فتنہ کی تحریک میں عبداللہ بن سبا کا کردار - دفاعِ اہلِ سنت…

فتنہ کی تحریک میں عبداللہ بن سبا کا کردار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری سالوں میں مذکورہ تبدیلی کے اسباب و عوامل کے نتیجہ میں اسلامی معاشرہ کے افق پر اضطراب کے آثار رونما ہونا شروع ہوئے۔ بعض یہود اس موقع کے انتظار میں تھے اور انہوں نے فتنہ کے اسباب و عوامل کو اختیار کیا، اور اسلام کا لبادہ اور تقیہ کی چادر اوڑھ کر میدان میں اتر آئے، انہی میں سے عبداللہ بن سبا تھا جس کا لقب ابن السوداء تھا، جس طرح ابنِ سبا کے کردار کے سلسلہ میں مبالغہ آرائی صحیح نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے کیا ہے،

(دیکھیے: سعید افغانی کی کتاب: عائشۃ والسیاسۃ)

اسی طرح اس کے کردار سے متعلق تشکیک بھی جائز نہیں۔ فتنہ برپا کرنے میں اس نے جو کردار ادا کیا ہے اس کو معمولی قرار نہیں دیا جا سکتا، فتنہ کے اسباب و اعوامل میں اس کا کردار اہم ترین اور انتہائی خطر ناک رہا ہے، اگرچہ وہ فضا فتنہ کے لیے سازگار تھی اور دیگر اسباب و عوامل نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ ابن سبا ایسے افکار و عقائد لے کر آیا جس کو اس نے خود سے گھڑا، اور بدباطن یہودیت سے اخذ کیا، اور پھر اسلامی معاشرہ میں اپنے مقاصد کی برآری کے لیے اس کی ترویج و اشاعت کرنے لگا۔ اس کا مقصد اسلامی معاشرہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا، فتنہ کی آگ بھڑکانا اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف و انتشار کا بیج بونا تھا، یہ ان جملہ عوامل و اسباب میں سے تھے جن کے نتیجہ میں حضرت عثمان غنیؓ کا قتل ہوا، اور امت مختلف فرقوں اور پارٹیوں میں بٹ گئی۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 327)

اس کے کرتوتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اس نے سچائی کی ترجمانی دعوؤں کو اساس بنایا اور اس پر اپنے فاسد مبادی کی بنیاد قائم کی، جو سادہ لوح، غالی اور باطل افکار و خواہشات کے حاملین کے درمیان خوب پھیلے، اس نے پر پیچ راستہ اختیار کیا، اور اپنے مریدوں کو دھوکہ دیا، اور وہ اس کے افکار و نظریات سے متفق ہو گئے، اس شخص نے قرآن کا سہارا لیا اور اپنے زعم فاسد کے مطابق اس کی تاویل شروع کی، چنانچہ اس نے کہا: لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ یہ تو جانتے ہیں کہ عیسیٰ ( علیہ السلام ) قرب قیامت میں دنیا میں لوٹ کر آئیں گے، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رجعت کی تکذیب کرتے ہیں، حالاں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

اِنَّ الَّذِىۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ‌ ۞ (سورۃ القصص آیت 85)

ترجمہ: (اے پیغمبر) جس ذات نے تم پر اس قرآن کی ذمہ داری ڈالی ہے، وہ تمہیں دوبارہ اس جگہ پر لاکر رہے گا جو (تمہارے لیے) انسیت کی جگہ ہے۔

لہٰذا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہ نسبت رجعت کے زیادہ حقدار ہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 347)

اس آیت کریمہ کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے مولد مکہ جہاں سے نکلنے پر آپ مجبور کر دیے گئے تھے، وہاں واپس فاتحانہ طور پر پہنچائے گا، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔ دیکھیے: صحیح بخاری حدیث نمبر: 4773 اور بعض مفسرین نے اس سے مراد قیامت لی ہے۔ دیکھیے: فتح الباری: جلد 8 369) رجعت شیعوں کے بنیادی عقائد میں سے ہے، وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرب قیامت میں رسول اللہﷺ اور سیدنا علی، حسن و حسین رضی اللہ عنہم دوبارہ دنیا میں واپس آئیں گے، اور رسول اللہﷺ سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے بدلہ دلائیں گے۔ (العیاذ باللہ) اس گمراہ کن باطل عقیدہ کا بانی عبداللہ بن سبا ہے جیسا کہ شیعی کتب نے اعتراف کیا ہے۔ (مترجم)

اسی طرح اس نے دوسرے قیاس فاسد کا سہارا لیا اور سیدنا علیؓ کے لیے وصیت کے اثبات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا: ’’ہزار انبیاء گزرے ہیں اور ہر نبی نے اپنا ایک وصی چھوڑا ہے، اور سیدنا علیؓ محمدﷺ کے وصی ہیں۔‘‘

نیز کہا: ’’محمدﷺ خاتم الانبیاء ہیں، اور سیدنا علیؓ خاتم الاوصیاء ہیں۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 347)

وصایت کا عقیدہ شیعوں کے باطل عقائد میں سے ہے یعنی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے بعد سیدنا علیؓ کی خلافت کی وصیت کی تھی، حالاں کہ ایسی کسی وصیت کا کوئی ثبوت نہیں اگر ایسی کوئی وصیت ہوتی تو سیدنا علیؓ اور اہل بیت اس کو مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے اور مسلسل تین خلفاء کے ہاتھوں پر بیعت کر کے کتمان حق نہ کرتے۔ در حقیقت یہ بھی عبداللہ بن سبا کا من گھڑت عقیدہ ہے۔ (مترجم)

جب اس کے متبعین کے اندر یہ چیزیں جاگزیں ہو گئیں تو وہ اپنے منصوبہ و مقصد کی طرف آگے بڑھا اور وہ مقصد حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف خروج کا تھا اور یہ بعض لوگوں کی خواہشات کے عین موافق ثابت ہوا۔ اس نے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ بھلا بتاؤ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو رسول اللہﷺ کی وصیت کو نافذ نہ ہونے دے، اور رسول اللہﷺ کے وصی کی کرسی پر کود کر بیٹھ جائے، اور خلافت کو اپنے ہاتھ میں لے لے؟ پھر یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت عثمان غنیؓ نے بغیر حق کے خلافت لی ہے، ان کا یہ حق نہ تھا، رسول اللہﷺ کے وصی موجود ہیں، لہٰذا تم اس سلسلہ میں اٹھو اور ان کو حرکت دلاؤ، اپنے امراء و افسران پر طعن و تنقید شروع کرو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ظاہر کرو، لوگوں کو اپنی طرف مائل کرو اور انہیں اس کی دعوت دو۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 348)

صفحہ 1 از 3