Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت مولانا علامہ خالد محمود صاحب رحمۃاللہ کے فرمودات: (ڈائریکٹر اسلامک اکیڈمی مانچسٹر)


*سوال:* کیا شیعہ کے ساتھ اتحاد ہوسکتا ہے؟

*جواب:* شیعہ تین بنیادی عقائد میں مسلمانوں سے جدا ہیں، ان میں سے دو باتیں ایسی ہیں جنہیں آپ ان کا ذاتی معاملہ کہہ کر نظر انداز کر سکتے ہیں، لیکن ان کا ایک عقیدہ ایسا ہے جو مسلمانوں اور شیعہ کے درمیان اتحاد میں رکاوٹ ہے، وہ عقیدہ سبِّ شیخینؓ ہے، اس کے علاوہ عقیدہ تحریفِ قرآن اور عقیدہ امامت بھی مسلمانوں سے علیحدہ ہیں، لیکن ان دونوں عقائد کی موجودگی میں شیعہ کے ساتھ ملکی امن و استحکام کے لیے بطورِ غیر مسلم کوئی نہ کوئی صورت نکل سکتی ہے، لیکن سبِّ شیخینؓ کے عقیدے کی موجودگی میں شیعہ کے ساتھ اتحاد کرنا، ان کے ساتھ بیٹھنا، کسی معاملے میں بھی ان کی رعایت کرنا بہت بڑی بےعزتی منافقت اور کھلا دھوکہ ہے۔

جہاں اصولی اور نظریاتی اختلاف ہو تو اس اختلاف میں مسلمان کے دل میں سوائے ایمان کے کوئی اور چیز سما ہی نہیں سکتی، اس لیے فروعی اختلاف میں اتحاد ہوا ہے اور ہو سکتا ہے لیکن جہاں نظریاتی اختلاف ہو، کفر اور اسلام کا اختلاف ہو وہاں مسلمان تو کٹ سکتا ہے اتحاد نہیں کر سکتا، کافر کے کفر پر اتحاد کر لینا اتحاد نہیں بے غیرتی ہےـ

ہاں قرآن و حدیث اتحاد کی دعوت دیتا ہے، مگر اتحاد کا مطلب مداہنت نہیں، اتحاد کا مطلب کتمانِ حق نہیں، اتحاد کا مطلب ضروریاتِ دین کا انکار نہیں، اتحاد کا مطلب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کا سودا نہیں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ اہلِ ایمان کا آپس میں اتحاد ہو، اس لیے ہر مالی جانی قربانی دینے کو تیار ہیں، لیکن ایسا اتحاد جس سے عقیدہ الوہیت و عقیدہ ختمِ نبوتﷺ پر زد پڑتی ہو، ایسا اتحاد جس سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمتوں اور قربانیوں کا انکار ہوتا ہو، ایسا اتحاد جس میں اللہ تعالیٰ، رسول اللہﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، قرآن اور تمام دین کے گستاخ کو بھائی کہا جائے، اور ایسا اتحاد جس سے اسلام کا اصلی چہرہ مسخ ہوتا ہو ہم ایسے اتحاد پر کروڑوں لعنت کرتے ہیں اور اس کو اتحاد نہیں بلکہ ایمان پر ڈاکہ تصور کرتے ہیں۔

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

چودہویں صدی برصغیر پاک و ہند کی بہت اہم صدی گزری ہے، اس میں انگریز سامراج کے خلاف بہت سی تحریکوں نے جنم لیا، ان میں ایسی سیاسی تحریکیں بھی تھیں جو خاص مسلمانوں کی تھی اور سیاسی رہنما انہیں قومی سطح پر اٹھانے کے لیے سنی شیعہ فاصلے کے بغیر آگے بڑھنا چاہتے تھے،

ان تمام سیاسی تقاضوں، بلکہ مشترکہ سیاسی عمل کے باوجود مقتدر علماء اہلِ سنت شیعوں سے ہمیشہ اصولی فاصلے پر رہے اور شیعہ کے مخصوص عقائدِ سبعہ میں سے کسی کو صفِ اسلام میں جگہ نہ دی، اگر کسی کو ساتھ ملایا تو محض تالیفِ قلب کے طور پر کہ شاید حق کا چہرہ ان پر کھل جائے، ان کی مذہبی قیادت سے کبھی اسلام کے نام پر سمجھوتہ نہ کیا گیا۔

پھر یہی وہ صدی ہے جس میں ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزی حکومت کے زیرِ اثر مسیح موعود اور پھر نبی ہونے کا دعویٰ کیا، یہ جانتے ہوئے کہ قادیانیت انگریزی حکومت کے سیاسی مقاصد پورا کرنے کے لیے سامراج کا خود کاشتہ پودا ہے، کئی جگہوں پر سنی اور شیعہ دونوں قادیانت کے خلاف کام کرتے رہے، یہ اتحاد اپنے سیاسی مقاصد و برطانوی سامراج کے مخالفت میں ہوا، اس لیے نہیں کہ سنی، شیعوں کو مسلمان سمجھتے تھے، سنی مسلمانوں نے کبھی کسی ایسے شخص کو مسلمان تسلیم نہیں کیا جو شیعہ کے عقائد سبعہ میں سے کسی ایک عقیدے کا بھی حامل ہوـ

اس پسِ منظر میں اثناء عشری شیعوں کے بارے میں اہلِ سنت کے ہاں اگر کچھ نرمی آ سکتی تھی تو اسی چودہویں صدی میں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وقت کے سیاسی تقاضوں اور مفادات کے باوجود اس صدی کے علمائے حق اس فیصلے سے بالکل متفق رہے، جو سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کی زیرِ نگرانی اسی وقت کی قومی اسمبلی نے کیا تھا، شیعہ سنی بھائی بھائی کی آواز اسلام کی چودہ صدیوں میں کبھی کسی عالمِ حق کے ہاں پذیرائی حاصل نہیں کر سکی، رہے عوام تو انہیں کالانعام ہونے کے سبب اس شہادت میں نہیں لایا جاسکتا۔

(عبقات: جلد، 2 صفحہ، 248)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

کافروں کی دو قسمیں ہیں 

1: کفار مجاہرین 

2: کفار منافقین

کفار مجاہرین وہ ہیں جو اپنے آپ کو کھلے طور پر اسلام کا مخالف کہتے ہیں، اور کفار منافقین وہ ہیں جو صریح کفریہ عقائد کے باوجود اپنے آپ کو صفِ اسلام سے باہر نہیں کرتے۔

ان دوسری قسم کے کافروں کو کسی مصلحت کے لیے کچھ وقت کے لیے اپنے ساتھ ملایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ ہمارے حلقوں میں اپنے کفر کی اشاعت نہ کریں، آنحضرتﷺ نے بھی کچھ عرصے کے لیے انہیں باہر نہ نکالا، آپﷺ سے عرض بھی کی گئی تو آپﷺ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں (ابھی) روک رکھا ہے۔

اس کا مقصد شاید یہ ہو کہ یہ کھلے طور پر کفار مجاہرین سے نہ جا ملیں، یا عام لوگوں کو اس وقت صفِ اسلام کچھ بھاری نظر آئے، اِس وقت ہمیں ان مصالح سے بحث نہیں کہ انہیں کچھ وقت کے لیے اپنے ساتھ کیوں رکھا گیا بتانا صرف یہ ہے کہ کفارِ منافقین کو کبھی کبھار مجاہرین کے مقابلے میں اپنے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔

کسے پتہ نہیں کہ ہمارے اکابرؒ تحریک ختمِ نبوت میں علامہ کفایت حسین کو ساتھ لے کر چلے تھے، لیکن یہ بات بھی سب کے سامنے ہے کہ اس وقت شیعوں کا یہ جارحانہ اندازِ عمل نہ تھا جو خمینی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پیدا ہوا، نہ انہوں نے اس وقت اہلِ سنت و الجماعت کے اکثریتی ملک میں فقہ جعفریہ کے کبھی یہ امن سوز اور اشتعال انگیز نعرے لگائے تھے، اس مرحلے پر پہنچ کر ہر درد مند مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اب ہم انہیں مجاہرین میں کیوں نہ شمار کریں اور مصلحت کا وہ پردہ درمیان سے کیوں نہ ہٹا دیں جو پہلے کفارِ مجاہرین اور کفارِ منافقین میں فرق کرتا تھا، پھر یہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں کہ ان تحریکوں میں جن میں ہمارے بعض اکابرؒ ان کو ساتھ لے کر چلے اُس اتحاد میں غلبہ ہمیشہ اسلام کا ہوتا تھا، اور اُن شیعوں کو اُن محافل و مجالس میں کبھی ان کفریہ کے جہر و اعلان کی جرات نہ تھی جو آج یہ کھلے بندوں کر رہے ہیں، اُن حالات میں اور اِن حالات میں خمینی کا اقتدار اور نفاذِ فقہ جعفریہ کا اعلان حدِ فاصل ہے، جس پر آج ان کا حکم کچھ پہلے سے مختلف ہو گیا ہے۔

(عبقات: جلد، 2 صفحہ، 257)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

جب تک ایران میں یہ مذہبی انقلاب نہیں آیا تھا، اہلِ سنت حضرات ہر قومی تحریک میں شیعوں کو ساتھ لے کر چلتے رہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ اُس وقت تک لوگوں نے شیعت کو صرف کتابوں میں پڑھا تھا، اور ان میں تقیہ کی اساس پر ہر طرح کی روایت مل جاتی تھیں، یہ معلوم کرنا خاصا مشکل تھا کہ اصل شیعہ مذہب کیا ہے، خمینی کے مذہبی انقلاب اور ولایت الفقیہ کے مذہبی خاکے سے اب شیعیت کھل کر سامنے آگئی ہے، اب علماء نے خود دیکھ لیا ہے اور خود ایران جا کر دیکھ لیا ہے کہ شیعیت کی مذہبی دلالتیں عربی نہیں، بلکہ ایرانی ہیں اور اس مذہب کی اساس تو لا پر نہیں بلکہ اولینِ امت کی عداوت پر ہے، اِن حالات میں ہمارا ان کو ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔

(عبقات: جلد، 1 صفحہ، 16)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

شیعوں کے ممتاز قانون دان سید وزیر حسین سابق چیف جج چیف کورٹ اودھ نے 5 فروری 1941ء کو گنگا پرشاد میموریل ہال لکھنؤ میں ایک تقریر میں کہا کہ:

اگر ہندوستان کے شیعوں کو ایک الگ نیشن (قوم) نہ کہا جائے تو کم از کم وہ ایک مستقل اور علیحدہ فرقہ ضرور ہیں، جس کے امتیازی خصوصیات اسے دوسرے مسلمانوں سے بالکل علیحدہ کرتے ہیں، توحید، الوہیت، کلامِ مجید، رسالت، خلافت، نماز، روزہ، عقد اور تدفین، غرض تمام بنیادی اور فروعی امور کی تعبیر میں زبردست اختلاف ہے جو ایک دوسرے کو بالکل علیحدہ کر دیتا ہے، ہماری تاریخ جدا ہے، ہماری روایات جدا ہیں۔

کیا آپ انکار کریں گے کہ ہمارے قانونی مسائل جن کے مرکز پر ہماری زندگی دور کرتی ہیں علیحدہ نہیں ہے (استفہام انکاری) ہمارے قانونِ عقد، قانونِ طلاق اور قانونِ وراثت کو دیکھیے سب علیحدہ ہیں، لہٰذا ہمارے اور ان کے درمیان اتحاد کس بنیاد پر ہو سکتا ہےـ

(عبقات: جلد، 2 صفحہ، 316)