کینہ وروں کی سازش - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کینہ وروں کی سازش

  علی محمد الصلابی

اسلام میں وہ منافقین داخل ہوئے جو اپنے مقاصد میں ناکام رہے تھے ان کے اندر بغض و کینہ، چالاکی و مکاری بھری تھی، انہوں نے نقطۂ ضعف کو معلوم کر لیا جس سے وہ فتنہ برپا کرنے میں کامیاب ہو سکتے تھے، اور پھر انہیں کچھ ان کی باتیں سننے والے مل گئے جس کے نتیجہ میں جو کچھ ہونا تھا ہوا۔

(الاساس فی السنۃ: جلد 4 صفحہ 1676)

اس سے قبل ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور فارسی یہ سب اسلام اور اسلامی سلطنت سے خار کھائے ہوئے بغض و حسد میں ڈوبے ہوئے تھے، یہاں اس فہرست میں ان لوگوں کا اضافہ کر لیجیے جنھیں کسی جرم کے ارتکاب میں سزا دی گئی تھی یا ان پر حد جاری کی گئی تھی اور خلیفہ یا اس کے گورنروں نے ان کی گرفت کی تھی، خاص کر بصرہ و کوفہ اور مصر و مدینہ میں بہرحال اس صورت حال میں اس سے حاقدین یہود و نصاریٰ اور فارسیوں اور جرائم پیشہ لوگوں نے فائدہ اٹھایا، اور لوگوں کو بھڑکایا جن میں اکثریت ان بدوؤں کی تھی جنھیں دین کی صحیح فہم و بصیرت حاصل نہ تھی۔ ان لوگوں کی ایک ایسی جماعت تیار ہو گئی جن سے جو لوگ بھی ملے اور گفتگو کی انہوں نے انہیں شرپسند ہی قرار دیا، اور ان کے یہ اوصاف بیان کیے:

صوبوں کے فسادی لوگ، قبائل کے جھگڑالو لوگ، چشموں پر رہنے والے اور مدینہ کے غلام،

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 392)

عرب کے بے وقوف، 

(ایضاً)

ادنیٰ درجہ کے گئے گزرے لوگ، شرارت پر متفق

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 71)

 بے وقوف، فقہ و بصیرت سے عاری

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 392)

کمینے، قبائل کے اوباش،

(شذرات الذہب: جلد 1 صفحہ 40)

سنگ دل و حشی، قبائل کے فسادی اور رذیل لوگ، نچلے درجہ کے کمینے

(شرح صحیح مسلم: جلد 15 صفحہ 149، 148) 

شیطان کے آلہ کار۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 327)

تاریخی مراجع اور مصادر میں عبداللہ بن سبا یہودی کا نام ان شرپسند حاقدین کے ساتھ مذکور ہے کہ یہ یہودی تھا پھر اسلام ظاہر کیا، کسی نے اس کے عزائم و مقاصد کو نہیں ٹٹولا، اور پھر یہ شخص اسلامی شہروں میں مسلمانوں کی طرح چکر لگاتا رہا۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 393)

 ان شاءاللہ عنقریب اس سے متعلق مستقل طور پر تفصیلی بیان ہو گا۔