فتنہ برپا کرنے میں سبائیوں کا اثر - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

فتنہ برپا کرنے میں سبائیوں کا اثر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سبائی تحریک، حقیقت یا خیال:

متقدمین کا بلا استثناء عبداللہ بن سباء کے وجود پر اجماع ہے، معاصرین میں سے تھوڑے سے لوگوں نے اس سے اختلاف کیا ہے جن میں اکثر شیعہ ہیں، انکار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ سیف بن عمر تمیمی کا من گھڑت تصور ہے کیوں کہ علمائے جرح و تعدیل نے روایت حدیث میں اس شخص پر تنقید کی ہے، لیکن علماء نے تاریخی روایات کے سلسلہ میں اس کو حجت مانا ہے اور بہت سی روایات تاریخ ابن عساکر میں وارد ہیں جن میں عبداللہ بن سبا کا ذکر ہے، لیکن ان روایات کے راویوں میں سیف بن عمر تمیمی نہیں ہے، اور شیخ البانی رحمۃاللہ نے بعض روایات کو باعتبار سند صحیح قرار دیا ہے۔ یہ ان بہت سی روایات کے علاوہ ہیں جو شیعی کتب میں عبداللہ بن سبا سے متعلق وارد ہیں ہیں خواہ وہ ان کی فرق کی کتابیں ہوں، یا رجال کی، یا حدیث کی، اور پھر ان روایات میں سیف بن عمر کا قریب و بعید کہیں سے بھی ذکر نہیں ہے۔

بعض محققین نے عبداللہ بن سبا (عبداللہ بن سبا جس کا لقب ابن السوداء تھا صنعاء کا ایک یہودی تھا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اسلام ظاہر کیا، شام، عراق اور مصر میں اس کی تحریک پروان چڑھی، مسلمانوں کو دین سے پھیرنے اور خلیفہ کی اطاعت سے برگشتہ کرنے کے لیے منصوبہ بند تحریک چلائی اور تخریبی افکار پھیلائے اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف و انشقاق پیدا کیا۔ دیکھیے: تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 284)

کی شخصیت کو مشکوک قرار دینے کی کوشش کی ہے، اس کو وہمی شخصیت قرار دیتے ہوئے بلاحجت و برہان اس کے وجود ہی سے انکار کیا ہے، لیکن جن حضرات نے ابنِ سباء کے وجود کا انکار کیا ہے وہ مستشرقین کا ایک گروہ، عرب ریسرچ اسکالروں کی ایک ٹولی اور اکثر شیعہ معاصرین ہیں۔

تعجب ہے یہ مستشرقین اور ان کے دم چھلے روافض اور مغرب نواز، عبداللہ بن سباء کی شخصیت کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک وہمی شخصیت ہے، اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ جہالت و بےحیائی کی اس حد تک یہ لوگ پہنچ چکے ہیں۔ تاریخ و فرق کی کتابیں اس کے ذکر سے بھری پڑی ہیں، اس کے کرتوت و افعال کو راویوں نے نقل کیا ہے اور اس کی خبروں سے آفاق پر ہیں۔ مؤرخین، محدثین، فرق و ملل و نحل کے مصنفین، طبقات، ادب اور انساب کے مؤلفین جنھوں نے سبائیوں کا ذکر کیا ہے، سب عبداللہ بن سبا کے وجود پر متفق ہیں جس کا ذکر اہل سنت کی کتابوں میں بھی آیا ہے اور شیعوں کی کتابوں میں بھی آیا ہے۔ عبداللہ بن سبا کی شخصیت تاریخی اور حقیقی شخصیت ہے۔ فتنہ کی روایات اور اس میں عبداللہ بن سبا کے کردار کا ذکر صرف تاریخ طبری اور سیف بن عمر تمیمی کی روایات پر منحصر نہیں بلکہ یہ روایات متقدمین کی روایات اور اسلامی تاریخ کے واقعات، اور فرقوں کے آراء و افکار پر نگاہ رکھنے والی کتابوں میں بھری پڑی ہیں، تاریخ طبری کی خصوصیت صرف یہ ہے کہ اس میں سب سے زیادہ مواد اور تفصیل مذکور ہے۔ بلا سند اور بلا دلیل ان واقعات میں تشکیک پیدا کرنا، ان تمام روایات و اخبار کو سرے سے ملیامیٹ کرنا اور ان تمام مؤرخین و علماء کو نادان و بےوقوف قرار دینا درحقیقت تاریخی حقائق کو جعلی قرار دینا ہے۔ نصوص اور روایات کے انبار کے مقابلہ میں محض عقلی استنتاج کو کبھی صحیح منہج نہیں قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ کبھی ایسا رہا ہے۔ کیا منہجیت یہی ہے کہ ان تمام قدیم و جدید ڈھیر سارے مصادر و مراجع سے اعرض کر لیا جائے جو عبداللہ بن سبا کے وجود کو ثابت کرتے ہیں؟

(تحقیقی مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 70)کتاب دعاوی الانقاذ للتاریخ الاسلامی الانقاد للدکتور سلیمان بن حمد العودۃ۔ یہ کتاب مصنف نے علی حسن فرحات مالکی کے رد میں لکھی ہے اور اس میں ان سندوں کو بالتفصیل ذکر کیا ہے جو امام البانی پر پیش کی گئیں اور آپ نے ان پر حکم لگایا۔ 

عبداللہ بن سبا کا ذکر اہل سنت کی کتابوں میں بہت آیا ہے ان میں سے چند یہ ہیں:

سبائیوں کا ذکر اعشی ہمدان (اس کا نام عبدالرحمٰن بن حارث ہمدانی ہے، اعشی ہمدان کے نام سے معروف ہے، فارسی شاعر ہے فقہاء و قراء میں سے ہے لیکن شاعر کی حیثیت سے معروف ہے۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: مشہور بے دھڑک شاعر ہے، عبادت گزار اور فاضل تھا، 83ھ میں قتل ہوا۔

(متوفی 83ھ) نے اپنے شعر میں کیا، چنانچہ اس نے مختار بن ابی عبید ثقفی اور اس کے کوفہ کے معاونین کی ہجو کرتے ہوئے اس وقت یہ شعر کہا جب کوفہ کے شرفاء کے ساتھ بھاگ کر بصرہ پہنچا: 

شہدت علیکم انکم سبئیۃ

وإنی بکم یا شرطۃ الکفر عارف 

(دیوان اعشی ہمدان: صفحہ 148)

’’تمہارے سلسلہ میں میری یہ شہادت ہے کہ تم سب سبائی ہو، اور اے کفر کے سپاہیو! میں تم سب کو اچھی طرح پہچانتا ہوں۔‘‘

 امام شعبی رحمۃاللہ (متوفی 103ھ) سے مروی ہے کہ سب سے پہلے جھوٹ بولنے والا عبداللہ بن سبا ہے۔

(تاریخ دمشق: ابن عساکر: جلد 9 صفحہ 331)

 ابن حبیب (یہ محمد بن حبیب بن امیہ ہاشمی ہے جو انساب، تاریخ، لغت اور شعر کا عالم گزرا ہے۔ 245ھ میں اس کی وفات ہوئی۔ تاریخ بغداد: جلد 2 صفحہ 277)

 (متوفی 245ھ) نے عبداللہ بن سبا کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک حبشی عورت کا بیٹا تھا۔

(المحبر: ابن حبیب: صفحہ 308، عبداللہ بن سبا العودۃ: صفحہ 53) 

 ابو عاصم خشیش بن اصرم (یہ خشیش بن اصرم بن اسود النسائی ہے امام ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ: جلد 2 صفحہ 551 میں اس کا تذکرہ کیا ہے، شذرات الذہب: جلد 2 صفحہ 129) 

(متوفی 253ھ) نے اپنی کتاب ’’الاستقامہ‘‘ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں کو جلا دینے کی خبر روایت کی ہے۔ 

 جاحظ (یہ عمرو بن بحر بن محبوب الکنابی ہے، ادب و علم کا امام گزرا ہے، اس کی وفات 255ھ میں ہوئی۔ وفیات الاعیان: جلد 3 صفحہ 470)

(متوفی 255ھ) ان اوائل لوگوں میں سے ہے جنھوں نے عبداللہ بن سبا کی طرف اشارہ کیا ہے۔

(البیان والتبیین: جلد 3 صفحہ 81)

لیکن اس کی روایت عبداللہ بن سبا سے متعلق قدیم ترین نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر جواد علی کا خیال ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 290، عبداللہ بن سبا: العودۃ: صفحہ 53)

صفحہ 1 از 2