امام بخاری صاحب رحمۃاللہ کا فتویٰ
امام بخاری صاحب رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:
ما ابالی صلیت خلف الجھمی والرافضی ام صلیت خلف الیھود والنصاریٰ، ولا یسلم علیھم ولا یعادون، ولا ینکاحون، ولا یشھدون، ولا توکل ذبحانحھم۔
ترجمہ: میں ایک جہمی یا رافضی کے پیچھے نماز پڑھ لینے میں اور کسی یہودی یا نصرانی کے پیچھے نماز پڑھ لینے میں کوئی فرق نہیں سمجھتا (اس لیے کہ یہ دونوں فرقے یہود و نصاریٰ کی طرح کافر ہیں اگرچہ یہ خود کو مسلمان کہیں) نہ ان کو سلام کرنا چاہیئے، نہ ان کی مریضوں کی عیادت کرنی چاہیئے، نہ ان سے شادی بیاہ کرنا چاہیئے، نہ ان کی شہادت قبول کرنی چاہیئے، نہ ان کا ذبیحہ کھانا چاہیئے۔
تشریح: بات بالکل واضح ہو گئی کہ امام بخاری صاحبؒ کے نزدیک شیعہ بدترین کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
ذرا غور فرمائیں کہ: جب سلام ممنوع ہوا، مریضوں کی عیادت تک اجازت نہ ہوئی ان سے نکاح اور رشتہ حرام ہوا اور ان کی گواہی قابلِ قبول نہ ہوئی اور ان کے ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت کھانا حلال نہ ہوا تو اب ان لوگوں سے کسی بھی سطح پر اتحاد کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ ان کے ساتھ تعلق رکھنا یا کسی بھی عنوان سے ان کو اپنے ساتھ ملانے یا ان کے ساتھ میل جول رکھنے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟ اور پھر یہ سب کچھ ہو بھی دین کے نام اور عنوان سے؟ کیا ان شیعوں سے بڑا کافر بھی کوئی ہے کہ ان کو چھوٹا دشمن سمجھنے کے فریب میں مبتلا ہو کر بڑے دشمن کا مقابلہ کرنے کے عنوان سے ان کے ساتھ اتحاد کرنا یا ان کو ساتھ رکھنا جائز ہو سکے؟
(اکفار الملحدین: صفحہ، 170)