شیعہ سنی کا اصولی تقابل ملاحظہ فرمائیں:
1: مسلمانوں کا کلمہ: لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ ہے اور شیعوں کا کلمہ: لا اله الا الله محمد رسول الله على ولى الله خمينى حجة الله: گویا مسلمانوں کا کلمہ جدا اور شیعوں کا کلمہ جدا، شیعوں کا کلمہ دینِ اسلام کی نفی کرتا ہے۔
2: مسلمانوں کی اذان جدا ہے اور شیعوں کی اذان جدا ہے، شیعوں کی اذان خلفائے ثلاثہؓ پر کھلم کھلا تبرا ہے۔
3: مسلمانوں کا قرآن جدا ہے اور شیعوں کی معتبر کتاب اصولِ کافی کے مطابق موجود قرآن تحریف شدہ ہے اور اصل قرآن امام غائب (مہدی) کے پاس ہے۔
4: مسلمانوں کی نماز جدا اور شیعوں کی نماز جدا، مسلمان نماز پنج گانہ کے قائل ہیں جب کہ شیعہ صرف تین نمازیں پڑھتے ہیں۔
5: مسلمانوں کا نظامِ زکوٰۃ جدا ہے اور شیعوں کا نظامِ زکوٰۃ جدا ہے، شیعہ موجودہ نظامِ زکوٰۃ کے منکر اور مخالفت ہیں۔
6: مسلمانوں کے حج کا رکنِ اعظم عرفات کی حاضری (وقوف) ہے، اور شیعوں کے حج کا رکنِ اعظم مزدلفہ کی حاضری (وقوف) ہے، ویسے بھی شیعہ حج کے قائل نہیں اور صرف خمینی کے اشارہ پر حجاز میں حج کے بہانے تخریب کاری کے لئے جاتے ہیں اور واضح رہے کہ شیعہ کی معتبر کربلاء کعبۃ اللہ سے افضل ہے۔
7: مسلمانوں کے نزدیک متعہ، زنا کا دوسرا نام ہے اور شیعوں کے نزدیک متعہ کرنے والا جنت میں سیدنا حسینؓ کے برابر ہوگا۔
8: مسلمانوں کے نزدیک جھوٹ، منافقت اور دھوکہ دہی سب سے بڑا جرم ہے اور شیعوں کے نزدیک تقیہ کے نام سے یہ چیزیں نہ صرف جائز ہیں بلکہ فرض اور واجب ہیں اور ان کے مذہب کے نوے فیصد حصہ ہیں۔
9: مسلمانوں کے نزدیک چاروں خلفائے راشدینؓ برحق ہیں اور شیعوں کے نزدیک سوائے حضرت علیؓ کے باقی خلفائے ثلاثہؓ منافق اور غاصب، ظالم اور ایمان سے عاری ہے (معاذاللہ)
10: مسلمانوں کے نزدیک تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سچے مؤمن و شیدائی رسولﷺ، قابلِ اتباع اور معیارِ حق ہیں کیونکہ قرآنی وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں اور شیعوں کے نزدیک نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مرتد ہو گئے تھے (معاذاللہ) سوائے تین کے یعنی حضرت مقدادؓ، حضرت ابوذرؓ، حضرت سلمانؓ۔
(فروعِ کافی: جلد، 3 صفحہ، 115)
شیعہ کی اصلاح میں اہلِ سنت کو ناصبی کہا جاتا ہے، شیعوں کا مذہبی قائد ملا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ ناصبی (سنی) ولد الزنا سے بدتر ہے اور یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتے سے بھی بدتر کسی چیز کو نہیں بنایا لیکن ناصبی (سنی) خدا تعالیٰ کے نزدیک کتے سے بھی زیادہ خوار ہے۔
(حقُ الیقین: جلد، 2 صفحہ، 516)
11: مسلمانوں کے نزدیک حضور اکرمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ تمام خواتین سے افضل اور انتہائی قابلِ احترام ہیں اور شیعوں کے نزدیک ازواجِ مطہراتؓ ناقابلِ احترام ہیں بلکہ منافقہ ہیں (معاذاللہ)
شیعہ عقیدے کے مطابق جب ان کا بارہواں امام مہدی ظاہر ہوگا تو وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کو زندہ کر کے ان پر حد لگائے گا (معاذاللہ)
(حقُ الیقین: جلد، 2 صفحہ، 361)
12: مسلمانوں کا وضو جدا اور قبلہ جدا ہے اور شیعوں کا وضو اور سجدہ جدا ہے، شیعوں کا وضو پاؤں سے شروع ہوتا ہے اور سجدہ کربلائی مٹی پر ہوتا ہے اور شیعوں کی قبلہ سمت بھی قدرے مختلف ہے۔
13: مسلمانوں کا غسل میت جدا ہے اور شیعوں کا غسل میت جدا ہے۔
14: مسلمانوں کی صیام رمضان کی سحری اور افطار جدا ہے اور شیعوں کا وقت سحر وافطار جدا ہے۔
15: مسلمانوں کے نکاح، طلاق اور وراثت کا نظام جدا ہے اور شیعوں کا نکاح، طلاق اور وراثت کا نظام جدا ہے۔
16: مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کا مالک و خالق اور عالمُ الغیب ہے اور شیعہ اس کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ امام کو ماضی اور مستقبل کا پورا پورا علم ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی چیز امام سے مخفی نہیں اور شیعہ مذہب میں عقیدہ بداء کی رو سے خدا تعالیٰ کے جاہل ہونے کا اقرار لازم آتا ہے (معاذاللہ)
17: مسلمانوں کے نزدیک عقیدہ ختمِ نبوت جزو ایمان ہے اور شیعہ ختمِ نبوت کے منکر ہیں اور اجرائے نبوت کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک ان کے بارہ امام سابق انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل اور حضور اکرمﷺ کے برابر ہیں۔
18: مسلمانوں کا نعرہ اللہ اکبر اور تکیہ کلام یا اللہ مدد ہے اور شیعوں کا نعرہ نعرہ حیدری اور تکیہ کلام یا علی مدد ہے جو کہ سراسر شرک ہے۔
19: مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ توحید ہے اور شیعوں کا بنیادی عقیدہ امامت ہے جو کہ کھلم کھلا کفر ہے۔
20: مسلمانوں کی فقہ حنفی قرآن و سنت سے ماخوذ ہے اور شیعوں کی فقہ جعفریہ قرآن و سنت کے قطعاً مخالفت ہے، تقیہ (جھوٹ) متعہ (زنا) تبرا (خلفائے ثلاثہؓ، امہاتُ المومنینؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعن طعن) اس کے اہم جزو ہیں اور ان کے نزدیک متعہ وہ لذت آفریں عبادت ہے کہ چار دفعہ متعہ کرنے سے حضور اکرمﷺ کا درجہ مل جاتا ہے۔ (معاذاللہ)
21: مسلمانوں کا نصب العین حضرت محمدﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرز کی قرآنی حکومت کا قیام ہے اور شیعوں کا نصب العین یہودی حکومت کا قیام ہے، ایران کی اسرائیل کے ساتھ خفیہ دوستی اور عربوں کے خلاف پروپیگنڈا اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
*الغرض:*
شیعہ عقائد و نظریات میں اسلام کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی سوائے اشتراک رسمی یعنی نام وہی ہیں، اللہ تعالیٰ رسولﷺ، قیامت، کلمہ، اذان، نماز، زکوٰۃ وغیرہ مگر ان ناموں کے اندر جو چیز ہے وہ بالکل الٹ ہے جو اسلام نے ان ناموں کے ساتھ وابستہ کی ہیں، مختصر یہ کہ قرآنِ مجید کے صحیح ہونے پر ایمان ہی نہیں تو پھر اسلام کہاں اور مسلمان کیسے؟
*خلاصہ یہ کہ:*
ملتِ اسلامیہ جدا ہے اور ملتِ ابنِ سبا جدا ہے، لہٰذا شیعہ سنی اتحاد خلافِ شرع ہے، کیونکہ شیعوں کی تمام چیزیں مسلمانوں سے جدا ہے۔
*حاصل کلام:*
اس تقابلی مقابلہ سے بالکل واضح ہے کہ مسلمانوں اور شیعوں میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں بلکہ شیعوں کے کفریات قادیانیوں سے کہیں زیادہ ہیں، جب قادیانی کافر ہیں تو شیعہ کیونکر مسلمان ہو سکتے ہیں۔
اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہو کہ قرآن محرف ہے اور سنت ناقابلِ اعتبار کیونکہ حدیث کے راوی یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے نزدیک (معاذاللہ) منافق و مرتد تھے ان کو مسلمان کا طرح تصور کیا جا سکتا ہے لہٰذا شیعہ و سنی بھائی بھائی کا نعرہ ایک ایسا جھوٹ اور فراڈ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ اور فراڈ نہیں ہو سکتا، اب بھی جو لوگ ناواقفیت کی وجہ سے ایرانی انقلاب کو اسلامی انقلاب اور خمینی کو اس دور کا امام المسلمین اور امتِ مسلمہ کا نجاتِ دہندہ سمجھ رہے ہیں اور عام مسلمانوں کو یہی باور کرانے کی کوشش میں سر گرم ہیں وہ سراسر سراب اور گمراہی میں مبتلا ہیں۔
*اہل سنت کی ذمہ داری:*
شیعت دراصل اسلام کے خلاف کفر کی ایک خفیہ سازش ہے اور یہ وہ کفر ہے جس پر اسلام کا لیبل لگا کر مخلوقِ خدا تعالیٰ کو گمراہ کیا جا رہا ہے، لہٰذا گھر گھر شیعت کو بے نقاب کرنے کا عزم کیجیئے کیونکہ شیعت پاکستان اور عالمِ اسلام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، برائے مہربانی اپنی تمام توانائیوں اور وسائل کو بروئے کار لا کر امتِ مسلمہ کو اس گمراہی اور فتنے سے بچائیں، اس فریضے کی ادائیگی میں تاخیر نہ کیجئے۔
(شیعہ سنی اختلافات حقائق کے آئینے میں: صفحہ، 2)