مولانا علی شیر حیدری شہید رحمۃ اللہ کے فرمودات
*سوال:* اگر شیعہ کے ساتھ اتحاد جائز نہیں تو پہلے اسلامی تحریکوں میں ان کو اپنے ساتھ کیوں بٹھایا تھا؟
*جواب* حضرت مولانا علی شیر حیدریؒ شہید:
جب تک ایران میں یہ مذہبی انقلاب نہیں آیا تھا٬ اہلِ سنت حضرات ہر قومی تحریک میں شیعوں کو ساتھ لے کر چلتے رہے ہیں۔ کسے خبر نہیں کہ 1952ء میں کراچی کی مختلف الفرق میٹنگ میں شیعہ علماء بھی ساتھ تھے٬ پھر تحریکِ ختمِ نبوت میں سب اکٹھے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ اُس وقت تک لوگوں نے شیعت کو صرف کتابوں میں پڑھا تھا اور ان میں تقیہ کی اساس پر ہر طرح کی روایات مل جاتی تھیں٬ یہ معلوم کرنا خاصا مشکل تھا کہ اصل شیعہ مذہب کیا ہے؟ خمینی کے "خونی انقلاب اور ولایت الفقیہ" کے مذہبی خاکے سے اب شیعیت کھل کر کوگوں کے سامنے آ گئی اب علماء نے خود ایران جا کر دیکھ لیا ہے ان حالات میں ہمارا ان کو ساتھ لے کر چلنا مشکل ہو گیا ہے۔
*سوال:* بعض لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو جی حضرت محمدﷺ کا بھی یہودیوں سے معاہدہ ہوا تھا تو ہم نشیوں سے اتحاد کر لیا تو کیا ہوا؟
*جواب:* حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدریؒ شہید:
آپ تو قیاس کو پہچانتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے قیاس کے بحث کو پڑھنا ہی چھوڑ دیا ہے استادوں سے عرض ہے کہ انہیں قیاس بھی پڑھایا کریں کہ انہیں پتہ چلے کون سا قیاس غلط ہوتا؟ ہے کون صحیح ہوتا ہے؟
*یاد رکھو!* معاہدہ یہودیوں سے ہو سکتا ہے مرتدوں سے کہیں نہیں ہوتا۔
حضرت مفتی صاحب سے پوچھیئے! کتبِ فقہ میں لکھا ہے "احکامھم احکام المرتدین" شیعہ مرتدین کے حکم میں ہیں، "احکامھم احکام الیہود" نہیں ہیں "احکامھم احکام اھل کتاب" نہیں ہیں۔
دست بستہ میں آپ کا طالب علم عرض کرتا ہوں کہ یہود و نصاریٰ اور اہلِ کتاب سے نہیں، ذرا مرتدین سے اتحاد دکھائیں نہیں تو آپ کی ضرورت ہے آپ جانیں میں مجبور نہیں کرتا۔
کیا ہوا تجھے؟ کیوں پریشان ہے؟ تو سر پھٹا ہوا، خون خون ہے روتا ہوا شکایت کرتا ہے، یا رسول اللہﷺ ابوبکرؓ نے مارا ہے بڑا سخت ہے، متشدد ہے، دیکھیں حضورﷺ آپ کا ہمارے ساتھ اتحاد ہے حضرت! آپ نے معاہدہ کر رکھا ہے ہم یہودیوں سے لیکن یہ پھر بھی باز نہیں آتا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ پرجب یہ مقدمہ دائر ہوا تو آپ نے حضورﷺ کی عدالت میں فرمایا ہاں یہودیوں سے معاہدہ تھا اتحاد تھا کہ مدینہ کی حفاظت کریں گے مدینہ پر چڑھائی ہوئی تو اکٹھے مقابلہ کریں گے لیکن دینی جماعت اور اسلامی بھائی بنا کر شریک نہیں کیا تھا ان کے پیچھے نمازیں بھی نہیں پڑھیں تھیں حضرت ابوبکر صدیقؓ پر مقدمہ آتا ہے حضرت ابوبکر صدیقؓ آئے، رسول اللہﷺ نے پوچھا صدیق کیوں مارا ہے صدیقِ اکبر نے فرمایا! یا رسول اللہﷺ یہ گستاخ ہے رسول اللہﷺ نے پوچھا یا نہیں پوچھا؟ ایسے ہی حضرت ابوبکر صدیقؓ پر چڑھائی کر دی؟ پوچھا تھا۔
ہمیں سمجھانے والوں آپ بھی پوچھ تو لیں اس نے میرا سامان نہیں چرایا، میری زمین پر قبضہ نہیں کیا یہ ملعون گستاخ ہے کہتے ہیں جی ہم نے معاہدہ کیا ہے اب یہ گستاخی نہیں کریں گے۔
میں پوچھتا ہوں انہوں نے "جامعۃ المنتظر" سے اس ملعون کو نکال دیا؟ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نام لے لے کر ماں بہن بیٹی کی گالیاں لکھتا تھا، اب بھی بیٹھا ہوا ہے تو کیسا معاہدہ ہے؟ کتا کنویں میں پڑا ہوا ہے کہتے ہیں ہم نے 100 ڈول نکال دیے ہیں اب دوسرا کتا نہیں ڈالیں گے وہ جو پہلا پڑا ہوا ہے وہ؟
پہلے مجھے کوئی جوتا مارتا ہے اور کہتا ہے اب میں نہیں ماروں گا بس ٹھیک ہے میں اپنی توہین برداشت نہیں کرتا اور کر بھی لوں تو مجھ جیسے کروڑوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جوتی پر قربان، حیا کر دین کفر کا محتاج نہیں ہوتا، نہیں ہوتا، نہیں ہوتا، لاکھ مرتبہ کر لوں نہیں ہوتا یہ رواج نہ ڈالو۔
میرے اکابرؒ کبھی کافر کہہ کر اسے گلے نہیں لگاتے تھے کافر کہہ کر پھر اسے دینی جماعت نہیں کہتے تھے مرتد کہہ کر ڈٹ جاتے تھے 10 ہزار قربان ہوتے لیکن پھر اسے مسلمان نہ کہتے رواج نہ ڈالو اکابرؒ کی محنت پر پانی نہ پھیرو یہاں ہزاروں جانیں جا چکی ہیں۔
ہاں جناب ابوبکرؓ! کیوں مارا جب ان سے سمجھوتہ تھا اتحاد تھا کہ تم ہمارے خلاف سازش نہ کرنا بدمعاشی نہ کرنا جب مدینہ پر چڑھائی ہوئی تو ہم اکٹھے دفاع کریں گے تو کیوں مارا؟
رسول اللہﷺ یہ گستاخ ہے
کیا کہا ہے؟ کون سی گستاخی کی ہے؟
رسولﷺ! یہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ فقیر ہے ہم غنی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگتا ہے اللہ تعالیٰ فقیر مسکین ہے ہم مالدار ہیں ہم غنی ہیں دیکھو ان کے خدا کے پاس اتنی دولت بھی نہیں یہ گستاخی کی میں نے سمجھایا یہ پھر بھی باز نہ آیا میں نے ڈنڈا سر میں مار دیا۔
وہ تقیے باز کہتا ہے نہیں یا رسول اللہﷺ میں نے یہ نہیں کہا میں گستاخی کرتا ہی نہیں ہوں، میں نے یہ نہیں کہا، ابوبکرؓ نے خوامخواہ مجھے مارا ہے یہ انتہاء پسند ہے یہ تشدد پسند ہے یہ دہشت پھیلانا چاہتا ہے حضرت محمدﷺ نے کہا ابوبکر گواہ پیش کر،
تم سپاہِ صحابہؓ والوں سے گواہ تو مانگو اگر سپاہِ صحابہؓ کلینی سے لے کر خمینی تک سب کی بکواس تمہارے سامنے نہ رکھ دیں تو ہمیں گولی سے اڑا دینا۔
ہاں ابوبکر! بتاؤ کیا ثبوت ہے؟ گواہ پیش کرو، یا رسول اللہﷺ گواہ؟ میرے پاس گواہ نہیں ہے میں وہاں سے گزرا اس نے بکواس کی میں نے ڈنڈا مار دیا۔
سنو سنو! رسول اللہﷺ سے اتحاد ہے، معاہدہ امن کیا ہے اس کے باوجود اگر یہودی گستاخی کرتا ہے تو اس کا سر پھاڑ دیا جاتا ہے ہاں ہاں ورثۃ الانبیاء سے تو لاکھ مرتبہ معاہدے کر لیکن اگر تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بھونکے گا تو تیرا سر پھاڑ دینا سنتِ صدیقِ اکبرؓ ہے اور صدیقِ اکبرؓ کے سپاہی اپنا فرض پورا کر کے چھوڑیں گے شیعوں! مت بھونک گستاخی نہیں کرنے دی جائے گی سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے پروانے ابھی زندہ ہیں۔
ٹھیک ہے جب کیس ہو جائے گا مقدمہ ہو جائے گا تو پھر ہمیں نظر آتا ہے جہاں کوئی گواہ نہیں ہوتا وہاں صدیقِ اکبرؓ کا گواہ رب ہوتا ہے۔
صدیقِ اکبرؓ گواہ پیش کر! یا رسول اللہ گواہ نہیں ہے اچھا گواہ نہیں ہے، پھر تو مقدمہ آپ کے خلاف ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام پہنچ گئے یا رسول اللہﷺ ٹھہریے ٹھہریے اور کوئی گواہ نہیں اللہ رب العزت فرماتے ہیں میں خود گواہ ہوں اور کسی نے نہیں سنا اللہ تعالیٰ نے سنا ہے۔
لَقَدْ سَمِـعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ الخ۔
(سورۃ آلِ عمران: آیت 181)
انہوں نے گستاخی کی اللہ تعالیٰ کو فقیر کہا خود کو غنی کہا اللہ تعالیٰ نے خود سنا ہے کوئی گواہ ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ خود گواہ ہے (سبحان اللہ) اب جنابِ رسالتِ مآبﷺ لاکھ گواہوں کی گواہی اس گواہی کا مقابلہ نہیں کر سکتی جو اللہ تعالیٰ کی خاطر غیرت دکھاتے ہیں اللہ ان کی حفاظت خود کرتا ہے خود گواہ اور محافظ بن کر آتا ہے۔
(خطباتِ حیدری: جلد، 1 صفحہ، 289)
*سوال:* حضرت مولانا اعظم طارق شہیدؒ نے متحدہ مجلسِ عمل کے ساتھ اتحاد کیوں نہ کیا؟
*جواب:* حضرت مولانا علی شیر حیدری شہیدؒ:
اچھا اور ٹھیک کیا! جب علماء نے شیعہ کو دینی جماعت کہہ کر اپنے ساتھ رکھا تو ہم ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے۔
*سوال:* شیعہ کے ساتھ آپ اتحاد ناجائز کہتے ہیں حالانکہ آپ نے خود ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ علماء بورڈ میں ان کے ساتھ اتحاد کیا تھا؟
*جواب:* حضرت مولانا علی شیر حیدری شہیدؒ:
فرق ضرور سمجھیں ہم ملی یکجہتی کونسل میں بحیثیتِ فریقِ مخالف کے اکٹھے بیٹھے تھے آمنے سامنے عدالت میں ملزم اور مدعی کا اکٹھا ہونا اس کو اتحاد نہیں کہتے ملی یکجہتی کونسل میں بحیثیتِ ملزم اور مدعی کے اکٹھے تھے یہ اور بات ہے اور ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں یہ اور بات ہے۔
وہاں اگر ہم سپاہِ صحابہؓ والے نا بیٹھتے تو گند کو واضح تیرا باپ کرتا؟ عدالت میں دشمنوں کے سامنے فیصلے میں تو بیٹھتا؟
یاد رکھیں جی غیرت ہے یہ جرآت ہے اور دشمن کے ساتھ مل کر غیرت ڈبو کر اور ساتھ دوستی کا ہاتھ ملا لینا یہ بے غیرتی ہے یہ ذلت ہے یہ بڑا فرق ہے۔
وہاں بیٹھنے والوں نے ان کے کفر پر بحث کی تھی، کتابیں پیش کی تھیں، مسائل کھلے تھے اور دشمن کو نیچا ہونا پڑا تھا، ذلیل ہونا پڑا تھا، وہاں سامنے نہ آنا، سامنے نہ بیٹھنا وہ ذلت تھی اور یہاں ساتھ بیٹھنا ذلت ہے۔
اگر عدالت میں سپاہِ صحابہؓ کی قیادت نہ ہوتی تو دلائل کون دیتا؟ اگر سپاہِ صحابہؓ کی قیادت نہ ہوتی تو ان کو ملی یکجہتی کونسل اور علماء بورڈ میں ذلیل کون کرتا؟ وہاں ان کی حقیقت کون کھولتا؟
*شیعہ کے ساتھ اتحاد کرنے والوں کی خدمت میں عرض اور گزارش*
اگر گستاخانِ رسولﷺ کے خلاف تحریک چلانے کے لیے اتحاد ضروری ہے تو پھر آسیہ مسیح کے خلاف جلوس نکالنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ شیعہ خود قادیانیوں سلمان رشدی اور آسیہ ملعون سے ہی زیادہ سخت گستاخ ہیں کیا گستاخانِ رسولﷺ کو ساتھ ملا کر گستاخانِ رسولﷺ کے خلاف تحریک چلانا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بدترین مذاق نہیں ہے۔
شیعہ کے کفر کی وجوہات میں سے جہاں تحریفِ قرآن اور تکفیرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہے تو وہاں ایک بڑی وجہ انکا عقیدہ امامت بھی ہے جو ختمِ نبوت کی نفی کرتا ہے۔
چنانچہ شیعہ قادیانیوں کی طرح لفظی طور پر ختمِ نبوت کے قائل ہیں اور حضورﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں لیکن انہوں نے نبوتِ محمدیہﷺ کے مقابلے میں ایک متوازی نظام عقیدہ امامت کے نام سے وضع کر لیا ہے ان کے نزدیک امامت کا وہی تصور ہے جو نبوت کا ہے۔
سپاہِ صحابہؓ کا نظریہ یہ ہے کہ غلبہِ اسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمنوں کے عقیدہ بداء، عقیدہ تحریفِ قرآن اور عقیدہ تکفیرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں ممکن ہی نہیں ایسے عقائد جن کا کفر واضح اور کھلا ہے ان کو اسلام قرار دے کر اور اسلامی تحریکوں میں ساتھ لے کر آپ اسلام کا غلبہ کیونکر کر سکتے ہیں؟ غلبہ اسلام کے لیے ہمیں تمام رکاوٹوں کو دور کر کے آگے بڑھنا ہے۔