Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کوفہ کے فسادیوں سے متعلق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے نام

  علی محمد الصلابی

حضرت امیرِ معاویہؓ نے امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو خط تحریر کرتے ہوئے فرمایا:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم 

اللہ کے بندے عثمان امیر المؤمنین کے نام معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے۔ حمد و صلاۃ کے بعد: امیر المؤمنین آپ نے میرے پاس ایسے لوگوں کو بھیجا ہے جو شیطانوں کی زبان اور ان کی املا سے بات کرتے ہیں، یہ لوگوں پر اپنے زعم کے مطابق قرآن کے راستہ سے داخل ہوتے ہیں، اور لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اور سب لوگ ان کے عزائم سے واقف نہیں۔ یہ امت میں افتراق ڈالنا چاہتے ہیں اور فتنہ کو قریب کر رہے ہیں۔ اسلام ان پر گراں گزر رہا ہے، شیطان کا جادو ان کے دلوں میں گھر کر چکا ہے، اور کوفہ کے جو لوگ ان کے ساتھ رہتے تھے ان میں بہت سے لوگوں کو برباد کر چکے ہیں، مجھے خطرہ ہے کہ یہ لوگ شام والوں کے درمیان سکونت پذیر رہے تو انہیں اپنے جادو اور فسق و فجور سے برباد کر دیں گے، لہٰذا آپ انہیں ان کے شہر کو لوٹا دیں، ان کا گھر ان کے شہر میں ہی رہے جہاں ان کا نفاق طلوع ہوا ہے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 331)