Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت امیر شریعت رحمۃاللہ کا شیعوں کے ساتھ اتحاد کے نظریہ سے رجوع


مولانا ارشاد احمد دیوبندی دامت برکاتہم العالیہ حضرت امیرِ شریعتؒ کے سفر و حضر کے ساتھی ہیں، پنجاب اور سندھ کی اکثر جیلیں حضرت امیرِ شریعتؒ کے ساتھ کاٹیں اور مجلسِ احرارِ اسلام میں حضرت امیرِ شریعتؒ کے ساتھ تحریکِ ختمِ نبوت میں بھر پورا کردار ادا کیا۔

مولانا ارشاد احمد صاحب ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں مجلسِ احرارِ اسلام کا بڑا کردار ہے ختمِ نبوتﷺ کی تحریک میں اس جماعت نے ہمیشہ ہر اوّل دستے کا ثبوت پیش کیا ہے، اگرچہ یہ تحریک بظاہر ناکام ہو گئی تھی لیکن حو صلے نہیں ٹوٹے تھے۔

حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ نے سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ کے پاس پیغام بھیجا کہ شاہ جی! میں نے استخارہ کیا ہے کہ تحریک کی ناکامی کی وجہ شیعوں کے ساتھ اتحاد ہے وگرنہ تاریخ گواہ ہے کہ کبھی مجلسِ احرارِ اسلام کی کوئی تحریک نا کام نہیں ہوئی۔

شاہ جی نے پیغام لانے والے قاصد سے فرمایا کہ میرا سلام کہنا اور حضرت صاحب کو میری طرف سے عرض کرنا کہ میں نے ہر مسلمان کے دل میں ایٹم بم رکھ دیا ہے وقت آنے پر یہ پھٹ جائے گا اور مرزائیت اپنی موت آپ مر جائے گی باقی شیعہ کے ساتھ اتحاد تو اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ میں خنزیر کا شکار کرنے نکلا تو جاتے ہوئے کتوں کو بھی ساتھ لے گیا، اس ساری گفتگو کے دوران میں امیرِ شریعتؒ کے ساتھ موجود رہا، میں نے عرض کیا کہ شاہ جی! آپ کتے اور خنزیر کا تعین نہیں کر سکے آپ نے مرزائیوں کو خنزیر کہا ہے اور شیعوں کو کتا، حالانکہ ایسی بات نہیں ہے، شیعہ تو مرازئیوں سے بڑا کافر ہے، مرزائی ختمِ نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہے اور وہ حضورِ اکرمﷺ کے بعد ایک کو نبی مانتا ہے، وہ آپ کی نظر میں اتنا بڑا کافر ہے کہ آپ اُسے خنزیر کہتے ہیں اور شیعہ، نبی کریمﷺ کے بعد بارہ ائمہ کو معصوم اور مفترض الطاعۃ مانتا ہے وہ آپ کی نظر میں مرزائی کے مقابلے میں چھوٹا کافر ہے؟ قادیانی، ایک کو نبی مان کر بڑا کافر اور شیعہ بارہ (12) کو مان کر چھوٹا کافر کیوں؟ میری اس بات کو سننے کے بعد حضرت نے مجھے حکماً فرمایا کہ "چوکہرا" میں جا کر مناظرِ اسلام سید احمد شاہ صاحب کے ہاں شیعیت پر مناظرہ پڑھوں اور مستقبل میں اس فتنہ کے خلاف کام کرنا ہے۔

حضرت مولانا ارشاد صاحب کی گفتگو سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت امیرِ شریعتؒ کتنی عظیم شخصیت کے مالک تھے کہ حق بات کے واضح ہونے پر اس کے قبول کرنے میں ذرا بھر بھی تامل نہیں کیا فوراً اپنے مؤقف سے رجوع کرتے ہوئے مولانا ارشاد صاحب کو حکم دے دیا کہ آپ نے شیعیت کے خلاف کام کرنا ہے۔

نیز اس گفتگو سے اُن احباب کو بھی سبق حاصل کر لینا چاہیئے کہ جو اپنے آپ کو سیاستِ مدنی کے ترجمان کہتے نہیں تھکتے، حضرت مدنیؒ کی سوچ تو یہ ہے کہ مجلسِ احرارِ اسلام کی 1953ء میں ناکامی کا سب سے بڑا سبب شیعوں کے ساتھ اتحاد ہے آج سیاستِ مدنی کے نام نہاد ترجمان کسی حیثیت سے شیعوں کے ساتھ اتحاد کر کے قرآن و سنت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں؟