Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عبداللہ بن سبا یہودی پارٹی کا سرغنہ

  علی محمد الصلابی

عبداللہ بن سبا نے عالم اسلام میں پھیلی ہوئی اپنی خبیث خفیہ پارٹی کے مجرم ساتھیوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا:

’’اس کام کے لیے اٹھ کھڑے ہو، اور اس کو حرکت دو، اور اپنے افسران اور گورنران جنھیں خلیفہ نے متعین کیا ہے ان کی عیب چینی کرو، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ظاہر کرو تاکہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کر سکو، اور پھر لوگوں کو بھی اس کی دعوت دو۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 348)

عبداللہ بن سبا نے اپنے کار کنوں کو صوبوں میں پھیلا دیا اور اپنے متبعین سے خط و کتابت شروع کی، جن کی ذہن سازی پہلے کر چکا تھا۔ اور انہیں اپنے ساتھ شامل کیا اور انہوں نے بھی اس کے ساتھ خط و کتابت شروع کی۔ اس طرح اس کے پیروکار مختلف شہروں میں ان کی دعوت سے حرکت میں آ گئے اور خفیہ طور سے انہوں نے اپنے مویدین و ہم فکر لوگوں کو گورنروں اور خلیفہ کے خلاف خروج اور حضرت عثمان غنیؓ کو خلافت سے معزول کرنے کی دعوت دی۔ یہ لوگ بظاہر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مدعی تھے تاکہ لوگوں پر اثر انداز ہو سکیں، اور انہیں اپنی طرف مائل کر سکیں اور انہیں اپنے جال میں پھنسا سکیں۔ چنانچہ ابن سبا کے یہ ساتھی امراء اور گورنروں کے عیوب و نقائص سے متعلق جھوٹ گھڑنے لگے اور افترا پردازی کرنے لگے، اور پھر خطوط کے ذریعہ سے اس کو دوسرے شہروں میں ایک دوسرے کو ارسال کرتے، اور اسی طرح ان اکاذیب پر مشتمل خطوط ایک شہر والے دوسرے شہر والوں کو ارسال کرتے اور پھر ان آئے ہوئے جعلی خطوط کو اپنے اپنے شہر والوں کو پڑھ کر سناتے، لوگ امراء و افسران کے ان عیوب و نقائص کو سنتے اور کہتے: الحمدللہ ہم تو ان مصیبتوں سے عافیت میں ہیں جن میں یہ بے چارے مبتلا ہیں، اور جو کچھ سنتے اس کو سچ تصور کرتے۔ اس طرح سبائیوں نے پورے ملک میں فساد برپا کر دیا، مسلمانوں کو برباد کیا، ان کے اندر اختلاف کا بیج بو دیا، ان کی اخوت و وحدت کو پارہ پارہ کر دیا، اور عوام کو امر اء و گورنروں کے خلاف برانگیختہ کیا، اور خلیفہ راشد عثمان غنیؓ کے خلاف افترا پردازی کی، اور ان جرائم کے ذریعہ سے جن کو انہوں نے بڑی مہارت کے ساتھ منظم کیا تھا اور ان کی اسٹڈی کی تھی اس سے ان کا مقصود ظاہر کے برعکس تھا اور ان کے خفیہ مقاصد تھے اس طرح وہ سیدنا عثمان غنیؓ کو معزول اور اسلامی سلطنت کا صفایا کرنا چاہتے تھے۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 126)

ابن سبا نے شام کا رخ کیا تاکہ وہاں لوگوں کو اپنا ہم نوا بنا سکے اور ان میں فساد کا بیج بو سکے، لیکن اپنے اس شیطانی مقصد میں کامیاب نہ ہوا۔ سیدنا امیر معاویہؓ ل اس کی تاڑ میں تھے۔

(ایضاً)

جس کی وجہ سے وہاں اس کی دال نہ گل سکی۔ بصرہ پہنچا تاکہ وہاں کے حاقدین اور بے وقوفوں میں سے اپنے متبعین تیار کرے، بصرہ کے گورنر عبداللہ بن کریزؓ تھے، جو بڑے ہوشیار اور انتہائی عادل و صالح تھے، جب ابن سبا بصرہ پہنچا تو وہاں کے ایک خبیث چور و قاتل حکیم بن جبلہ کے گھر اترا۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 128)

حضرت عبداللہ بن عامرؓ کو خبر ملی کہ ایک اجنبی شخص حکیم بن جبلہ کے پاس آیا ہے۔ حکیم بن جبلہ چور تھا، جب مجاہدین جہاد سے بصرہ واپس ہوتے تو یہ پیچھے رہ جاتا تاکہ فارس کی سرزمین میں فساد مچائے، اور پھر ذمیوں کی زمین پر شب خون مارتا اور مسلمانوں کی زمینوں میں گھستا اور جو چاہتا لے لیتا۔ ذمیوں اور مسلمانوں نے حضرت عثمان غنیؓ سے اس شخص کی شکایت کی تو حضرت عثمان غنیؓ نے عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو تحریر کیا کہ تم حکیم بن جبلہ کو بصرہ میں نظر بند کر دو، وہاں سے نکلنے نہ دو جب تک کہ اس کے اندر سدھار نہ محسوس کر لو۔ حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے اس کو اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ وہ بصرہ سے باہر نہیں جا سکتا تھا، عبداللہ بن سبا یہودی اس کے پاس براجمان ہوا، اور ابن جبلہ کی بد اخلاقی اور انحراف کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کو اپنے مقصد کے لیے تیار کیا، اس طرح ابن جبلہ بصرہ میں ابن سبا کا کارندہ بن گیا اور پھر وہ اپنی طرح کے منحرف اور فسادی لوگوں کو ابن سبا کی خدمت میں حاضر کرنے لگا، اور ابن سبا نے اپنے زہریلے افکار ان کے ذہن و دماغ میں بٹھانے شروع کیے اور انہیں اپنی خفیہ تنظیم کے لیے تیار کرنے لگا۔

جب ابن عامرؓ کو ابن سبا سے متعلق یہ خبر پہنچی تو آپ نے اس کو طلب کیا، اور اس سے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں اہل کتاب میں سے ہوں، میرے اندر اسلام کی رغبت پیدا ہوئی اور مسلمان ہو گیا ہوں، اور آپ کے پڑوس میں رہنا چاہتا ہوں پھر وہ آ کر یہاں مقیم ہو گیا ہوں۔ ابن عامرؓ نے اس سے کہا: یہ کیسی باتیں ہیں جو تمہارے سلسلہ میں مجھے پہنچ رہی ہیں؟ تم یہاں سے نکل جاؤ۔

پھر حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے اس کو بصرہ سے نکال دیا اور وہاں سے وہ چلا گیا لیکن اس دوران میں وہ وہاں اپنے ہم نوا اور پیروکار بنا چکا تھا اور اپنی سبائی پارٹی کی شاخ قائم کر چکا تھا۔

پھر ابن سبا کوفہ پہنچا، وہاں بھی اس کو ایسے منحرف اور فسادی افراد مل گئے اور اس نے انہیں اپنی پارٹی کے لیے تیار کیا، جب حضرت سعید بن العاصؓ کو اس کی خبر ملی تو انہوں نے کوفہ سے اس کو نکال باہر کیا۔

پھر ابن سبا مصر روانہ ہوا اور وہاں اپنے انڈے بچے تیار کیے، سادہ لوح، فسادی، حاقدین اور مجرموں کو اپنا ہم نوا بنا لیا تھا، اور مصر میں رہتے ہوئے مدینہ، بصرہ اور کوفہ میں اپنے لوگوں کے ساتھ خفیہ اتصال کا جال بچھا دیا، اس کے کارندے ملک میں حرکت کرتے رہے۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 129)

ابن سبا اور اس کے ساتھیوں کی یہ کوششیں مسلسل چھ سال جاری رہیں۔ انہوں نے اپنے شیطانی کاز کا آغاز 30ھ میں کیا اور 35ھ کے اخیر میں خلیفہ راشد عثمان غنیؓ کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے، اور پھر ان کی فساد انگیزی سیدنا علیؓ کی پوری خلافت میں جاری رہی۔ ان سبائیوں نے یہ طے کیا کہ فساد کا آغاز کوفہ سے ہو۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 130)