Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فسادی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جلا وطنی گزارتے ہیں

  علی محمد الصلابی

یہ لوگ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ نے انہیں ایک کنیسہ میں رکھا، جس کا نام کنیسہ مریم تھا۔ جو کچھ عراق میں ان کو ملتا تھا، یہاں بھی وہ انہیں ملتا رہا، حضرت معاویہؓ صبح و شام کا کھانا ان کے ساتھ کھاتے رہے، ایک دن آپ نے ان سے کہا: تم عرب ہو اور تمہارے پاس دانت اور زبان ہے۔ اسلام کے ذریعہ سے تمھیں شرف و منزلت ملی ہے۔ دوسری اقوام پر غلبہ حاصل ہوا، اور ان کا مرتبہ اور میراث تمھیں ملی ہے۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم قریش کو ناپسند کرتے ہو، اگر قریش نہ ہوتے تو تم اسی طرح ذلیل ہوتے جیسا تم پہلے ذلیل تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 324)

حضرت عثمان غنیؓ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت معاویہؓ نہ حل ہونے والے مشکل امور کو سلجھانے والے ہیں۔ آپ فصیح و بلیغ تھے، آپ انتہائی حلم و بردباری اور صبر کے مالک تھے، ذکاوت، ہوشیاری اور چالاکی اور سیاسی بصیرت آپ کو حاصل تھی، جس سے فتنوں کا مقابلہ کر سکتے تھے، اور یہی وجہ تھی کہ جب کوئی مشکل قضیہ پیش آتا تو اسے ابن ابی سفیان کے حوالہ کر دیتے تاکہ وہ اس کو حل کریں، چنانچہ سیدنا معاویہؓ نے ان حضرات کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی۔ اولاً ان کی تکریم کی، ان کے ساتھ ملے بیٹھے، اور ان پر حکم لگانے سے قبل ان کے سرائر کو پہنچے اور جب اجنبیت دور ہو گئی اور تکلف ختم ہو گیا تو سیدنا معاویہؓ نے یہ محسوس کیا کہ قبائلی عصبیت ان کو حرکت دے رہی ہے اور حکومت و سلطنت کی شہوت ان کو بھڑکاتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ انہیں دو طرح سے لگام دی جائے:

  • عرب کے عزو شرف میں اسلام کا اثر۔
  • اسلام کی نشر و اشاعت میں قریش کا کردار۔

اگر ان کی ذہنی ساخت میں اسلام کا اثر رہا ہو تو پھر انہیں اس گفتگو کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس کے بعد سیدنا معاویہؓ نے ان کے سامنے عرب کی صورتِ حال رکھی کہ کس طرح وہ اسلام کی بدولت ایک امت قرار پائے، جو ایک امام کے تابع ہیں اور کس طرح وہ لوگ لاقانونیت، خونریزی اور بدبودار قبائلی عصبیت کو ترک کر چکے ہیں۔

(معاویۃ بن ابی سفیان: منیر الغضبان: صفحہ 101)

سیدنا امیر معاویہؓ نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

’’تمہارے ائمہ آج تک تمہارے لیے ڈھال ہیں لہٰذا تم اپنی ڈھال سے انحراف اختیار نہ کرو، تمہارے ائمہ آج تمہارے لیے ظلم پر صبر کرتے ہیں اور تم سے مشقت برداشت کرتے ہیں، اللہ کی قسم یا تو تم اپنی حرکت سے باز آؤ گے یا پھر اللہ تعالیٰ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کرے گا جو تمھیں عذاب میں مبتلا کریں گے، اور تم صبر نہ کر سکو گے پھر اپنی زندگی اور اپنی موت کے بعد تمہاری وجہ سے رعیت پر آنے والی مصیبت کے جرم میں تم شریک رہو گے۔‘‘

ان میں سے ایک شخص نے کہا:

’’آپ نے جو قریش سے متعلق بات کی تو اس کے تعلق سے عرض ہے کہ نہ تو عربوں میں ان کی اکثریت ہے، اور نہ جاہلیت میں وہ زیادہ طاقت ور رہے ہیں کہ آپ ہمیں ان کا خوف دلا رہے ہیں، اور جو آپ نے ڈھال سے متعلق ذکر کیا ہے تو ڈھال جب ٹوٹ جائے گی تو پھر ہمارے لیے خاص ہو جائے گی۔‘‘

یہ سن کر حضرت معاویہؓ نے فرمایا:

’’اب میں تمھیں پہچان گیا، اور میں جان گیا کہ کسی کم عقل نے تمھیں اس پر ابھارا ہے۔ تم اپنی جماعت کے خطیب ہو لیکن تمھیں عقل نہیں، میں تمہارے سامنے اسلام کی عظمت کو پیش کرتا ہوں اور اسے یاد دلاتا ہوں اور تم جاہلیت کا مجھ سے ذکر کرتے ہو؟ میں نے تم کو نصیحت کی اور تم یہ زعم رکھتے ہو کہ وہ ڈھال جو تمہاری حفاظت کرتی ہے وہ ٹوٹ جائے گی اور جو ٹوٹ جائے وہ ڈھال نہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں رسوا کرے جنھوں نے تمہارے معاملہ کو بڑا تصور کیا، تمہاری خلیفہ تک بات پہنچائی۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 324)

اس گفتگو سے سیدنا معاویہؓ کو معلوم ہو گیا کہ معمولی اشارے سے یہ لوگ مطمئن نہیں ہو سکتے لہٰذا ضروری ہے کہ ان کے سامنے قریش کی حقیقت تفصیل سے بیان کی جائے۔ فرمایا:

’’سمجھ لو اور مجھے امید نہیں کہ تم سمجھتے ہو، قریش کو جاہلیت اور اسلام میں صرف اللہ رب العزت نے عزت بخشی، دوسرے عربوں کے مقابلہ میں نہ تو ان کی تعداد زیادہ تھی اور نہ ان کے مقابلہ میں وہ زیادہ طاقت ور تھے، لیکن حسب میں سب سے مکرم اور نسب میں سب سے خالص، شان و شوکت میں سب سے عظیم ترین اور مروت میں کامل ترین تھے۔ جاہلیت میں جب کہ لوگ ایک دوسرے کو کھائے جا رہے تھے، صرف اللہ ہی نے ان کی حفاظت فرمائی، جس کو وہ عزت عطا کرے اسے ذلیل نہیں کیا جا سکتا اور جس کو وہ بلند کرے اسے کوئی نیچا نہیں کر سکتا، کیا تم کسی ایسے عرب یا عجم کو کالے یا گورے کو جانتے ہو جس پر اس کے ملک میں مصیبت نہ ٹوٹی ہو، اور اسے اس کے ملک سے بےدخل نہ کر دیا گیا ہو؟ لیکن صرف قریش کو یہ مقام حاصل رہا ہے، کہ جس نے بھی ان کے ساتھ چال کرنا چاہی اللہ نے اس کو ذلیل کیا، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کی ذلت اور آخرت کے برے انجام سے بچانا چاہا تو ان کے لیے خیر خلق محمدﷺ کو چن لیا، اور ان کے لیے صحابہ کرامؓ کو چنا، ان میں بہتر قریش رہے، پھر اس سلطنت کو ان پر قائم کیا، اور اس خلافت کو ان میں رکھی، اور یہ انہی کے ذریعہ سے قائم رہ سکتی ہے اور اللہ ان کی حفاظت اس وقت تک کرتا رہے گا جب تک وہ اس کے دین پر قائم رہیں گے۔ اور اللہ نے ان کی حفاظت جاہلیت میں ان بادشاہوں سے کی جو تمھیں ذلیل کرتے تھے۔ تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر آفت ہے۔ کاش تمہارے سوا کسی اور نے بات کی ہوتی، لیکن تم نے شروع کر دی۔ اے صعصعہ! تمہاری بستی بدترین عربی بستی ہے، اس کے پودے انتہائی بدبودار، اس کی وادیاں انتہائی گہری، اور سب سے زیادہ شرپسند، اس کے پڑوسی سب سے زیادہ کمینے۔ اس میں کبھی کوئی شریف یا رذیل آباد نہ ہوا مگر اسے برا بھلا کہا گیا، اس پر عیب لگے، عرب میں سب سے بدترین لقب والے، سب سے کمینہ رشتہ والے اور اقوام کے اجنبی قرار پائے، تم فارسیوں کے نوکر چاکر تھے، یہاں تک کہ تمھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی، لیکن افسوس تو اس دعوت سے محروم رہا، تو عمان میں اجنبیت کی زندگی گزارتا رہا، بحرین میں سکونت اختیار نہ کر سکا کہ تجھے نبی کریمﷺ کی دعوت کا شرف حاصل ہو جائے، تو اپنی قوم کا بدترین شخص تھا، یہاں تک کہ جب اسلام نے تجھے نمایاں کیا اور لوگوں کے ساتھ تجھے ملایا اور ان اقوام پر تجھے غلبہ دیا جو تم پر غالب تھیں اب تو اللہ کے دین میں کجی پیدا کرنا چاہتا ہے اور ذلت و ملامت کی طرف جا رہا ہے، تمہاری اس حرکت سے قریش کا کچھ بگڑنے والا نہیں، اس سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا، یہ انہیں ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے روک نہیں سکتا۔ شیطان تم سے غافل نہیں، اس نے شر کے ساتھ تمہاری قوم کے درمیان تمھیں پہچان لیا ہے، تمہارے ذریعہ سے لوگوں کو دھوکا دیا، وہ تمھیں پچھاڑ کے رہے گا، وہ خوب جانتا ہے کہ وہ تمہارے ذریعہ سے اللہ کی قضا و قدر کو پھیر نہیں سکتا، اور اللہ کو اس کے ارادہ سے باز نہیں رکھ سکتا اور تم شر کے ذریعہ سے کسی امر کو حاصل نہیں کرو گے مگر اللہ اس سے زیادہ شر اور رسوائی تمہارے اوپر مسلط کر دے گا۔‘‘

پھر آپ کھڑے ہوئے اور انہیں چھوڑ کر چلے گئے وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور ان کے دل چھوٹے ہو گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 326)

اس طرح سیدنا معاویہؓ نے اپنی پوری فکری، سیاسی اور ثقافتی صلاحیت ان کو مطمئن کرنے کے لیے صرف کر دی۔ 

  • جاہلیت اور اسلام میں قریش کی صورت حال کو بیان کیا۔
  •  ان لوگوں کے قبائل کو موضوع بحث بنایا، اور جاہلیت میں ان قبائل کی صورتِ حال کو بیان کیا۔ محل وقوع پسندیدہ نہ تھا، آب وہوا اچھی نہ تھی، بدبو سے بھرا ہوا علاقہ تھا، قدرتی طور سے یہ صورت حال تھی اور پھر سیاسی طور سے فارس کی اتباع اور ذلت تھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ سے انہیں شرف بخشا، اور ذلت کے بعد عزت عطا فرمائی اور پستی کے بعد ترقی ملی۔
  • پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے صعصعہ بن صوحان کو لیا، جو پارٹی کا خطیب تھا، اور بتلایا کہ کس طرح وہ دعوتِ رسالت قبول کرنے سے گریز کرتا رہا، اور کس طرح اس کی قوم اسلام میں داخل ہوئی۔ پھر یہ لوٹا اور اسلام میں داخل ہوا اور اسلام نے اسے پستی کے بعد رفعت عطا کی۔
  • حضرت معاویہؓ نے صعصعہ اور اس کے ساتھیوں کے عزائم اور منصوبوں کا پردہ فاش کیا، اور بتلایا کہ کس طرح وہ فتنہ و فساد برپا کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کے دین میں کجی لانا چاہتے ہیں۔
  •  یقیناً شیطان اس فتنہ کا گھونسلا ہے اور وہی اس برائی کا محرک ہے۔ اس طرح سیدنا معاویہؓ نے امت کی تاریخ کو اولاً اللہ سے پھر اسلام اور عقیدہ سے جوڑا، اور پھر ان لوگوں کی جعل سازی کا پردہ چاک کیا۔ انہیں بے نقاب کیا، اور ان کے عزائم اور منصوبوں کو ظاہر کیا، اور جاہلیت سے ان کے تعلق کو واشگاف کیا۔

(معاویۃ بن ابی سفیان: الغضبان: صفحہ 111)