Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی صاحب رحمۃاللہ کا فتویٰ کیا شیعہ سنی اتحاد از روئے شریعت جائز ہے؟


 *شیعہ کے کفریہ عقائد اور ان کی تکفیر کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ:*

سوال: یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ چودہ سو سال سے شیعہ اسلامی فرقوں میں شمار ہوتے آئے ہیں اب انہیں کیوں کر کافر قرار دیا جا سکتا ہے؟

جواب: اس اہم مسئلہ کی وضاحت حضرت مولانا محمد منظور نعمانی صاحب رحمۃاللہ نے اپنی کتاب: ایرانی انقلاب، امام خمینی، اور شیعیت میں نہایت تفصیل کے ساتھ کی ہے، یہاں اس کا خلاصہ کچھ ترمیم و اضافہ کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، تاکہ قارئینِ کرام شیعیت کی حقیقت اور شیعی ذہنیت سے آگاہ ہو کر ان کے دجل و فریب سے بچ سکیں۔

*دو اہم نکات:*

1: بانی ایرانی انقلاب کے تقدس و عظمت کا پروپیگنڈہ اور اس پروپیگنڈے کی طاقت و تاثر، موجودہ ایرانی حکومت اپنے سفارت خانوں اور ایجنٹوں کے ذریعے خمینی کی شخصیت اور اس کی اور اس کے برپا کردہ انقلاب کی اسلامیت کو ثابت کرنے کے لیے اور اسی سلسلہ میں وحدتِ اسلامی اور سنی اتحاد کی دعوت کو عام کرنے کے لیے ملک کی دولت پانی کی طرح بہا رہی ہے، اس مقصد کے لیے کانفرنسوں پر کانفرنسیں بلائی جا رہی ہیں، اور مختلف زبانوں میں کتابوں، کتابچوں، پمفلٹوں اور رسائل و اخبارات کا ایک سیلاب جاری ہے، اور عالمِ اسلام کے بے ضمیر دانشوروں، صحافیوں، اور علمائے مشائخ کو خریدنے کے لیے گویا حکومتی خزانے کا منہ کھول دیا گیا ہے، حالانکہ شیعہ مذہب کا ماخذ نہ تو قرآن ہے نہ حدیث نہ اس مذہب کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق ہے نہ رسولﷺ سے کوئی واسطہ۔

2: شیعہ مذہب سے علمائے اہلِ سنت کی ناواقفی اور اس ناواقفیت کی وجہ سے مذہبِ شیعہ کی خاص تعلیم کتمان اور تقیہ، کتمان کے معنیٰ چھپانے اور ظاہر نہ کرنے کے ہیں،

 اور تقیہ کا مطلب ہے اپنے قول یا عمل سے اصل حقیقت اور واقعہ کے خلاف ظاہر کرنا اور اس طرح دوسرے کو دھوکے میں مبتلا کرنا۔

مذہب شیعہ کی اس تعلیم کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ جب تک پریس کے ذریعے عربی فارسی کی دینی کتابوں کی طباعت کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا اور ہاتھ ہی سے کتابیں لکھی جاتی تھیں، علمائے اہلِ سنّت عام طور سے مذہبی شیعہ سے ناواقف رہے کیونکہ وہ کتابیں صرف خاص خاص شیعہ علماء ہی کے پاس ہوتی تھیں وہ کسی غیر شیعہ کو ان کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے تھے۔

بعد میں جب دینی مذہبی کتابیں پریس کے ذریعے چھپنے لگیں اور مذہبی شیعہ کی یہ کتابیں بھی چھپ گئیں، تب بھی ہمارے علمائے کرام نے ان کے مطالعے کی طرف توجہ نہیں کی سوائے گنتی کے چند حضرات کے اور جب علماء کا یہ حال رہا تو ہمارے عوام کا کیا ذکر اور کسی سے کیا شکایت۔

اس عام ناواقفیت کے سبب عوام الناس کا خمینی اور ایرانی انقلاب سے متاثر ہونا ایک فطری بات ہے کیونکہ وہ شیعت کی بنیادی خدوخال سے آگاہ نہ تھے۔

*اسلام میں شیعیت کا آغاز:*

 شعیت اسلام کے اندر تخریب کاری اور مسلمانوں میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کے لیے یہودیت وہ مجوسیت کی مشترکہ کاوش سے اس وقت وجود میں آئی تھی جب یہ دونوں قوتیں طاقت کے بل بوتے پر اسلام کی برق رفتاری سے پھیلتی ہوئی دعوت کو روکنے میں ناکام رہی تھی، اور اسی لیے شیعیت کا تانا بانا پولوس کی تصنیف کردہ مسیحیت کے تانے بانے سے بہت کچھ ملتا ہے، جس نے عیسائی بن کر اندر سے ایسی عیسائیت کی تحریف اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لائے ہوئے دینِ حق کی تخریب کی کامیاب کوشش کی تھی جس کا نتیجہ موجودہ عیسائی مذہب ہے۔

شیعہ مذہب کے عقائد و مسائل ایسے ہیں جن میں سرِفہرست قرآن میں تحریف کا عقیدہ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ازواجِ مطہراتؓ اور بالخصوص خلفائے ثلاثہؓ کے بارے میں سبِّ ، و شتم ہی نہیں بلکہ ان حضراتؓ کو منافق، کافر، زندیق اور مرتد قرار دینے والی وہ خون کھولا دینے والی شیعی روایات ہیں جنہیں کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔

*شیعہ مذہب میں عقیدہ توحید و توہین باری تعالیٰ:*

1: نہ ہم اس رب کو مانتے ہیں اور نہ اس رب کے نبی کو مانتے ہیں جس کا خلیفہ ابوبکر ہو۔

 (الانوار النعمانیہ: جلد، 2 صفحہ، 278) 

2: خدا جب راضی ہوتا ہے تو فارسی میں باتیں کرتا ہے خدا جب ناراض ہوتا ہے تو عربی میں بات کرتا ہے۔

(تاریخِ اسلام: صفحہ، 163 مصنف علامہ محمد بشیر انصاری)

3: رب علیؓ ہے قرآن نے جس کو رب کہا وہ ساقی کوثر علیؓ ہیں۔

(جلاء العیون: جلد، 2 صفحہ، 66)

4: علیؓ سے مدد مانگنا شرک نہیں بلکہ سنّتِ خاتمِ الانبیاءﷺ ہے۔

 (ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور: صفحہ، 41) 

5: علیؓ اور ان کے بعد حسنؓ حسینؓ امام ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی اطاعت فرض کی یہی اللہ اور اس کے ملائکہ کا دین ہے۔

 (الشافی: صفحہ، 24)

6: حضرت علیؓ اسمائے حسنہ ہے جنت و جہنم کا مالک ہے تمام لوگ اس کی طرف لوٹ کر آئیں گے تمام مخلوق اسے حساب دے گا۔ 

 (بصائر الدرجات: صفحہ، 22 )

7: حالات کے مطابق علیؓ کو مصائب میں پکارنا سنتِ انبیاء و قرآن ہے۔

(جلا العیون: جلد، 2 صفحہ، 66)

8: جس نے علیؓ کی امامت کا اقرار نہیں کیا خدا کی وحدانیت کا اس کا اقرار درست نہیں ہے اور وہ مشرک ہے۔

(ترجمہ حیات القلوب: جلد، 3 صفحہ، 233) 

9: متعہ پروردگار کی سنت ہے۔

(تفسیر منہج الصادقین: جلد، 2 صفحہ، 494)

10: حضورﷺ فاطمہؓ اور بارہ ائمہ کرام، یہ چودہ حضرات وہ ذات ہیں جو خالقِ کائنات کی طرح بے مثل و بے نظیر ہے۔ 

(چودہ ستارے: صفحہ، 2) 

11: خدا نے جبرائیل کو علیؓ کی طرف بھیجا وہ غلطی سے محمدﷺ کی طرف چلے گئے خدا نبیﷺ، اور علیؓ، فاطمہؓ حسنؓ، حسینؓ میں اتر آیا اور علیؓ الہٰ ہے۔

(تذکرۃ الائمہ: صفحہ، 53)

*شیعہ مذہب میں بداء کا عقیدہ:*

1: ہر نبی نے اللہ تعالیٰ کے متعلق بداء کا اقرار کیا۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 148)

2: بداء کا عقیدہ رکھنے کے برابر اللہ تعالیٰ کی کوئی عبادت نہیں۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 84)

3: حضرت علیؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ابو محمد کے بارے میں غلطی ہوئی، جیسے موسیٰ کے بارے میں غلطی ہوئی۔ 

(اصول کافی: صفحہ، 304)

4: سیدنا رضا نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو حرمتِ شراب اور بداء کے ماننے کا حکم دے کر بھیجا ہے۔

(اصولِ کافی: صفحہ، 86)

5: سیدنا محمد باقرؒ یا سیدنا جعفر صادقؒ میں سے کسی ایک سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور کسی چیز سے ایسے نہیں ہوتی جیسا کہ بداء کے عقیدہ سے ہوتی ہے۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 228)

6: ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا کہ بداء (اللہ تعالیٰ کی طرف غلطی کی نسبت) کا عقیدہ رکھنے میں کتنا ثواب ہے تو وہ اس عقیدے سے نہ رکتے۔ (اصولِ کافی: صفحہ، 86)

*شیعہ مذہب میں کلمہ طیبہ:*

1: لا اله الا الله محمد رسول الله على ولى الله وصى رسول الله و خليفتة بلا فصل۔

(اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ: صفحہ، 422)

2: توحید و رسالت کے ساتھ ولایت کو ضروری سمجھا اور کہا لا اله الا الله محمد رسول الله على ولى الله وصى رسول الله و خليفتة بلا فصل۔

(شیعہ مذہبِ حق ہے: صفحہ، 325)

3: شیعہ مصنف عبد الکریم مشتاق لکھتے ہیں کہ: میں نے خدا کی عطاء کردہ عقلی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے بغور فیصلہ کر لیا کہ سنیوں کا کلمہ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ پڑھ لینا دلیل ایمان نہیں بلکہ اس کے اقرار پر بھی خدا نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منافق قرار دے دیا۔ 

(شیعہ مذہبِ حق ہے: صفحہ، 342)

4: شیعہ مصنف عبد الکریم مشتاق لکھتے ہیں کہ توحید و رسالت کے ساتھ علیؓ کی امامت، خلافت اور وصایت کا اقرار کیا جائے تو اس تیسرے حصہ کو کلمہ میں شامل کرنا عین اطاعت خدا و رسول ہے، اور اس کی مخالف بلا جواز ہے۔

آگے لکھتے ہیں کہ ہم اگر غور و انصاف کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ موحد کی پہچان لا اله الا الله سے ہوتی ہے، مسلم کی پہچان محمد رسول الله سے ہوتی ہے، اور مؤمن و منافق میں تمیز على ولى الله سے ہوتی ہے۔ 

(شیعہ مذہبِ حق ہے: صفحہ، 311)

5: انبیاء کرام علیہم السلام نے خدا کی توحید، حضورﷺ کی نبوت اور علیؓ کی ولایت کا اقرار کیا، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ اگر انبیاء یہ تینوں (خدا کی توحید، حضورﷺ کی نبوت اور علیؓ کی ولایت) کا اقرار نہ کرتے تو وہ نبی نہ بنتے نہ رسول، تو جب ان تین اجزاء کے اقرار کے بغیر انبیاء کی نبوت نہیں رہ سکتی تو ہمارا ایمان کیسے رہے گا، لہٰذا ایمان اسی کا مکمل ہوگا جو کلمے میں ان تینوں اجزاء کا اقرار کرتا ہوگا۔

(وسیلہ انبیاء: جلد، 2 صفحہ، 179)

*شیعہ مذہب میں توہین انبیاء کرام علیہم السلام و عقیدہ امامت:*

1: امام رسول اللہ کے برابر ہیں۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 270)

2: پنچتن پاک ساری مخلوق سے افضل ہیں۔ 

(وسیلہ انبیاء: صفحہ، 90)

3: محمد اور آلِ محمد اولادِ آدم سے نہیں ہے۔ 

(جلاءُ العیون: جلد، 2 صفحہ، 59)

4: ائمہ خود ذاتِ محمد ہیں۔

(کتاب البرہان: جلد، 1 صفحہ، 25)

5: امام کے بغیر دنیا قائم نہیں رہ سکتی۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 178)

6: امام پر وحی نازل ہوتی ہے۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 176)

7: امام تمام گناہوں اور عیوب سے پاک اور مبرا ہوتا ہے۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 200)

8: حضرت علیؓ تمام انبیاء سے افضل ہے۔ 

(جلاءُ العیون: جلد، 2 صفحہ، 20)

9: حضرت علیؓ کے در کے بھکاری تو اولولعزم پیغمبر ہیں۔ 

(خلقتِ نورانیہ: جلد، 1 صفحہ، 201)

10: امام میں نبیﷺ سے بڑھ کر صفات موجود ہیں۔

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ 388)

11: ولایت علیؓ کا رتبہ نبوت سے زیادہ ہے۔ 

(ہزار تمہاری دس ہماری: صفحہ، 52)

12: امامت کا درجہ نبوت و پیغمبری سے بالاتر ہے۔

(حیاتُ القلوب: جلد، 2 صفحہ 3)

13: امامت علی کا منکر نبوت محمدﷺ کا منکر ہے۔

(تفسیر مرآۃ الانوار: صفحہ، 24)

14: حضورﷺ کی وفات کے وقت میت بِکس گئی اور پیٹ پھول گیا۔ 

(تنزیہ الاسباب: صفحہ، 10)

15: شبِ قدر میں امام پر سالانہ احکام نازل ہوتے ہیں۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 248)

16: امام اپنی موت کا وقت جانتا ہے اور اپنے اختیار سے خود مرتا ہے۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 258)

17: امام مہدی ظہور کے بعد سب سے پہلے سنی علماء کو قتل کریں گے۔ 

(حقُ الیقین: جلد، 1 صفحہ، 527)

18: امام مہدی کی بیعت تمام ملائکہ جبرائیل اور میکائیل کریں گے۔ 

(چودہ ستارے: صفحہ، 594)

19: امام تمام گناہوں اور عیوب سے پاک اور مبرا ہوتا ہے۔

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 200)

20: امام کی معرفت کے بغیر خدا کی محبت پوری نہیں ہو سکتی۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 177)

21: امام مہدی نئی شریعت لائے گا اور نئے احکامات جاری کریں گے۔ 

(بحارُ الانوار: صفحہ، 597)

22: حضرت علیؓ واقعی رسول کا حصہ ہے، اور انہیں علم غیب عطا کی گیا۔ 

(عالمُ الغیب: صفحہ، 47)

23: انبیاء کو نبوت علیؓ کی امامت کے اقرار سے ملی۔

(المجالس الفاخرہ فی اذکار العترۃ الطاہرہ: صفحہ، 12)

24: ائمہ معصومین حضورﷺ کے قائم مقام ہیں، اور انبیاء سے افضل ہیں۔

(انوار النجف فی اسرار المصحف: صفحہ، 11)

25: ائمہ گزشتہ اور آئندہ تمام اُمور جانتے ہیں اور ان پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 260)

26: ائمہ جس چیز کو چاہتے ہیں حلال کرتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے حرام کرتے ہیں۔ 

(خلقتِ نورانیہ: صفحہ، 155)

27: تمام دنیا اور آخرت امام کی ملکیت ہے وہ جس کو چاہیں دے دیں اور جس کو چاہیں نہ دے دیں۔

(اصولِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 409)

28: قومِ عاد، ثمود اور فرعون کو ہلاک کرنے والے اور موسیٰ کو نجات دینے والے علیؓ ہے۔ 

(وسیلہ انبیاء: جلد، 2 صفحہ، 110)

29: امام مہدی جب غار سے باہر آئے گا تو اس کے ہاتھ پر سب سے پہلے حضورﷺ بیعت کریں گے اس کے بعد حضرت علیؓ اس کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔ 

(حقُ الیقین: صفحہ، 160)

30: ہمارے مذہب کے ضروری عقائد میں سے ہے کہ ہمارے ائمہ کا وہ درجہ ہے کہ جہاں تک کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل نہیں پہنچ سکتا۔ 

(الولایۃ التکوینیہ: صفحہ، 52)

31: امامت بھی نبوت کی طرح منصب الہٰی ہے، امام کا معصوم ہونا ضروری ہے، امام کا خطاء اور نسیان سے محفوظ ہونا واجب ہے، امام کے لئے سارے زمانے پر فوقیت رکھنا ضروری ہے۔

(تحفہ نماز جعفریہ: صفحہ، 28)

32: ائمہ اطہار سوائے جناب سرور کائناتﷺ کے دیگر تمام انبیاء اولو العزم وغیرہم سے افضل و اشرف ہے۔ 

(احسن الفوائد فی شرح العقائد: صفحہ، 406، طبع پاکستان، مصنف علامہ محمد حسین)

33: جو نبی بھی آئے وہ انصاف کے نفاذ کیلئے آئے ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ تمام دنیا میں انصاف کا نفاذ کریں لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے، یہاں تک کہ حضورﷺ جو انسانوں کی اصلاح کیلئے آئے تھے وہ بھی کامیاب نہیں ہوئے۔

(اتحاد و یک جہتی امام خمینی کی نظر میں: صفحہ، 15)

34: تمام مخلوقات پر اماموں کی اطاعت اور فرمانبرداری لازم ہے اور مخلوق کے تمام کام اللہ نے ان کے سپرد کر دئیے ہیں، سو حضرات ائمہ کرام جس چیز کو چاہتے ہیں حلال کرتے اور جس چیز کو چاہتے حرام کر دیتے ہیں۔ 

(اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 441)

*شیعہ مذہب میں تقیہ و کتمان کی اہمیت:*

1: تقیہ واجب ہے اس کا ترک کرنا جائز نہیں۔ 

(احسنُ الفوائد: صفحہ، 472)

2: خانہ کعبہ میں شیعہ کو تقیہ کر کے اہلِ سنت والی نماز پڑھنی چاہیئے۔ 

(عبادت و خود سازی: صفحہ، 265)

3: بے شک دین کے نو حصے تقیہ میں ہیں اور جو شخص تقیہ نہیں کرتا وہ بے دین ہے۔

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 217)

4: جو شخص تقیہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرے گا اور جو تقیہ نہیں کرے گا اسے ذلیل کرے گا۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 217)

5: تم ایسے دین پر ہو جو اس کو چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے عزت دے گا اور جو دین کو ظاہر اور اسے شائع کرے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ ذلیل و رسوا کرے گا۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 222)

6: تقیہ واجب ہے، اس کا ترک کرنے والا مذہبِ امامیہ سے خارج ہے، اور مخالفت کی اس نے اللہ تعالیٰ، رسولﷺ اور ائمہ کی۔ 

(احسن الفوائد: صفحہ، 626)

7: جس آدمی کو معمولی عقل و فہم ہے وہ جانتا ہے کہ تقیہ اللہ تعالیٰ کے قطعی احکام میں سے ہے۔ 

(کشفُ الاسرار: صفحہ، 129)

*شیعہ مذہب میں عقیدہ تحریف قرآن کریم:*

1: اصل قرآن بکری کھا گئی۔ 

(کتاب البرہان: جلد، 1 صفحہ، 38)

2: قرآن پاک میں شراب خور خلفاء نے تبدیلی کی۔ 

(قرآنِ مجید مترجم: صفحہ، 479)

3: اصل قرآن میں سترہ ہزار آیات ہیں۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 616)

4: قرآنِ پاک سے بے شمار آیات نکال دی گئیں ہیں۔ 

(آل و اصحاب: صفحہ، 13)

5: مرتدین نے قرآنِ پاک تبدیل کر دیا۔ 

(قرآنِ مجید مترجم: صفحہ، 1011)

6: جامعینِ قرآن نے قرآن میں کفر کے ستون کھڑے کر دیئے۔

(احتجاجِ طبرسی: جلد، 1 صفحہ، 257)

7: ائمہ کے علاوہ کسی کے پاس پورا قرآن ہے نہ قرآن کا پورا علم۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 228)

8: قرآنِ مجید سے بولایۃ علیؓ کے الفاظ نکال دیئے گئے۔

(ترجمہ حیاتُ القلوب: جلد، 3 صفحہ، 193)

9: اصل قرآن مہدی کے پاس ہے موجودہ قرآن غیر اصل ہے۔

(ہزار تمہاری دس ہماری: صفحہ، 553)

10: موجودہ قرآن کو اولیاء الدین کے دشمنوں نے جمع کیا ہے۔ 

(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 130)

11: اصل قرآن آج کے بعد ظہور مہدی تک نظر نہیں آئے گا۔

(انوارِ نعمانیہ: جلد، 2 صفحہ، 360)

12: موجودہ قرآن کی ترتیب خدا کی مرضی کے خلاف ہے۔

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 30)

13: قرآنِ مجید میں ایسی باتیں بھی ہیں جو خدا نے نہیں کہیں۔ 

(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 30)

14: موجودہ قرآن کی ترتیب خدا کی مرضی کے خلاف ہے۔

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 30)

15: موجودہ قرآن میں خلافِ فصاحت اور قابلِ نفرت الفاظ موجود ہیں۔ 

(احتجاجِ طبرسی: صفحہ، 30)

16: محدث جزائری کہتے ہیں کہ صراحتاً تحریفِ قرآن پر دلالت کرنے والی متواتر روایتوں کی صحت پر (ہمارے) سب اصحاب کا اتفاق ہے۔ 

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 30)

17: تحریفِ قرآن پر دلالت کرنے والی روایات دو ہزار سے زیادہ ہیں، ایک جماعت نے ان کے متواتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے مفید، محقق داماد اور علامہ مجلسی وغیرہ۔ 

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 30)

18: قرآن سے مراد وہ قرآن ہے جو ائمہ کے پاس محفوظ ہے جس کی سترہ ہزار آیتیں ہیں۔

(صافی شرح کافی: جلد، 2 کتاب فصل القرآن: جز ششم، صفحہ، 65، طبع لکشور)

19: ابو عبداللہ سے روایت ہے کہ جو قرآن جبرئیل محمدﷺ کے پاس لائے اس کی ستر ہزار آیتیں تھیں۔ 

(اصولِ کافی: صفحہ، 671)

20: گیارہ مرتبہ سورۃ الفجر پڑھ کر آلہ تناسل (شرمگاہ) پر دم کرے اور بیوی سے نزدیکی کرے تو اللہ فرزند عطا کرے گا۔ 

(تحفۃُ العوام: صفحہ، 293)

21: موجودہ قرآن رطبُ و یابس کا مجموعہ ہے جب کہ اصل قرآن میں تو پاکستان تک کا ذکر ہے۔

(ہزار تمہاری دس ہماری: صفحہ، 554)

22: تحریف و تبدل کے واقع ہونے میں قرآن، توراۃ اور انجیل ہی کی طرح ہے اور جو یہ بتلاتی ہے کہ جو منافقین امت پر غالب آگئے اور حاکم بن گئے (یعنی حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ وغیرہ) وہ قرآن میں تحریف کرنے کے بارے میں اسی راستے پر چل کر بنی اسرائیل نے توراۃ اور انجیل میں تحریف کی تھی۔ 

(فصلُ الخطاب: صفحہ، 94)

23: ان سب احادیث اور اہلِ بیتؓ کی دیگر روایات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ قرآن جو اس وقت ہمارے سامنے ہے پورا نہیں ہے، جیسا کہ رسالتِ مآبﷺ پر اترا تھا بلکہ اس میں ایسی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کے خلاف ہے، ایسی بھی ہیں جن میں تبدیلی کی گئی ہے اور وہ تحریف شدہ ہیں اور ان میں سے بہت سی چیزیں نکال دی گئی ہیں۔ 

(تفسیرُ الصافی: جلد، 1 صفحہ، 32)

24: جب قائم (یعنی امام مہدی غائب) ظاہر ہوں گے تو وہ قرآن کو اصلی اور صحیح طور پر پڑھیں گے اور قرآن کا وہ نسخہ نکالیں گے جس کو علیؓ نے لکھا تھا اور سیدنا جعفر صادقؒ نے یہ بھی فرمایا کہ جب علیؓ نے اس کو لکھ لیا اور پورا کر لیا تو لوگوں سے (یعنی سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ وغیرہ سے) کہا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے ٹھیک اس کے مطابق جس طرح اللہ نے محمدﷺ پر نازل فرمائی تھی، میں نے اس کو لوحین سے جمع کیا ہے تو ان لوگوں (یعنی حضرت ابوبکرؓ وچحضرت عمرؓ وغیرہ) نے کہا کہ ہمارے پاس یہ جامع مصحف موجود ہے اس میں پورا قرآن ہے ہم کو تمہارے جمع کئے ہوئے قرآن کی ضرورت نہیں تو علیؓ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اب آج کے بعد تم کبھی اس کو دیکھ نہ سکو گے۔ 

(کشفِ اسرار: صفحہ، 227)

25: علی بن سوید کہتے ہیں ابو الحسن اول نے مجھے جیل سے لکھا کہ اے علی یہ جو تم نے لکھا ہے کہ دین کی بنیادی باتیں کس سے سیکھوں سو یاد رکھو اپنے دین کی باتیں سوائے ہمارے شیعہ کے کسی اور سے حاصل نہ کرو اس لیے کہ اگر تم ان کے علاوہ دوسرے کے پاس گئے تو گویا تم نے ایسے خیانت کرنے والوں سے علم حاصل کیا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کی، اور جو امانت ان کے پاس رکھی گئی تھی اس میں خیانت کی ان کے پاس کتابُ اللہ امانت تھی انہوں نے اس میں تحریف کر ڈالی اور اس میں تبدیلیاں کیں ان پر اللہ ملائکہ میرے نیک آباؤ و اجداد میری اور میرے تمام شیعہ کی قیادت تک پھٹکار ہو۔ 

(رجال کشی: صفحہ، 3)