فتنہ برپا کرنے میں سبائیوں کا اثر - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

فتنہ برپا کرنے میں سبائیوں کا اثر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زنادقہ کو جلانے کا واقعہ صحاح و سنن و مسانید کی صحیح روایات سے ثابت ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 290)

 عبداللہ بن سبا اور اس کے گروہ کے لیے زنادقہ کا لفظ کوئی انوکھا نہیں ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: رفض و تشیع کا آغاز عبداللہ بن سبا زندیق سے ہوا ہے۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 28 صفحہ 483)

امام ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

عبداللہ بن سبا متعصب زنادقہ میں سے تھا اور ضال و مضل تھا۔ 

(میزان الاعتدال: الذہبی: جلد 2 صفحہ 426)

اور حافظ ابن حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

عبداللہ بن سبا متعصب زنادقہ میں سے تھا، اس کے متبعین ہیں جنھیں سبئیہ (سبائی) کہا جاتا ہے، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا عقیدہ رکھتے ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں انہیں آگ میں جلا دیا تھا۔

 (لسان المیزان: احمد بن حجر: جلد 3 صفحہ 360)

 ابن سبا کا تذکرہ جرح و تعدیل کی کتابوں میں موجود ہے۔ ابن حبان رحمۃاللہ (متوفی 354ھ) فرماتے ہیں: محمد بن سائب کلبی عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں میں سے ایک سبائی تھا، جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت علیؓ کی وفات نہیں ہوئی ہے، وہ دنیا میں قیامت سے قبل آئیں گے، یہ جب بدلی دیکھتے تو کہتے اس میں امیر المؤمنین ہیں۔

(المجروحین من المحدثین: ابو حاتم التمیمی: جلد 2 صفحہ 253) 

 اسی طرح علم الانساب کی کتابوں میں سبائیوں کی نسبت عبداللہ بن سبا کی طرف کی ہے، بطور مثال سمعانی (ان کا نام عبدالکریم بن محمد سمعانی ہے، وفات 562ھ میں ہوئی ہے۔ تذکرۃ الحفاظ: الذہبی: جلد 4 صفحہ 1316)

 (متوفی 562ھ) کی کتاب الانساب ملاحظہ کریں۔

(الانساب: ابو سعید التمیمی: جلد 7 صفحہ 24)

ابن عساکرؒ متوفی 571ھ عبداللہ بن سبا کا تعارف کراتے ہوئے فرماتے ہیں:

عبداللہ بن سبا جس کی طرف سبائی منسوب ہیں، غالی رافضی ہیں، اس کا تعلق یمن سے تھا، یہ یہودی تھا اور اس نے اوپر سے اسلام ظاہر کیا۔

(تاریخ دمشق: ابن عساکر: جلد 9 صفحہ 328، 329) 

عبداللہ بن سبا سے متعلق روایات کا بیان کرنے والا صرف سیف بن عمر نہیں ہے، بلکہ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں بہت سی روایات بیان کی ہیں جن کا راوی سیف بن عمر نہیں ہے۔ ان روایات سے عبداللہ بن سبا کے وجود کا ثبوت ملتا ہے اور اس سے متعلق اخبار و اقعات کی تاکید ہوتی ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 298، عبداللہ بن سبا،العودۃ: صفحہ 54)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃاللہ متوفی 728ھ فرماتے ہیں:

رفض و تشیع کی اصل منافقین زنادقہ ہیں، عبداللہ بن سبا زندیق نے یہ بدعت ایجاد کی، حضرت علیؓ کے سلسلہ میں غلو کا مظاہرہ کیا، عقیدۂ امامت کی دعوت دی اور اس پر نص کا دعویٰ کیا اور حضرت علیؓکی عصمت کا دعویٰ کیا۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 435)

 امام شاطبی رحمۃاللہ (متوفی 790ھ) نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سبائیوں کی بدعت اعتقادی بدعت ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے الٰہ کے وجود سے متعلق ہے یہ بدعت دیگر بدعات سے مختلف ہے۔

(الاعتصام: ابواسحاق اللخمی: جلد 2 صفحہ 197) 

 علامہ مقریزی (متوفی 845ھ) فرماتے ہیں:

عبداللہ بن سبا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں وصیت، رجعت اور تناسخ کی بدعت لے کر کھڑا ہوا۔

(المواعظ والاعتبار یذکر الخطط والآثار: المقریزی: جلد 2 صفحہ 256، 257)


صفحہ 2 از 2