں سے کچھ خوارج کے طریقہ پر مخصوص انداز میں قرآن کو سمجھتے تھے، اور کچھ عابد و زاہد تھے اور جو پڑھتے تھے اس کو صحیح طریقہ سے سمجھتے نہیں تھے، لہٰذا معاشرہ کی اس صورت حال کے ساتھ وہ مربوط نہ ہو سکے،

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 381)

اور یہی جاہل قاری و حافظ فتنہ میں سبقت کرتے رہے۔ اور اس کے بھی کچھ اسباب تھے: 

دین میں قلت فقہ و بصیرت کے ساتھ جذبہ تدین میں غلو، کہ جس کی وجہ سے بلا علم و بصیرت دینی غیرت پیدا ہوتی ہے، اور پھر اسی دینی غیرت کے نام سے نتائج و انجام کار اور شرعی قواعد و مفاسد اور جلب مصالح کا خیال کیے بغیر جذباتیت اور غلط افکار و نظریات کا انسان شکار ہو جاتا ہے۔

بغیر فقہ و بصیرت کے چند آیات و احادیث سیکھ کر اس غرور میں مبتلا ہو جانا، اور یہ سمجھ بیٹھنا کہ اب وہ عالم ہو گیا اور مصالح امت مسلمہ کے سلسلہ میں اہل حل و عقد کا درجہ اس کو حاصل ہو گیا ہے۔

علماء و ائمہ پر تعلی اور ان کا اس وہم و گمان میں مبتلا ہو جانا کہ اب وہ علماء سے بے نیازی کے درجہ کو پہنچ گئے ہیں، ان کے علم و فقہ کی ان کو ضرورت باقی نہیں رہی۔

علماء و ائمہ کو نظر انداز کر کے جاہلوں کو امیر و صدر بنا لینا۔

باطل افکار و نظریات کے قائدین اور بدعات و فتن کے لیڈران بڑے چال باز و مکار ہوتے ہیں، لوگوں کے علم و بصیرت سے خالی دینی جذبات اور غیرت سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ گھسیٹ لے جاتے ہیں۔

 فتنوں کے احکام اور استدلال کے اصول و مبادی سے جہالت۔

(دراسات فی الاہواء و الفرق و البدع: صفحہ 163)

ج: اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں ایسی اکائی کا موجود ہونا جو ارتداد کا شکار ہو چکی تھی، اور ان کی اسلامی زندگی مختصر رہی اور کسی ضرورت کے تحت اسلام کی طرف منسوب ہو گئے۔ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتاکہ ان میں سے ایسے حضرات بھی تھے جنھوں نے صالحیت و طہارت کو اختیار کیا اور ان کا شمار فضلاء میں ہوا لیکن کچھ افراد ایسے بھی تھے جو اسلام کی حلاوت نہ محسوس کر سکے اور اسلام کی طرف انتساب کے باوجود اپنی سابقہ عقلیت اور اسلام سے قبل کی قبائلی نفسیات کے ساتھ زندگی گزارتے رہے، اور عصبیتیں ان کو ہوا دیتی رہیں، گویا اسلام ان میں داخل ہی نہیں ہوا، یا انہوں نے یہ سمجھا کہ اسلام اور قبائلی عصبیت کی اساس پر جو ان کا موجودہ برتاؤ و عمل ہے اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

صفحہ 1 از 2