Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ولی کامل، فقیہ العصر، مفتی اعظم، شیخ التفسیر والحدیث، حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جان صاحب رحمۃاللہ کا فتویٰ بانی جامعۃ الحمید لاہور:


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ماہِ محرم میں سلامت پورہ کے علاقہ میں مختلف جگہوں سے شیعوں نے جلوس نکالا اور اس میں حضراتِ شیخین کریمینؓ و ازواجِ مطہراتؓ کو گالیاں دی گئیں، خصوصا حضراتِ شیخین کریمینؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بہت گالیاں دی گئیں، اس پر اہلِ سنت نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا حکومت نے ابتداءً کاروائی کی اب اس کی وجہ سے شیعہ مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ (صلح) کرنا چاہتے ہیں کہ ہم آئندہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں نہیں دیں گے، حالانکہ وہ اس سے پہلے کئی مرتبہ صلح کر کے دوبارہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین کر چکے ہیں اس مرتبہ اگر ہم ان سے صلح نہ کریں تو حکومت ان کی ماتمی جلوس پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگا دے گی ان حالات کے پیشِ نظر آپ شرعی فتویٰ صادر فرمائیں کہ ان کے ساتھ صلح جائز ہے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ حضراتِ شیخین کریمینؓ کو گالی دینے والا اور اسی طرح سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگانے والا کافر ہے، اور کافر کے ساتھ معاہدہ اور صلح اس وقت جائز ہے جب اس میں مسلمانوں کے لیے بہتری ہو اور اگر معاہدہ کرنے میں مسلمانوں کے لیے بہتری نہ ہو تو ان کے ساتھ معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے، اور سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ معاہدہ نہ کرنے میں مسلمانوں کے لیے بہتری ہے لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ان کے ساتھ معاہدہ نہ کیا جائے بشرط یہ کہ مسلمانوں کو صلح نہ کرنے میں بہتری پر اطمینان ہوں۔ 

(ارشاد المفتین: جلد، 1 صفحہ، 478)