کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضور صلی اللہ…

کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب ،حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کو جھوٹ ، دھوکے، خیانت،گناہ اور پیمان شکنی پر استوار جانتے تھے .اورہمیشہ اس نظریے پر باقی رہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کو جھوٹ، دھوکے، خیانت،گناہ اور پیمان شکنی پر استوار جانتے تھے اور ہمیشہ اس نظریے پر باقی رہے
الجواب اول
پہلی بات حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے تنازع کی روایت مسلم اور بخاری دونوں میں موجود ہے۔ مگر ثم، کاذب، غادر اور خائن کے چاروں لفظ صحیح بخاری میں نہیں ہیں۔ اسی طرح اور محدثین نے بھی اس روایت میں مذکور بالا چار کلمے درج نہیں کیے۔
اس واسطے علامہ بدرالدین عینی رحمۃاللہ شارح نے عمدة القاری شرح صحیح بخاری میں لکھ دیا ہے کہ اصل روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں اور فاضل نووی رحمۃاللہ نے بھی شرح مسلم میں اسی حدیث کے تحت لکھا ہے کہ مسلم کے ایسے نسخے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جن میں یہ چاروں کلمات موجود نہ تھے۔ پس مسلم کی اس روایت کو مذکورہ بالا چار کلمات کے ثبوت کے لیے پیش کرنا غلط ہو گیا۔ کیونکہ الزام مسلمات خصم سے دیا جاتا ہے اور ہمارے علماء نے ان چار کلمات کو فرموده عمر تسلیم کیا ہے
نہ قول عباس اور نہ ارشاد علی رضی اللہ عنہما۔
جواب دوم:
دوسری بات یہ کہ یہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقصد فدک معاملہ ہے کہ تم لوگ سمجھتے ہو کہ ہم نے تھمارے اس ملکیت میں خیانت کی۔ یہاں خلافت کا سرے سے زکر ہی نہیں ہے اور نہ ہی سیدنا فاروق کا مقصد خلافت ہے۔ یہ روایات تھوڑے لفظی فرق کے ساتھ ہر جگہ ایک جیسے ہین ہیں ہم ایک روایت پیش کر کہ اس کا مطلب یہاں لکہ دیتے ہین۔
روایات صحیح بخاری
صحیح بخاری: جلد 3 صفحہ 287، کتاب النفقات: باب 3، باب حبس نفقة الرّجل قوت سنتہ علی أھلہ)

اس باب میں یہ الفاظ ہیں

صفحہ 1 از 2