Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معاشرہ کی ثقافتی تشکیل

  علی محمد الصلابی

بشری اختلاط کے ساتھ ساتھ ثقافتی اختلاط بھی شروع ہوا جو بشری اختلاط سے کم ضرر رساں نہ تھا، بہت سی ثقافتیں، افکار و نظریات اور عقائد انسانوں کی اس بڑی تعداد کے ساتھ ٹوٹ پڑے جو اسلامی معاشرہ میں گھل مل گئے، اور پھر اسلامی معاشرہ پر یہ بہت بڑا بوجھ ثابت ہوئے، جس سے مصیبت میں مزید اضافہ ہوا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ابتدائی دور میں ان مفتوحہ علاقوں کے باشندوں میں مسلمانوں کی تاثیر کم رہی، اگرچہ مسلمان ان علاقوں کی تشکیل میں شامل ہوئے، ان کے درمیان زندگیاں گزاریں، ان میں شادیاں کیں، ان کی زبانیں سیکھیں، ان کے لباس استعمال کیے اور ان کے عادات و مراسم کو اختیار کیے۔

(ایضاً)

ان علاقوں کے باشندوں کو اسلامی تربیت کی وافر مقدار نہ مل سکی، اور مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح اسلامی روح سے یہ آسودہ نہ ہو سکے۔ اسی طرح وہ عربی قبائل جو ان مفتوحہ علاقوں کے باشندوں کے ساتھ ضم ہو گئے، اگرچہ اسلام نے ان مختلف قبائل کو ایک متعین مدت کے لیے ایک کٹھالی میں ڈھال دیا تھا، مگر یہ یاد رہے کہ مہاجرین و انصار جن کی تعلیم و تربیت محکم ضابطوں پر قائم تھی اس کثیر تعداد کا استیعاب کرنے سے قاصر تھے، موالی اپنے جاہلی افکار و نظریات اور عادات سے ابھی چھٹکارا حاصل نہ کر سکے تھے۔ اس کا سبب اسلامی فتوحات کی وسعت اور کتاب و سنت کی تعلیم و تربیت میں عدم توازن تھا۔ جہاد کی تحریک کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ علماء و معلمین اور داعیان حق ساتھ ساتھ ہوں تاکہ لوگوں کو دین کی تعلیم دیں، اور ان کی صحیح تربیت کرتے رہیں تاکہ تربیت میں توازن رہے اور اسلامی صفت میں خلل واقع نہ ہو، اور پھر فاتحین اور مفتوحہ علاقوں کے باشندوں کے درمیان دوری پیدا نہ ہو کہ جس کے نتیجہ میں ایسے آثار رونما ہوں جس سے اسلامی صف کا اتحاد اور اس کی سیاسی و فکری وحدت پارہ پارہ ہو۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 358)

لیکن اسلامی تعلیم و تربیت کے میدان میں انتھک جدوجہد کے باوجود ایسے منفی آثار ظاہر ہو کر ہی رہے، کیوں کہ اسلامی فتوحات کا سلسلہ بڑی تیزی سے سیلاب کی طرح جاری تھا، عراق اور اس کے بعد کے علاقے اور شام چند ہی سالوں میں فتح کر لیے گئے، تعلیم و تربیت کے میدان میں بشری طاقت سے یہ بات باہر تھی کہ ان علاقوں کے کثیر تعداد باشندوں کی تعلیم و تربیت کماحقہ کر سکے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 358)

اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ وہ صحابہ کرامؓ جو اس امانت کو ادا کر سکتے تھے ان کی اکثریت مختلف معرکوں میں جامِ شہادت نوش کر چکی تھی بہت تھوڑے لوگ باقی تھے جن کے گرد وہ مسلمان جمع رہتے تھے جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، پھر تابعین کا طبقہ ظاہر ہوا لیکن چوں کہ یہ لوگ بھی مخلص تھے لہٰذا یہ بھی میدانِ جہاد میں پیش پیش رہے، ان میں بھی بہت سے لوگوں نے جام شہادت نوش کیا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: الشجاع: صفحہ 334)

اور اسی طرح ان افراد کی تعلیم و تربیت کے لیے وقت ناکافی تھا اور اس کے علاوہ دیگر دوسرے اسباب و عوامل تھے جو حکومت کے عدم استقرار میں اثر انداز ہوئے اور یہ ساری چیزیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری سالوں میں واضح طور سے ظاہر ہوئیں۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 359)