Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ابن سبا تحریک کے لیے 34ھ کو مقرر کرتا ہے

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے گیارھویں سال 34ھ میں عبداللہ بن سبا یہودی نے اپنا منصوبہ مکمل کر لیا، اور سازش کا خاکہ تیار کر لیا اور خلیفہ اور گورنروں کے خلاف خروج کو اپنی سبائی جماعت کے ساتھ مرتب کر لیا۔

ابن سبا نے سازشی مرکز مصر سے بصرہ و کوفہ اور مدینہ میں اپنی پارٹی کے شیطانوں سے اتصال کیا، اور ان کے ساتھ خروج کی تفصیلات سے متفق ہوا، ان لوگوں کی آپس میں خط و کتابت ہوئی۔ اس خط و کتابت میں کوفہ کے سبائی بھی شریک رہے یہ کل تیرہ افراد تھے، انہی میں سے وہ حضرات تھے جو شام کی طرف اور پھر الجزیرہ میں عبدالرحمٰن بن خالد رضی اللہ عنہما کی طرف جلا وطن کیے گئے تھے۔ کوفہ میں سبائیوں کا لیڈر یزید بن قیس تھا۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 135)

34ھ میں کوفہ معززین قوم اور اشراف سے خالی ہو گیا تھا کیوں کہ یہ لوگ جہاد میں نکل چکے تھے۔ صرف وہی رذیل اور فسادی لوگ بچے تھے جن پر سبائی اپنا اثر ڈال چکے تھے اور اپنے گندے افکار ان کے اندر بھر چکے تھے، اور انھیں حضرت عثمان غنیؓ اور کوفہ کے گورنر سعید بن العاصؓ کے خلاف بھڑکا رکھا تھا۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 135)