فسادی حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی مجلس میں فساد مچاتے ہیں
علی محمد الصلابی33ھ میں ایک دن حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ اپنی عام مجلس میں تشریف فرما تھے، اور آ پ کے پاس لوگ موجود تھے، آپس میں گفتگو چل رہی تھی، بعض سبائی خوارج بھی وہاں مجلس میں پہنچ گئے اور وہاں فتنہ کی آگ بھڑکانا چاہی۔
حضرت سعید بن العاصؓ اور خنیس بن حبش اسدی کے درمیان گفتگو چل رہی تھی، کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا۔ وہاں فسادی خارجیوں کے ساتھ ان کے ہم نوا افراد موجود تھے، جن میں سے جندب الازدی جس کا چور بیٹا ایک معاملہ میں قتل ہوا تھا، اشترنخعی، ابن الکواء اور صعصعہ بن صوحان تھے۔ ان کو ان فسادیوں نے غنیمت سمجھا اور خنیس اسدی کی اسی محفل میں پٹائی شروع کر دی، اور جب اس کا باپ اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے بڑھا تو اس کی بھی پٹائی کر دی، یہاں تک کہ باپ بیٹا دونوں بیہوش ہو گئے۔ اس خبر کو سن کر بنو اسد کے لوگ اپنے لوگوں کا بدلہ لینے پہنچے، قریب تھا کہ فریقین میں جنگ چھڑ جائے لیکن حضرت سعید بن العاصؓ صورت حال کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ (تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 323)
حضرت عثمان غنیؓ کو جب اس حادثہ کی اطلاع ملی تو آپ نے حضرت سعید بن العاصؓ کو حکم دیا کہ اس معاملہ کو حکمت سے نمٹانے کی کوشش کریں اور فسادیوں کا ناطقہ حتیٰ الوسع بند کر دیں۔
جب یہ خوارج اپنے گھروں کو لوٹے تو حضرت سعیدؓ، عثمانؓ، اہل کوفہ اور ان کے شرفاء کے خلاف افتراء اور افواہیں پھیلانی شروع کر دیں۔ کوفہ والے ان سے تنگ آ گئے اور حضرت سعیدؓ سے مطالبہ کیا کہ ان کو سزا دی جائے، انہوں نے کہا: حضرت عثمان غنیؓ نے مجھے اس سے منع کیا ہے اگر آپ حضرات یہ چاہتے ہیں تو حضرت عثمانؓ کو لکھیں۔ کوفہ کے شرفاء اور صالحین نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو ان لوگوں کے بارے میں لکھا، اور ان سے مطالبہ کیا کہ ان فسادیوں کو کوفہ سے نکال باہر کیا جائے کیوں کہ یہ فسادی اور تخریب کار ہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے ان کے اس مطالبہ پر سیدنا سعید بن العاصؓ کو لکھا کہ انہیں کوفہ سے جلا وطن کر دو۔ یہ کل تیرہ افراد تھے۔ حضرت سعید بن العاصؓ نے انہیں حضرت عثمان غنیؓ کے حکم کے مطابق شام کی طرف حضرت معاویہؓ کے پاس بھیج دیا، اور حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے متعلق سیدنا امیرِ معاویہؓ کو خط تحریر کیا کہ کوفہ والوں نے کچھ لوگوں کو تمہارے پاس بھیجا ہے جنھوں نے وہاں فتنہ برپا کیا تھا، لہٰذا تم انہیں خوف دلاؤ، ڈراؤ اور ان کی تادیب کرو، اور اگر ان سے خیر محسوس کرو تو اسے ان سے قبول کرو۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 324)
واضح رہے کہ جن حضرات کو شام کی طرف جلا وطن کیا گیا تھا ان میں یہ لوگ تھے:
اشترنخعی، جندب ازدی، صعصعہ بن صوحان، کمیل بن زیاد، عمیر بن ضابی، ابن الکواء۔ (الخلفاء الراشدون: صفحہ 131)