دوسری بیٹھک
علی محمد الصلابیدوسرے دن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور طویل گفتگو کی۔ فرمایا: لوگو! مجھے اچھا جواب دو ورنہ خاموش رہو، غور و فکر کرو اور سوچو اس سلسلہ میں جو تمھیں اور تمہارے اہل، تمہارے خاندان اور قبیلہ اور مسلمانوں کی جماعت کے لیے نفع بخش ہو پھر اسے طلب کرو، تم زندہ رہو اور تمہارے ساتھ ہم بھی زندہ رہیں۔
صعصعہ نے کہا: تم اس کے اہل نہیں، تمہارے لیے کوئی تعظیم نہیں کہ تمہاری اطاعت اللہ کی معصیت میں کی جائے۔ سیدنا امیر معاویہؓ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے ساتھ گفتگو کے آغاز میں تمھیں اللہ سے تقویٰ، اس کی اطاعت اور نبی کریمﷺ کی اتباع اور اس بات کا حکم نہیں دیا کہ اللہ کی رسی مل کر مضبوطی سے تھام لو اور اختلاف نہ کرو ۔
انہوں نے کہا: تم نے تو اختلاف اور نبی کریمﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی مخالفت کا حکم دیا ہے۔حضرت امیر معاویہؓ نے فرمایا: میں تم کو اب حکم دیتا ہوں کہ اگر میں نے ایسا کہا ہے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو تو میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں، اور تمھیں اللہ سے تقویٰ کو اختیار کرنے، اس کی اطاعت اور نبی کریمﷺ کی اتباع اور جماعت کو لازم پکڑنے اور اختلاف و افتراق کو ناپسند کرنے کا حکم دیتا ہوں، اور اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم اپنے حکمرانوں کی توقیر کرو، ہر چیز پر اپنی طاقت بھر ان کی رہنمائی کرو، اور اگر ان سے کوئی چیز صادر ہو تو نرمی و لطف کے ساتھ ان کو نصیحت کرو۔
صعصعہ نے کہا: ہم تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے اس منصب کو چھوڑ دو کیوں کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ ہیں جو اس منصب کے تم سے زیادہ مستحق ہیں۔
حضرت معاویہؓ نے کہا: وہ کون ہے؟
ان لوگوں نے کہا: وہ جس کا باپ تمہارے باپ سے پہلے مسلمان ہوا اور وہ خود تم سے پہلے اسلام لایا۔
حضرت معاویہؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں قدیم الاسلام ہوں، اور میرے علاوہ، مجھ سے پہلے اسلام لانے والے ہیں، لیکن میرے دور میں اس کام کے لیے مجھے جو قوت حاصل ہے کسی اور کو نہیں۔ سیدنا عمر بن خطابؓ نے اس کو محسوس کیا، اگر مجھ سے کوئی قوی تر ہوتا تو دوسرے کو چھوڑ کر میری طرف حضرت عمر فاروقؓ کا میلان نہ ہوتا۔ اور میں نے کوئی بدعت نہیں کی ہے کہ میں اپنے اس منصب سے معزول ہو جاؤں۔ اور اگر امیر المؤمنین اور مسلمانوں کی جماعت اس کو مناسب سمجھے گی نیز امیر المؤمنین مجھے لکھیں گے تو میں اپنے منصب سے الگ ہو جاؤں گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہوا کہ وہ ایسا کریں تو مجھے امید ہے کہ امیر المؤمنین جو قدم اٹھائیں گے وہ بہتر ہو گا۔ ٹھہرو اس میں اور اس طرح کے معاملہ میں، یہ وہ چیز ہے جس کی شیطان تمنا کرتا ہے اور حکم دیتا ہے۔ اللہ کی قسم اگر تمہاری رائے اور خواہش کے مطابق معاملات کے فیصلے ہوتے تو مسلمانوں کا معاملہ ایک شب و روز بھی نہ چل سکتا، لیکن فیصلے اللہ کرتا ہے اور وہی اس کی تدبیر کرتا ہے، اور اللہ اپنے امر کو پہنچنے والا ہے، خیر کے عادی بنو اور خیر ہی کہو۔انہوں نے کہا: تم اس کے اہل نہیں ہو۔
حضرت معاویہؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ پکڑتا ہے اور سزائیں دیتا ہے۔ مجھے تم پر خطرہ ہے کہ تم شیطان کی اتباع میں لگ جاؤ یہاں تک کہ شیطان کی اتباع اور رحمٰن کی معصیت تم کو اللہ کے عذاب میں ڈال دے اور آخرت میں دائمی ذلت و ناکامی حاصل ہو۔
اس پر وہ لوگ سیدنا معاویہؓ کے اوپر کود پڑے اور آپ کی داڑھی اور سر کو پکڑ لیا۔
حضرت امیر معاویہؓ نے کہا: ٹھہرو! یہ کوفہ کی سرزمین نہیں ہے اگر شامیوں نے تمہاری اس حرکت کو دیکھ لیا تو میں، ان کے سامنے ہوتے ہوئے بھی تمھیں قتل کرنے سے انہیں روک نہیں سکتا۔ اللہ کی قسم تمہاری حرکت ایک دوسرے سے مشابہ ہے۔
پھر آپ وہاں سے اٹھے اور یہ فرماتے ہوئے چلے گئے: اب کبھی میں تمہارے پاس نہیں آؤں گا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 330، 331)
یہ آخری کوشش تھی، جس میں سیدنا امیر شام معاویہؓ نے اپنی پوری طاقت لگا دی، اور اپنے حلم و بردباری، ثقافت و اعصاب کو، فتنہ روکنے کے لیے استعمال کیا۔ حضرت معاویہؓ انہیں اللہ سے تقویٰ و اطاعت، جماعت کو لازم پکڑنے اور اختلاف و افتراق سے دور رہنے کی دعوت دیتے ہیں، اور وہ اپنی آواز بلند کرتے ہوئے کہتے ہیں: تمہارا یہ حق نہیں کہ اللہ کی معصیت میں تمہاری اطاعت کی جائے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 330)
تاہم آپ عظیم حلم اور وسیع صدر کے ساتھ دوبارہ ان کو نصیحت کرتے ہیں، وہ انہیں اللہ کی اطاعت ہی کا حکم دیتے ہیں، اور اگر ان کے زعم کے مطابق وہ معصیت ہے تو اللہ تعالیٰ معصیت سے توبہ کو قبول کرتا ہے۔
پھر آپ ان کو اطاعت و جماعت اور امت میں اختلاف ڈالنے سے دور رہنے کی دعوت دیتے ہیں، اگر ان کے ساتھ وعظ و نصیحت مفید ہوتی تو آپ کے اس طرز تعامل اور لطف و حلم سے ان کے دل ضرور متاثر ہوتے، لیکن انہوں نے اس کو آپ کی کمزوری اور ضعف تصور کیا۔ اور خاص کر جب آپ نے انہیں یہ نصیحت کی کہ وہ وعظ و نصیحت میں نرم اور پر سکون اسلوب اختیار کریں تو اس پر انہوں نے میدان کشادہ محسوس کیا کہ اپنے پوشیدہ عزائم کو ظاہر کریں، پس کہا: ہم تم کو یہ حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے اس منصب سے معزول ہو جاؤ، مسلمانوں میں وہ لوگ ہیں جو اس منصب کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔ حضرت معاویہؓ اچانک ان کے پوشیدہ عزائم کی طرف متوجہ ہوئے، اور اس پوشیدہ پہلو کو جاننا چاہا کہ شاید اس معرفت سے اس بات کا سراغ لگ جائے کہ انہیں کون حرکت دے رہا ہے اور ان کے ذہنوں میں تباہ کن خود غرضانہ افکار و اکاذیب کون بھر رہا ہے۔ لیکن انہوں نے اپنے عزائم کو چھپائے رکھا اور اشارہ پر اکتفا کیا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ اپنا منصب اس کے لیے چھوڑ دیں جو ان سے افضل ہے، اور اس کے لیے جس کا باپ ان کے باپ سے افضل ہے۔ پھر حضرت معاویہؓ نے بہت کچھ برداشت کیا اس سنگین اسلوب کے باوجود جو انہوں نے حضرت معاویہؓ کے ساتھ اختیار کیا۔ وہ آپ سے اپنا منصب چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ حکومت و امارت اور قیادت سے متعلق اپنے موقف کے سلسلہ میں تفصیلی جواب دیتے ہیں۔
حضرت معاویہؓ کا یہ جواب چھ اساسی اور اہم نکات پر مشتمل رہا:
1: اسلام میں انہیں قدامت و سبقت حاصل ہے، اور وہ شامی حدود کے محافظ اپنے بھائی یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے بعد سے رہے ہیں۔
2: مسلمانوں میں ایسے لوگ ہیں جو آپ سے افضل ہیں، شرف و منزلت میں آگے ہیں اور سبقت و قدامت اور اسلامی خدمات پیش کرنے میں اچھا ریکارڈ رکھتے ہیں، لیکن حضرت معاویہؓ اپنے آپ کو شام کی عظیم اسلامی حدود کی حفاظت کے لیے زیادہ قوی اور موزوں سمجھتے ہیں، چنانچہ جب سے وہ اس عہدہ پر فائز ہوئے اس کے انتظام و انصرام کو پوری قوت کے ساتھ بڑی اچھی طرح سنبھالا اور لوگوں کی نفسیات کو سمجھا یہاں تک کہ لوگوں نے حضرت معاویہؓ کو اپنا محبوب بنا لیا۔
3: سیدنا عمر بن خطابؓ نے گورنروں اور افسران سے متعلق انتہائی حساس میزان اور کافی دقیق معیار قائم کر رکھا تھا، آپ کو اللہ کے حق کے لیے کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ ہوتی تھی۔ اگر حضرت عمر فاروقؓ حضرت معاویہؓ کے اندر کوئی انحراف یا کوتاہی و کمزوری پاتے تو معزول کر دیتے، ایک دن بھی اس منصب پر باقی نہ رکھتے۔ لیکن حضرت معاویہؓ نے ان کے پورے دور خلافت میں کام کیا اور رسول اللہﷺ نے بھی بعض اعمال پر حضرت معاویہؓ کو مقرر کیا، اور اپنا کاتب رکھا، پھر رسول اللہﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت معاویہؓ کو ولایت سونپی اور آپ کی صلاحیت و قابلیت پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی۔
4: عمل سے معزولی کے لیے ایسے اسباب کا پایا جانا ضروری ہے جو معزولی کا موجب ہوں، ان داعیان فتنہ و فساد کے پاس کیا حجت و دلیل تھی جس کی بنیاد پر معزولی اختیار کی جاتی؟
5: امارت کے اندر معزول کرنے اور کسی کو باقی رکھنے کا اختیار ان مدعیان کو نہیں بلکہ یہ امیر المؤمنین عثمانؓ کا حق ہے، پس کسی کی تقرری اور معزولی آپ کا حق ہے۔
6: جس دن امیر المؤمنین عثمانؓ انھیں معزول کرنے کا فیصلہ کریں گے معاویہ کو پورا یقین ہے کہ ان کا حکم خیر ہی ہو گا اس پر کوئی کلام نہیں کیوں کہ یہ مامور امیر ہیں اور وہ خلیفۃ المسلمین ہیں۔
(معاویۃ بن ابی سفیان صحابی کبیر و ملک مجاہد: صفحہ 114ـ117)
اب بیٹھک کا اختتام انتہائی افسوس کن اور المناک رہا، حضرت معاویہؓ نے انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور شیطانی گڑھوں اور پھسلنے کے مقامات سے آگاہ کیا، اور امیر کی نافرمانی اور اختلاف سے روکا، اور خواہشاتِ نفس کی پیروی اور غرور سے منع کیا۔ اس نصیحت و خیر خواہی کے جواب میں انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟ ان پر ٹوٹ پڑے اور داڑھی و سر پکڑ لیا۔ اس وقت آپ نے ان کو ڈانٹا اور ان سے تہدید آمیز سخت بات کی۔ آپ سمجھ گئے کہ ان لوگوں کا حق کو قبول کرنا محال ہے، لہٰذا ان کے سلسلہ میں امیر المؤمنین عثمانؓ کو مطلع کرنا اور ان کی حقیقت اور خطرات کو واضح کرنا ضروری تھا تاکہ امیر المؤمنین ان سے متعلق دوسری رائے قائم کریں۔
(معاویۃ بن ابی سفیان: الغضبان: صفحہ 117۔118)