محترمہ حافظہ مصباح ضیاء کا فرمان
میں نہایت معذرت کے ساتھ عرض کروں گی! اے متحدہ مجلس عمل کے ممبران اسمبلی! کیا یہ جراتوں کا عظیم بادشاہ، اعظم طارق شہیدؒ آپ کا ساتھی نہیں تھا؟ آپ نے نام نہاد اتحاد کی خاطر اتنے عظیم انسان کی قربانی کو معمولی جانا، اور آج تک اسمبلی میں ایک بھی احتجاجی تحریک پیش نہ کی اور کوئی احتجاج نہ کیا صبح اس عظیم انسان کے جنازہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے رکھا گیا اور نماز جنازہ ادا کی گئی اختلافات اپنی جگہ، اتحاد و یکجہتی کا درس دینے والے محراب و ممبر پر دینِ اسلام کے فروغ کو بیان کرنے والے، اپنے آپ کو مفتی محمود صاحبؒ کے جانشین کہنے والے علماء پارلیمنٹ لاجز میں موجود ہونے کے باوجود نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہوئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گستاخانِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ بیٹھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس مقدس اور پاکیزہ جنازہ میں شرکت کرنے کی قوت چھین کر ان کو اس عظیم اجر سے محروم کر دیا۔
(اعظم طارق شہيدؒ: صفحہ، 527)