افواہوں کو قبول کرنے کی استعداد
علی محمد الصلابیمعاشرہ کی تشکیل میں غیر متوازن اختلاط کے نتیجہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرہ اضطراب و فساد کو قبول کرنے اور افواہوں، غلط باتوں اور پروپیگنڈوں کو تسلیم کرنے کے لیے مستعد ہو گیا۔
(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 382)
اس حقیقت کو علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ نے پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جن کی اقتداء کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا تھا جیسا کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
اقتدوا باللذین من بعدی ابی بکر و عمر۔
’’میرے بعد ان دونوں ابوبکر و عمر کی اقتدا کرتے رہنا۔‘‘
ان کے دور میں لوگ عہدِ رسالت سے قریب تر تھے، ان کے اندر ایمان اور اصلاح و تقویٰ بڑھ کر تھا، ان کے حکمران واجبات کو بدرجہ اتم پورا کر رہے تھے، اطمینان و سکون قائم تھا، فتنہ واقع نہ ہوا تھا، یہ حضرات نفوس مطمئنہ کے حکم میں تھے، لیکن جب سیدنا عثمان غنیؓ کی خلافت کے آخری ایام اور حضرت علیؓ کا دور آیا تو نفوس لوامہ کی کثرت ہوئی جن سے اعمال صالحہ اور اعمال سیئہ دونوں کا ارتکاب ہوا، ان کے اندر ایمان و دین کے ساتھ شہوات اور شبہات رونما ہوئے، اور بعض ذمہ داران اور بعض رعایا سے اس کا صدور ہوا، اور بعد میں اس قسم کے لوگوں کی کثرت ہوئی، اور فتنہ رونما ہوا، جس کا سبب طرفین میں تقویٰ و اطاعت میں مخلص نہ ہونا، اور خواہشاتِ نفس اور معصیت کی تھوڑی آمیزش ہو جانا تھا۔ طرفین میں سے ہر ایک نے تاویل کی کہ وہ بھلائی کا حکم دے رہا ہے اور برائی سے روک رہا ہے اور وہ حق و عدل کے ساتھ ہے، نیز اس تاویل کے باوجود تھوڑی خواہشات وظن کی آمیزش رہی، اگرچہ طرفین میں سے ایک گروہ دوسرے کے مقابلہ میں حق سے زیادہ قریب تھا۔
(مجموع فتاویٰ: ابن تیمیۃ: جلد 28 صفحہ 148۔ 149)
یہ حقیقت اس گفتگو سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے جو امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ایک متبع کے درمیان ہوئی۔ اس شخص نے عرض کیا: کیا بات ہے مسلمانوں نے آپ کی مخالفت کی اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی مخالفت نہیں کی؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا: سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما مجھ جیسے لوگوں کے حاکم و والی تھے اور آج میں تم جیسے لوگوں کا حاکم و والی ہوں۔
(مقدمۃ ابن خلدون: صفحہ 189)
امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ ان حالات سے بالکل واقف تھے جو معاشرہ میں رونما ہو رہے تھے، چنانچہ آپ نے امرائے مملکت (گورنروں) کے نام اپنے خط میں تحریر فرمایا:
’’حمد و صلاۃ کے بعد! معلوم ہو کہ رعیت انتشار کا شکار ہے، اور حرص میں لگ چکی ہے، اس کے تین اسباب ہیں: ترجیح دی جانے والی دنیا، تیز رفتار باطل افکار و نظریات، اور لوگوں میں کینہ و حسد۔ اور امید ہے کہ ان چیزوں سے نفرت دلائی جائے تو حالات تبدیل ہو جائیں۔"
(التمہید و البیان: صفحہ 64)