پرہیز گاری و ورع کا غلط مفہوم
علی محمد الصلابیشریعت اسلامیہ میں ورع اور پرہیز گاری اچھی چیز ہے، ورع کہتے ہیں کہ انسان غیر مباح کام میں واقع ہونے کے خوف سے مباح کام کو چھوڑ دے۔ چنانچہ ورع درحقیقت اللہ کی محبت میں اور اللہ کی خاطر مباحات سے رک جانے کا نام ہے۔ ورع ایک انفرادی چیز ہے، اس کے لیے یہ تو درست ہے کہ اپنے نفس سے اس کا مطالبہ کرے لیکن اس کے لیے یہ مناسب نہیں کہ دوسروں سے اس کا مطالبہ کرنے اور انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرے، سب سے خطرناک ورع جاہلی ورع ہے جس میں مباح کو حرام یا فرض قرار دے دیا جائے، اس بیماری میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلاف فتنہ برپا کرنے والے گرفتار ہوئے۔
(الاساس فی السنۃ: جلد 4 صفحہ 1676)
اعدائے اسلام نے ان کے ان احساسات کا استغلال کیا اور ان کے اندر اس کی پھونک مار دی، چنانچہ حضرت عثمان غنیؓ نے جو مباحات اور مصالح اختیار کیے اسے جاہلوں نے اسلام سے بغاوت اور سنت سابقہ میں تغیر و تبدیلی تصور کیا، اور ان کی نگاہوں میں یہ مسائل سنگین نظر آئے، پھر انہوں نے خلیفہ راشد عثمان غنیؓ کے خون کو حلال کر لیا، یا اس طرح کے لوگوں کا بھر پور ساتھ دیا اور ہمیشہ کے لیے مسلمانوں پر فتنہ کا دروازہ کھول دیا، اس جاہلی ورع و پرہیزگاری کا مشاہدہ آج ہم بعض مسلمانوں کے تصرفات میں کر رہے ہیں جو اسلامی احکام کو اپنی خواہشات و تصورات یا عادات و تقالید کے موافق ڈھالنا چاہتے ہیں۔
(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 517)