مدینہ سے اکابرین کا منتقل ہو جانا
علی محمد الصلابیحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مہاجرین میں سے قریشی اکابرین پر پابندی لگا رکھی تھی کہ مدینہ سے منتقل نہیں ہو سکتے، بغیر اجازت اور متعین مدت کے وہ مدینہ سے باہر نہیں جا سکتے۔ اس پابندی کی وجہ سے لوگ آپ سے نالاں ہوئے، اور یہ باتیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو پہنچیں تو سیدنا فاروق اعظمؓ نے خطاب فرمایا:
’’خبردار میں نے اسلام میں اونٹ کا طریقہ جاری کیا ہے جو چھوٹا بچہ ہوتا ہے پھر دانتہ ہوتا ہے پھر چار دانت والا ہوتا ہے پھر چھ دانت والا ہوتا ہے پھر ناب (کچلی) آتی ہے اور نو سالہ جوان ہو جاتا ہے۔ خبردار! جوانی کے بعد کمی ہی رونما ہوتی ہے۔ خبردار ہو جاؤ اسلام جوان ہو چکا ہے۔ خبردار قریش کے لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے دوسرے بندوں کے علاوہ وہی اللہ کے مال کو جمع کریں۔ خبردار جب تک ابنِ خطابؓ زندہ ہے یہ نہیں ہو سکتا، میں حرہ کی گھاٹیوں کے دروازے پر کھڑا ہوں اور قریش کے گلے اور کمر کو پکڑ کر جہنم کی آگ میں گرنے سے بچا رہا ہوں۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 413)
حضرت عمر فاروقؓ ان صحابہ کرامؓ کے سلسلہ میں یہ خطرہ محسوس کرتے تھے کہ مبادا وہ مفتوحہ شہروں میں پھیلیں اور مال و جائیداد میں توسع کے شکار ہوں، چنانچہ جب ان مہاجرین میں سے کوئی حضرت عمر فاروقؓ سے باہر جانے کے لیے اجازت طلب کرنے آتا تو آپؓ اس سے کہتے: جو غزوات تم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ کیے ہیں وہ تمہارے لیے آج کے غزوات سے بہتر ہیں، خبردار نہ تم دنیا کو دیکھو اور نہ تمھیں دنیا ہی دیکھے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 414)
لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں مدینہ سے نکلنے کی اجازت دے دی، اور ان کے ساتھ نرمی برتی۔ امام شعبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: جب حضرت عثمان غنیؓ نے مسند خلافت سنبھالی تو مہاجرین کو چھوڑ دیا، وہ شہروں میں پھیل گئے اور لوگ ان کے گرد جمع ہوئے، لہٰذا آپ ان کے نزدیک حضرت عمر فاروقؓ سے زیادہ محبوب قرار پائے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 414)
اس توسع کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش کے لوگوں نے مختلف شہروں میں جائیدادیں بنا لیں، اور لوگ ان کے گرویدہ ہوئے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 413)
ایک اور روایت میں ہے کہ جب حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ ہوئے تو ان کے ساتھ وہ سختی نہیں کی جو سختی حضرت عمر فاروقؓ کرتے تھے، لہٰذا یہ شہروں میں پھیلے، جب انہوں نے ان شہروں اور دنیا کا مشاہدہ کیا اور لوگوں نے انہیں دیکھا تو ان کے گرد ایسے لوگ جمع ہوئے جنھیں اسلام میں کوئی خصوصیت حاصل نہ تھی، اس کی وجہ سے لوگوں میں ان کو مقام ملا، پھر یہ مختلف جماعتوں میں بٹ گئے اور آگے بڑھے، اور کہا: جب یہ زمام حکومت سنبھالیں گے تو ہم انہیں پہچانتے ہوں گے کیوں کہ پہلے سے ہم ان کے قریب رہ چکے ہیں چنانچہ یہ پہلی کمزور ی تھی جو اسلام میں داخل ہوئی عوام میں سب سے پہلا فتنہ یہی رونما ہوا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 414)